صوبائی حکمرانوں کا یہ خیال صائب ہے کہ فی الحال وہ اسکولوں کے لیے نئی تعمیرات نہیں کرے گی (روزنامہ چاند 19 جون 2014ء کا اداریہ) بلکہ موجودہ اسکول میں سہولیات کی فراہمی پر توجہ دے گی۔
محکمہ تعلیم جتنا بڑا محکمہ ہے۔ جتنی بڑی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ہے۔ اُتنے ہی یہ غیر موزوں ہاتھوں میں اسیر ہے۔ محکمہ تعلیم غالباً واحد محکمہ ہے جہاں بجٹ کا بڑا حصہ اس کی غیر ترقی یاتی مقاصد پر خرچ ہوتا ہے۔ اس محکمے میں ملک کے کسی بھی محکمے سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقت ور یونینز موجود ہیں۔ سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن، اسکولز آفیسرز ایسوسی ایشن اور پتہ نہیں کس کس نام کے ایسوسی ایشنز اس محکمے میں موجود ہیں جب کہ تعلیم کا معیار اور مقدار ہم سب کے سامنے ہے۔ استعداد، قوتِ کار اور بہتر انتظامی معاملات کا جہاں تک تعلق ہے، یہ محکمہ عملاً کلرک لوگ چلاتے ہیں۔
محکمۂ تعلیم میں عملاً دو طرح کے لوگ شامل ہیں۔ کثیر تعداد اُن اساتذہ کرام کی ہے، جو ہر سطح کے اداروں میں پوری لگن اور محنت سے درس و تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ایک چھوٹی سی لیکن بہت ہی طاقت ور جماعت اُن اساتذہ کی ہے جو سیاسی لوگوں کے آگے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ تاکہ اُن کے ذریعے بعض جائز و ناجائز مراعات حاصل کرسکیں یا وہ افراد ہوتے ہیں جو سیاست کاروں سے ہٹ کر اپنے مفادات کے لیے افسران پر مختلف شکلوں میں دباؤ ڈالتے ہیں۔ ان حضرات میں ایسے بھی ہیں جو محکمے کے مالی امور سے فوائد حاصل کرنے کے لیے بالواسطہ یا بلا واسطہ تاجر بن گئے ہیں۔ آج جتنا غیر عادلانہ کنٹرول محکمۂ تعلیم پر مارکیٹ کا ہے، کسی اور محکمے یا شعبے پر اتنا نہ ہوگا اور اس کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ کمزور اور جلدی متاثر ہونی والی لیڈر شپ ہے، جو اس اقلیتی گروہ پر مشتمل ہے۔
مفت زمین کے حصول پر اُس وقت کے بعض دور بین افراد نے بجا طور پر تنقید کی تھی لیکن ’’افسران‘‘ کے اس محکمے نے ’’مفت زمین‘‘ کوحاصل کرکے نہ صرف محکمے کے لیے دور رس مشکلات پیدا کیں بلکہ بہت سارے علاقوں میں موجود اسکول عمر کے بچوں کو اسکول کی موجودگی کے باوجود تعلیم کے حصول سے محروم کردیا۔ انھی ’’افسران‘‘ نے حکومت کی بہترین پیشکش یعنی پی پی سی کی سہولت کو اپنے بھائی بندوں تک محدود کروا کر عام بے روزگار نوجوانوں اور سنجیدہ سرمایہ کاروں کو تعلیم کے میدان میں محنت کرنے سے روکا۔
اگر چہ آبادی کے لحاظ اور تناسب سے ہمارے یہاں اسکولوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان میں سہولیات کی فراہمی کے لیے فراہم کردہ خطیر رقوم اصل مقاصد کی بجائے دوسری طرف چلی جاتی ہیں۔ کارکن اساتذہ کرام خصوصاً زنانہ ٹیچرز بے شمار مشکلات کی شکار ہیں۔ اُن کو اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے سخت حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور بسا اوقات بلیک میلنگ کا شکار ہوتی ہیں۔ خٹک سرکار اگر چہ بجٹ اصلاحات میں تاحال ناکام ہے۔ پھر بھی چند ایک اقدام ایسے ہیں جو قابل تعریف ہیں۔ یہ فیصلہ بھی عمدہ ہے کہ نئے اسکولوں کی تعمیر کی جگہ موجودہ اسکولوں کو بہتر بنایا جائے۔ اس منصوبے میں اخلاص کی جگہ صوبے کی مالی تنگ دستی زیادہ نظر آرہی ہے۔ پھر بھی اگر اس سلسلے میں دانش مندی اور بصیرت سے کام کیا جائے، تو اچھا ہوگا ورنہ خدشہ ہے کہ کرپشن کے ماہر اس محکمے کے چند افراد مزید مالدار اور محکمہ نادار ہوجائے گا۔ دوررس بہتر نتائج کے حصول کے لیے تجویز ہے کہ:
1:۔ محکمہ خزانہ (صوبائی) کو اپنا ایک با اختیار آڈٹ کا محکمہ آڈیٹر جنرل کی رہنمائی میں قائم کرنا چاہیے۔ تاکہ ہر یونٹ کا سال میں کم از کم ایک دفعہ آڈٹ یقینی ہوجائے اور تمام فراڈز اور بدعنوانیاں محکمۂ خزانہ کے ذریعے صوبائی اسمبلی کی نوٹس میں لائے جاسکیں اور تادیبی اقدام بروقت ہوسکیں۔
2:۔ محکمے کو برباد کرنے والے ٹیچرز، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز اور منصوبہ ساز ہیں، بہترین بات ہوگی کہ اساتذۂ کرام جن کی اکثریت اعلیٰ کردار والوں کی ہے، کو درس و تدریس تک محدود رکھا جائے اور تمام انتظامی، مالی، مالیاتی اور منصوبہ سازی کے اُمور پی ایم ایس آفیسرز کی تحویل میں ضلعی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک دیے جائیں۔
3:۔ فرنٹیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی وغیرہ سے کمزوریوں کو دور کیا جائے اور اُن کو متحرک کیا جائے۔ ان کے قوانین کو پاٹا کو فراہم کیا جائے۔ اور ان کی نگرانی میں تمام سرکاری پرائمری اسکولز نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں، تاکہ عوام کی شراکت داری سے تعلیم کی ترقی ہوسکے۔
4:۔ حکومت ایسوسی ایشنز سے اعصابی شکست نہ کھائے اور اسکولز پرفارمنس مانیٹرنگ کو مزید مستحکم کرکے مجسٹریٹس کے اختیارات کے ذریعے محکمے پر سے مارکیٹ کا غلبہ ختم کرے۔
5:۔ صوبے کے بڑے علاقے میں قوانین کے مساوی نظام میں آئینی رکاؤٹ (247(3)کو ختم کیا جائے۔
790 total views, no views today


