مٹہ(سوات نیوزڈا ٹ کام) مٹہ درشخیلہ کے رہائشی 18سالہ نوجوان فرست ائر کے طالب علم سید اسماعیل ولد میاں روم نے میڈیا کو فریاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے باپ چند عرصہ پہلے ہم سے چھپکے نشہ اور اشیاء بھیج رہا تھا مگر یہ کافی عرصہ ہوگیا کہ میرے باپ نے منشات فروشی چھوڑ دی ہے اور بارگینگ میں محنت مذدوری کر تا ہے اسی طرح چند دن پہلے وہ پشارو گئے ہوئے تھے اپنے علاج کے غرض سے جبکہ تاحال وہ پشاور میں ہی ہے ،مگر پھر بھی اشاڑی چوکی انچارج حبیب الرحمان اپنے چند دوستوں کے کہنے پر ہمہ روز ہمارے گھر پر چھاپے مارتا ہے اور ہمارے بے عزتی کر نے پر تلے ہوئے ہے،اٹھارہ سالہ نوجوان اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ رات بھی تھانیدار نے درجنوں پولیس کے ساتھ ہمارے گھر اندر گھس ائے اور بنا بتائے تلاشی شروع کر نے لگے،ہمارے گھر میں برتن ،صندوق ،رضائیاں،تکیے سب کچھ تھس نھس کر گیا اور کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا ،جبکہ میں نے ان کے منت کی کہ میرے والد نے یہ کام کافی عرصہ پہلے چھوڑ دیا ہے ہمارے بے عزتی نہ کریں مگر تھانیدار نے اپنے دوستوں سے پی ہوئی چائے حلال کر نی تھی اور ہمارے بے عزتی اس نے اپنے دوستوں کے کہنے پر کر دی ،لہذا میرا پولیس کے افسران بالا ڈی پی او سوات،ایس پی اپر سوات اور ڈی ایس پی مٹہ سے گزارش ہے کہ وہ تھانیدار حبیب الرحمان کے خلاف انکوائر ی کریں اور کیفر کردار تک پہنچائے،اسی طرح چند عرصہ پہلے بھی اس تھانیدار کے خلاف عوامی شکایت پر اخبارات میں خبریں ائی تھی مگر سیاسی اثررسوخ رکھنے والے تھانیدار کا کو ئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔۔۔
1,696 total views, no views today


