خصوصی رپورٹ غلام فاروق ۔۔شرعی نظام عدل پر عمل درامد خواب بن گیا ہے ، بے پناہ قربانیوں سے حاصل ہونے والے شرعی نظام عدل پر عمل درآمد نہ ہونا ایک بہت بڑے خطرے کے طرف اشارہ ہے ، واقعات کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں چند وکلاء کے طرف سے فاٹا ریگولیشن کو ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی کے حکومت کے وزیر اعلیٰ افتاب احمد خان شیرپاؤ نے
ملاکنڈ ڈویژن بشمول کوہستان میں شرعی ریگولیشن 1994 کا عملی نفاذ کیا اور ملک کے تاریخ میں پہلی دفعہ ڈسٹرکٹ کورٹس ، سول کورٹس کے جگہ ضلعی قاضی ،علاقہ قاضی عمل میں لایا گیا ، جبکہ عدالتی افسران کے ساتھ معاون قاضی کی تقرریاں عمل میں لائیں گئے اور تمام فیصلے اردوزبان میں کئے گئے ، اس کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے کچھ ترامیم کرکے شرعی نظام عدل 1999 قائم کردیا جس سے عوام کو عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا ، بلکہ اس کے وجہ سے عوام میں بے پناہ تشویش پھیل گئی کہ جس مقصد کیلئے عوام نے 1994 میں بے پناہ قربانیاں دی تھی وہ مقصد پورا نہیں ہوا، عوام میں بے چینی پھیلتی گئی اور حالات یہاں تک خراب ہوگئے کہ سول ایڈمنسٹریشن مکمل طور پر ناکام ہوکر پاک فوج کو اپریشن کرنا پڑا ، اپریشن کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل 2009 نافذ کرنے کا حکم دیا اور عوام کو مراعات دینے بجائے یہاں سے مراعات چینے گئے اور اس ریگولیشن میں 85 نئے قوانین کا نفاذ کیا گیا اور اس میں انگریزوں کو خوش کرنے کیلئے دوبارہ انگریزی میں فیصلے کرنے کا حکم صادر کیا ، عوام کے ساتھ فریبیوں کا یہ سلسلہ پتہ نہیں کب تک چلے گا ، ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں ابھی ایک بھی فیصلہ شرعی ریگولیشن یا شرعی نظام عدل پر نہیں ہوا ، یہاں تک کہ پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ (دارالقضاء)میں بھی اس ریگولیشن کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے جبکہ شرعی نظام عدل 2009میں پیرگراپ 8 شق 8 میں واضح لکھا ہے کہ کوئی نگرانی واپس نہیں ہوگا ، جبکہ اس کے برعکس مقدمہ رحمت علی بنام غلام وغیرہ جو شیر محمد ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر کیا گیا تھا اس کو ریمانٹ کیا گیا ہے ، اسی طرح شرعی نظام عدل پر عمل درامد نہ ہونا ایک بہت بڑے خطرے کے گھنٹی ہے اگر اسی طرح صورت حال جاری رہا 1985 ،1994 اور2007 کے حالات حکمران بھول جائیں گے ، پہلے بھی اداروں نے اپنے ذمہ داریاں پورے نہیں کی تھی ، حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں اور اب بھی ادارے اپنے ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ہیں جو بھی ایک خطرناک دستک ہے ،ایک کروڑ ابادی پر مشتمل ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا فیصلہ چند وکلاء نہیں کرسکتے بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اپنے تقدیر کا فیصلہ خود کریں گے ، عوام کی بے چینی میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ تمام ملکی ادارے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں جو ملاکنڈ ڈویژ ن کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے ، ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع سوات ، بونیر ، شانگلہ ، اپر دیر ، لوئر دیر ، چترال اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام ملکی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کامعروضی حالات کو دیکھ کر اور یہاں کے رسم رواج کے مطابق قانون بناکر فیصلے کی جائے تاکہ ڈویژن پھیلی ہوئی بے چینی ختم ہوسکے ، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اسکے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے ، اور اسی طرح برائے نام شرعی نظاموں کا اعلانوں کی کوئی اہمیت نہیں رہیں گے بلکہ اس سے اور بھی برائیاں جنم لیں گے ، اور موجودہ حالات میں انصاف ملنا دور کی بات بلکہ ایک خواب بن گیا ہے
534 total views, no views today


