جدید سرمایہ دارانہ نظام میں گروہ بندی اور قومیت لازم و ملزوم ہیں۔ انسانیت اور آدمیت ناپید ہوچکیں۔ محبت اور انس کی جگہ نفرت اور عداوت نے لے لی۔ کسی کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔ ایسا مکھڑی کا جالا بُنا گیا ہے کہ جس سے صرف طاقتور نکلتے ہیں اور کمزور پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو، قانون ہو یا دیگر کوئی شعبہ، طبقات کو جائز کیا جا چکا ۔ اپنے گروہی مقاصد کے حصول کے لئے اورمعاشرے میں مفادات کے تحفظ کے لئے گروہ بنائے جاتے ہیں، جس کی مثال مختلف قسم کی تنظیمیں، یونینز، سیاسی اور مذہبی پارٹیا ں، برادریاں، طبقاتی نظام اورسرمایہ داری نظام ہے ۔ میرے خیال کے مطابق اوپر کی سطح پر بنائی گئی لیڈر شپ دراصل سرمایہ داروں کے گماشتوں پر مشتمل ہے۔گروہی مفادات کا تعین بہ لحاظ پیشہ کیا گیا ہے۔ اب ان حالات میں مخیر اور اصلاحی تنظیمیں درحقیقت نظام کو پشتے لگانے کے مترادف ہیں۔ عوام الناس کے اصل مسائل غربت، گرانی، بے روزگاری، کسمپرسی کے حل کے بجائے انہیں وقتی فائدہ دے کر ٹرخایا جاتا ہے۔ گروہ بندی، طبقاتی امتیازات کا وہ سلسلہ ہے جس کی وجہ سے مزدوروں اور کسانوں کے طرزِ زندگی خطِ غربت سے نیچے جوں کی توں ہے ۔ دوسری طرف سرمایہ دار روزافزوں ترقی کرتے ہیں۔ موجودہ استحصالی نظام اس کا شاہد ہے کہ یہاں پر امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ معاشرے کے سب افراد کو ایک طرح کے حقوق و مفادات حاصل ہوتے۔ محنت کو شرطِ اولین حاصل ہوناچاہئے تھا اور اس کے برعکس دولت کو معیار مقرر نہیں کرناچاہئے تھا۔ محنت کرکے ضرورت کے مطابق اجرت ہی دراصل وہ پیمانہ ہے جس میں گروہی مفادات اور امتیازات کا سہارا نہیں ملتا۔ مہذب اور ترقی یافتہ اقوام میں معذور اور لاچاروں کو نظام سہارا دیتا ہے ۔ اس طرح کا اصلاحی نظام درحقیقت انقلابی کہلانے کا حقدار ہوتا ہے۔ جس میں ایک ہی قانون کے مطابق افراد کے فرائض و ذمہ داریوں کا تعین کیا جاتا ہو، ان کی ضروریات پوری کی جاتی ہوں۔ سرمایہ داری نظام میں لا متناہی مال و دولت اور جائدادیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرمایہ دار مزدور کے منھ کا نوالہ چھیننا چاہتا ہے۔ نجکاری کرکے ملکی اداروں کو گروی رکھا جاتا ہے اور بالآخر غیر ملکی، حتی کہ ملکی کمپنیوں اور اشخاص کو بیچا جاتا ہے۔ بعض اوقات ملکوں کے دیوالیہ پن کے نتیجے پر غیر ملکی کمپنیوں، اقوام متحدہ کو حکومت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ منافع اور بچت کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اداروں کو دیوالیہ ظاہر کرکے یا تو ختم یا پرائیوٹ کمپنیوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ مزدور اور کسانوں کے پیٹ پر لات مارکر مذکورہ کمپنیوں سے انہیں نکالا جاتا ہے تاکہ اس کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے۔ ٹیکسوں کا بوجھ عوام کے سرتھوپا جاتا ہے۔ مارکیٹوں اور جائدادوں میں مزدور کرایہ داروں پر اضافی بوجھ ڈال کر اپنی کمی پوری کی جاتی ہے۔
قارئین، دنیا میں جاری بدحالی، فریب کاری، ہیومن ٹریفکنگ، اسلحہ سمگلنگ، پائریسی، ماحولیاتی جرائم، جعل سازی، منی لانڈرنگ، دو نمبر کرنسی وگروہ بندی کی شرح پچھلے پندرہ سال کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے جبکہ اس کے علاوہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کی نئی کھیپ کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ سرمایہ داروں کا کام ہی یہی ہے کہ اپنے اسلحے کو بیچا جائے اور اوروہی اسلحہ اپنے مخالفین پر استعمال کیا جائے ۔ ایک تیر سے دو شکار والا معاملہ ہے۔ جرائم کی لمبی داستان ہے جس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ ڈرگ ٹریفکنگ کے بجائے مذکورہ جرائم کرنا نسبتاً آسان کام ہوتا ہے۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں آسانی کے ساتھ مختلف گروپس کو پیسے بھیجنا آسان ہوجاتا ہے۔ لالچ دے کر اور یا ورغلا کر ترقی یافتہ ممالک میں دوسرے ممالک سے انسانی سمگلنگ کی جاتی ہے، جس سے بعدازاں اپنے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔ نام نہاد مہذب ممالک میں ترقی پذیر ممالک سے چھے لاکھ سے لے کر آٹھ لاکھ تک عورتوں اور بچوں کو فحاشی، پرونو گرافی کے لئے بجھوایا جاتا ہے۔ یاد رہے بہت سے ممالک کی معیشت انہی خطوط پر پہلے سے قائم کی جا چکی ہے۔ غیر قانونی طور پر سیکڑوں چھوٹی بندوقوں کے کاروباری کارخانے بہت سے ممالک میں قائم ہیں۔ سو سے زائد ممالک میں اپنے سینڈیکیٹ اہلکاروں کے ذریعے جعلی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ذریعے مذکورہ مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دو سو بلین کے لگ بھگ دو نمبر سیگریٹ بیچا جاتا ہے۔ فارما سوٹیکل ویکسین، انجکشن وغیرہ چار سو پچاس بلین کے قریب، جعلی ادویات بغیر ڈیوٹی اور ٹیکس کے مختلف ممالک میں بیچی جاتی ہیں۔ موٹر کار، سونا، چاندی، ہیرے جواہرات، نوادرات اور پورنوگرافک ویڈیوز کے لاتعداد واقعات سالانہ کی بنیاد پر رونما ہوتے ہیں۔ دس ملین ٹن ویسٹ اور ریڈیو ایکٹیو فضلات کو سمندر بر د کیا جاتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں سائبر کرائمز ہوتے ہیں، جس میں جعلی اور اصلی کاؤنٹر پیٹس کریڈٹ کارڈز بنائے جاتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل چرایا جاتا ہے۔ آفت رسیدہ لوگوں کا استحصال، روزگار کے لئے ورغلانا، اغوا برائے تاوان میں یا تو انہیں غلام بنایا جاتا ہے اور یا بیگار محنت اور غلط کاری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مقامی اور غیر ملکی آلہ کار گروپس کے درمیان انسانوں کو درآمد، برآمد کرنے پر معاہدات ہوتے ہیں۔ اس سارے مافیا میں پولیس ، امیگریشن، ایئر پورٹ اور دوسرے اداروں اور باثر شخصیات کی امداد لی جاتی ہے۔ جہاں پر آفت رسیدہ استحصالی طبقات کو غلامی اور بیگار پر مجبور کیا جاتا ہے، وہاں دوسرے ممالک میں برآمد کنندگان کو اس کے صلے میں رقومات بجھوائی جاتی ہیں۔
یہ سب انہی گروہ بندیوں کا نتیجہ ہے کہ جو اپنے مفادات کا تحفظ انسانوں کو گروی رکھ کر کرتے ہیں۔ ان مقاصد کے لئے تنظیمیں اور گروہ در گروہ بنائے جاتے ہیں۔ ان کو داخلی اور خارجی طور پر فنڈنگ کی جاتی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ عمل اس طرح خفیہ طریقے سے کیا جاتا ہے کہ گروہوں کو پتا بھی نہیں چلتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں چاہے ان کی شکل سیاسی ہو یا مذہبی، ہر دو صورتوں میں کوئی بھی سیاسی اور مذہبی سرمایہ دار مشنریز اور تھنک ٹینکس کے عمل دخل سے محفوظ نہیں۔
گروہ بندی کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی طرح ایک چھتری کے نیچے اپنے دیرینہ مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ گروہ بندیاں دراصل وہ بتان آذری ہیں جن کو سجدے کئے جاتے ہیں اور ان کی منتیں مانی جاتی ہیں۔ قرآن نے دراصل انہی گروہ بندیوں اور فرقہ بندیوں کو شرک کے مماثل قرار دیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ میں نے جھوٹ اس لئے بولا کہ اس میں سارے گروپ اور گروہ کا مفاد تھا ۔ اپنے آپ اور گروہوں کو سپورٹ کرنے کے لئے ہزاروں اور لاکھوں تاویلیں دی جاتی ہیں۔ مسلسل جھوٹ بولا جاتا ہے۔ اس طرح سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔اس کے لئے سیاسی کاروبار کئے جاتے ہیں۔ آزاد انسانوں کو غلام بنانے کے لئے یہی حربہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ کسی ایک شخص کو قائل کرنا اور اس کی بہ نسبت گروہ کے قائد کو قائل کرنا آسان تر ہوتا ہے۔ جدیددور کی سیاست میں پارلیمنٹ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کئے جاتے ہیں۔ اور یہی و ہ گروہ بندیاں ہیں جس نے انسانوں سے ان کی انسانیت چھین لی ہے۔
2,222 total views, no views today



