اسلام کی نظر میں نیکی کا دائرۂ کار پوری انسانی زندگی پر محیط ہے، جس میں ایک طرف خالق فطرت سے بے میل تعلق کا تصور ہے، تو دوسری طرف شاہ کار فطرت یعنی مخلوق انسانی کے حقوق کا ادارک اور ان کی تکمیل کاتقاضہ ہے۔ یہ دونوں مل کر نیکی کے حقیقی تصور کو مکمل کرتے ہیں۔ اسلام کاتصور حیات اپنے تمام مظاہر میں ان دونوں تعلیمات کی فکری تعمیل اور عملی تنظیم کی نمائندگی کرتا ہے۔ چناں چہ اس تناظر میں ماہِ رمضان جامع تربیت کاایک مکمل لائحۂ عمل رکھتا ہے اوراس لائق ہے کہ اس کادلی احترام کے ساتھ بھرپور استقبال کیا جائے۔
چناں چہ قرآن حکیم میں ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم، تقویٰ کی حکمت کے ساتھ مربوط کر کے بیان کیا گیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح پچھلے لوگوں پر، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘
یہ حکم ایک فرمان نہیں رہ جاتا محض بلکہ انسانی زندگی کا ایک ایسا معقول تقاضا بن جاتا ہے، جس کی تکمیل سے انسانی رفعت و بلندی کا اہتمام ہوتا ہے۔ کیوں کہ تقویٰ ایسی صفت ہے، جو انسان کی خود احتسابی کی صفت کو جلا دیتی ہے۔ اس کو ایک طرف اچھائی سے لگاؤ اور برائی سے بچاؤ کی طرف آمادہ کرتی ہے، تو دوسری طرف اس میں نیکی کے نمائشی جذبہ کی اصلاح بھی کرتی ہے۔ کیوں کہ نیکی کا زعم اور دیگر افراد پر اپنامقدس تاثر قائم کرنے کے لیے اس کااستعمال نیکی کی روح کے ہی منافی ہے۔
اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے ایک ارشاد گرامی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھاری صورتیں اور تمھارے ظاہری کردار کو خاطر میں نہیں لاتا، وہ تو تمھارے دِلوں اور تمھارے عزائم پر نظر رکھتا ہے۔
ماہِ رمضان دراصل انسان کے اس اندرونی نظام کی اصلاح و درستگی کا لائحہ عمل دیتا ہے کہ اس کی باطنی قوت ہی اس کے گرد و پیش میں تبدیلی کاباعث بنتی ہے۔ چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے ماہِ رمضان کے اُن معمولات کو انسان کی گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کاذریعہ قرار دیا، جو اخلاص کی کیفیات کا آئینہ دار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے ماہِ رمضان کے روزے ایمان کے تقاضے اور محض اللہ سے اجر حاصل کرنے کی نیت سے رکھے، تو اس کی گزشتہ تمام فروگزاشتیں قابل معافی ہیں۔
اسی طرح آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے ماہِ رمضان کی راتوں کا قیام ایمان و احتساب کی غرض سے کیا، تو یہ عمل اس کی سابقہ بے اعتدالیوں کا کفارہ بن جائے گا۔
حضور ﷺنے ارشاد فرمایاکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا جزا دوں گا۔ اس ارشاد کی وضاحت کر تے ہوئے حضرت امام شاہ ولی اللہ ؒ دہلوی نے حجۃاللہ البالغہ میں لکھا ہے: ’’کہ جب کوئی آدمی نفس کے مغلوب کرنے کا اہتمام کر تا ہے، اس کے رزائل کو دورکرنا چاہتا ہے، تو عالم مثال میں اس کے عمل کی ایک مقدس صورت پیدا ہوجاتی ہے اور عارفین باللہ میں ذکی القلب لوگ اس صورت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ عالم غیب سے ان کی علمی مدد کرتے ہیں اور تنزیہہ و تقدس کے ذریعہ سے ذات واجبی سے اس شخص کو قرب حاصل ہو جاتا ہے۔‘‘
ماہ رمضان کی حکمتیں اور فلسفے انسانی سوسائٹی کو زوال سے نکال کر بامِ عروج تک پہنچاتے ہیں۔ چند امور جن کو سرسری طور پر روزوں کے فلسفے کے طور پر پیش کریں گے۔ باقی اگر انسان مزید غور کرتا چلا جائے، تو اس قسم کی اور بہت سی حقیقتیں نکال سکتا ہے۔
عظیم الشان قربانی:۔ خدائے بزرگ و برتر روزہ فرض کر کے ایک تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس سخت عبادت کے پیش نظر ہمارے بندے ہماری خاطر اپنی جسمانی لذتوں سے کنارہ کش ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ یہ اتنی عظیم الشان ایثار اور قربانی ہے جس کی حقیقت کا تصور وہی کر سکتے ہیں، جو رضائے الٰہی کو ہر حال میں مقدم سمجھتے ہیں۔
ذرا گہرائی میں جا کر دل سے پوچھیے اور سوچیے کہ خواہشات و لذت جسمانی کے سیلاب میں تنکے کی خاطر بہہ جانے والا انسان روزہ رکھ کر نفس پر کتنا ضبط اور کنٹرول کرتا ہے۔ جولائی کی چلچلاتی دھوپ اور باد سموم کے تھپیڑوں میں تشنگی کا تونسا ہوا روزے دار سرد اور برفیلے کیوڑہ، صندل، گلاب اور عناب کے شربتوں، آئس کریم کی قلفیوں اور اورنج، سیب اور کیلے کی روح سے معطر اور مقطرسوڈے کی رنگ برنگی بوتلوں، کوکا کوؤلا کے متنوع الالوان شیشوں، بالائی، دودھ، تخم ریحان اور مالٹے سنترے کے رنگین عرقوں سے لبالب چھلکتے ہوئے گلاسوں کو چھوڑ کر روزے میں گلے کو خشک کرنا کتنی بڑی قربانی اور کتنا بڑا ایثار ہے۔
خواہشاتِ نفس کاکسی کی خاطر چھوڑ دینا بہت بڑا ایثار اور بہت بڑی قربانی ہے۔ روزہ یہی ایثار اور یہی قربانی سکھاتا ہے۔
توفیق شکر:۔ ایثار اور قربانی کے علاوہ روزہ، روزہ دار کو خداوند تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا شکریہ اداکرنے پر مائل کرتا ہے، کیوں کہ جب ایک روزہ دار کھانے، پینے اور جنسی میلان سے نفس کو روک لیتا ہے، جو اعلیٰ درجہ کی نعمتیں ہیں، تو ایسا کرنے سے اس کو نعمتوں کی قدر کا احساس ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ ان نعمتوں کاچھن جانا انسانی بدقسمتی کی ایک زبردست کڑی ہے۔ روزے کے ذریعے ایک خاص مدت کے لیے اس کا احساس زندہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا شکرئے کے ذریعے روزہ دار منعم حقیقی کا حق اد ا کرنے پر متوجہ ہو جاتا ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ’’تاکہ تم شکر ادا کرو‘‘ سے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ صحت کی قدر انسان کو صحت کی نعمت چھن جانے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ جب تک انسان سخت بیماری سے دوچار نہیں ہوتا، تن درستی سے بے پروا ہوتا ہے۔ اسی طرح نعمتوں سے خوش نصیب ہونے کی قدر بھی اس وقت ہوتی ہے۔ جب انسان فقروافلاس سے دوچار ہو کر فاقہ کشی اور بھوک میں مبتلاہوتا ہے۔
مسکینوں سے ہم دردی:۔ نعمت پر شکر کرنے کے علاوہ روزہ، روزہ دار کو غریبوں پر رحم کرنے اور مسکینوں کے ساتھ ہم دردی کرنے پر مائل کرتا ہے۔ روزہ دار امیر انسان جب روزہ رکھے گا، تو اس کو بھوک اور پیاس کے باعث بھوک سے مرنے والے فقراء اور مساکین کی مصیبتوں کا اندازہ ہو گا اور وہ محسوس کرنے پر مجبورہو گا کہ غریب لوگ جو عسر ت اور فقرو فاقہ کی زندگی بسر کرتے ہیں، ا ن کاکیا حال ہوتا ہے۔
روزہ دار انسان کو روزہ رحم دلی اور غریبوں کے ساتھ ہم دردی کا احساس دلاتا ہے۔
مساوات:۔ نماز کی طرح روزہ بھی اسلامی برادری میں مساوات کاسبب بنتا ہے۔ اُمراء لوگ غرباء سے اپنی دولت و ثروت کے باعث امتیاز رکھتے ہیں۔ یہ دولت اگرچہ روزے کے باعث چھن تو نہیں جاتی، لیکن بھوک اور پیاس میں امیروں اور غریبوں کا ایک حالت میں مساوی ہو جانا روزے سے بہ خوبی میسر آ جاتا ہے۔
علاوہ ازیں مسلمانوں کی اکثر جماعتیں رمضان کے مہینے میں روزوں کی وجہ سے ایک ہی زمانے میں ایک نقطۂ خیال و عمل پر جمع ہو جاتی ہیں۔ جس سے آپس میں ایک خاص تعاون اور جذبۂ محبت پیدا ہو جاتا ہے۔
روزہ اور صحت:۔ روزے کی صحت پر بہت اچھے اثرات ہوتے ہیں۔ روزے میں تقریباً ہر انسان متوازن غذا کھاتا ہے۔ وہ روزہ بھی پھل کھا کر کھولتا ہے جو کہ وٹامن اور منرل سے بھر پور ہوتاہے جس سے ان کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ کچھ زہریلے مادے جسم میں پیدا ہوکر زیادہ تر چربی میں جمع ہوجا تے ہیں لیکن روزے کی وجہ سے چربی جل کر یہ زہریلے مادے جسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔
دوسری طرف اضافی وزن کم ہو جاتا ہے۔ روزے سے خون میں شکر کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور روزہ ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
روزے میں نشے کے عادی لوگ منشیات کے استعمال کو کم یا ترک کر کے ایک اچھے اورذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔
ٍؐ ماہ رمضان دراصل رحمتوں اور نیکیوں کی فصل بہار ہے، جس میں ہر مسلمان کے لیے نیکیوں کے کھیت اور رحمتوں کے باغ سینچنے کے فراواں مواقع میسر ہوتے ہیں اور اس دوران میں شیطانی وائرس کے حملے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ یوں اپنی توجہ اور عزم سے صحرائے زندگی کو نخلستانِ حیات میں تبدیل کرنا سہل اور آسان ہو جاتا ہے۔
ہاں، جو شخص نیم دلی سے پاؤں پسار کر پڑا رہے، تو وہ فصل بہار سے فصل خزاں کی طرح محروم ہی رہتا ہے۔
آج ماہِ رمضان کی آمد ایک ایسے ماحول میں ہو رہی ہے، جس میں شیطانی قوتوں اور ان کے بے رحم آلۂ کاروں کے ہاتھوں انسانیت کادامن تا ر تار ہے اور معصوم انسانوں کاخون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ ایسے میں ان قوتوں کے خلاف انسانی ہم دردی کے اقدار پر مبنی اجتماعی مزاحمت از بس ضروری ہے، جس کی رہنمائی ہمیں ماہِ رمضان کے معمولات شب و روز سے ملتی ہے۔ صبر و مواخات کے پیغامِ رمضان کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنا کر ہی ہم رضائے الٰہی کے اعلیٰ نصب العین کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔
یہی ماہِ رمضان کا حقیقی استقبال اور سچا احترام ہو گا۔
1,003 total views, no views today


