کہاجاتا ہے کہ بچوں کو ابتداء میں جو بات سکھا لی جائے، وہ ان کے ذہن پر اثرا نداز ہوتی ہے اور بچے اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہی اثر لیتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی ابتدائی کلاسوں کی کتب میں ’’الف انار، ب بکری، ب بندوق، ت تلوار، چ چاقو، ظ ظالم جیسے الفاظ سے بچوں کو حروف تہجی سکھانے سے بعض لوگوں کو اختلاف پایا جاتا ہے۔ اختلاف رکھنے والوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے الفاظ سے بچوں کے ذہنوں پر اچھا اثر نہیں پڑتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’الف سے اللہ، ب سے بسم اللہ، ت سے تلاوت، ج سے جہاد جیسے الفاظ شامل کرنے سے بچوں کو حروف تہجی سکھانے کے علاوہ انھیں دینی معلومات بھی فراہم ہوں گی۔ بچوں کو الفاظ اور چیزوں کے نام سکھانے کے لیے مختلف تعلیمی اور درسی اداروں میں مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں بعض اسکولوں میں بچوں کو مختلف پھل، سویٹس اور کھلونے دینے سے بچوں کو ان چیزوں کے ناموں سے آشنا کیا جاتا ہے۔ بعض اداروں میں بچوں کو ابتدائی دنوں میں مختلف عنوانات دیے جاتے ہیں جس سے متعلق بچے گھروں میں والدین اور بھائی بہنوں سے معلومات حاصل کرکے بعد میں اس موضوع پر جملے بناتے ہیں جب کہ تاریخی شخصیات کے حالات زندگی اور کارکردگی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس طرح بعض اداروں میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر انھیں مختلف سوالات اور اس کے درست جوابات پر انعامات دیے جاتے ہیں۔
پرائیوٹ اسکولوں میں مانٹی سوری کلاسز میں بچوں کو کتابوں کے بغیر مختلف کھلونوں سے کھیلنے کا مقصد بھی انھی چیزوں سے بچوں کو متعارف کرانا ہوتا ہے۔ مگر بات دراصل چیزوں کے نام سمجھنے اور حروف تہجی ازبر کرنے کی نہیں بلکہ بچوں کو ان تمام چیزوں کا درست طریقے سے استعمال کرنے کا طریقہ بتانے اور اس پر عمل کرنے کی ہے۔ بچوں کو تعلیمی اداروں میں ’’کیلے‘‘ کا انگریزی، اردو یا عربی نام تو سکھا دیا جاتا ہے، مگر یہ انھیں نہیں سکھایا جاتا کہ کیلا کھانے کے بعد اس کا چھلکا کہاں پھینکنا چاہیے؟ اس طرح ان تمام چیزوں، چاہے وہ کھانے کی ہوں یا استعمال کرنے کی، ان کا درست طریقے سے استعمال کرنا سب کو سکھانا چاہیے کہ اس سے آپ دوسروں کو تکلیف اور مشکلات سے کیسے بچائیں گے؟ ابتداء میں ہم اگر بچوں کو چیزوں کے درست طریقے سے استعمال کرنے سے آگاہی دینے کا سلسلہ شروع کردیں، تو پھر ’’الف انار‘‘ سے’’ ایک انار اورسو بیمار ‘‘ کا محاورہ ہی بن سکے گا اور نہ ’’ت تلوار ‘‘ سے ’’ تلوار بے نیام ‘‘ ہی رہے گی۔ تعلیم کا مقصد چیزوں کا نام سیکھنا اور ہجے درست طریقے سے سنانا نہیں، ورنہ پھر تو ’’گونگے‘‘ عام لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہی نہ ہوتے۔
بات دراصل بچوں کے ذہن پر اثرات کی ہورہی ہے، تو یہ بات مجھے درست اس وجہ سے لگتی ہے کہ ہمیں ابتدا میں حروف تہجی سکھاتے وقت ’’ض ضعیف ‘‘ سکھایا گیا تھا۔ اب ضعیف کے معنی کمزور ، ناتواں، بے بس، لاچار، عمر رسیدہ کے ہیں، جس طرح ذکر کیا گیا کہ ہمیں بچپن میں ضعیف سے آشنا کرانے کے لیے ’’ض ضعیف‘‘ سکھایا گیا ہے، مگر ہمیں یہ ہر گز نہیں سکھایا گیا ہے کہ ’’ضعیفی‘‘ سے بچنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟ یا ضعیفوں سے ہمیں کیسا برتاؤ روا رکھنا چاہیے۔ اگر ضعیف کا احترام ہمیں سکھا یاجاتا، تو آج ہم اپنے اور پرائے بزرگوں سے یہ برتاؤ نہ کرتے، جو آج کل ہم کرتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے تو ہم خود ہر چیز میں ضعیف ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارا ایک ’’عقیدہ‘‘ تو موجود ہے، مگر اس عقیدے پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے کے سبب ہم ’’ضعیف العقیدہ‘‘ ہوگئے ہیں۔
اس طرح مسلمان ہونے کے لیے سب سے پہلی شرط ایمان ہے، مگر ہمارا ایمان بھی جن چیزوں پر ہے، زبانی تو ہم انھیں مانتے ہیں اور اقرار بھی کرتے ہیں کہ’’ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، ملائک پر، کتابوں پر، رسولوں پر، روز آخرت پر، تمام اچھائی اور برائی اللہ کی طرف سے ہے اور موت کے بعد زندگی حق ہے۔‘‘ مگر یہ سب کہنے کے باوجود ہم یہ سمجھتے نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں؟ اس وجہ سے ہم ایمانی طور پر بھی ضعیف بن جاتے ہیں۔
اس طرح گرم مصالحوں کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ہم ’’ضعیف المعدہ‘‘ تو پہلے سے ہی ہیں، اب موبائل اور کمپیوٹر کے بے دریغ اور بلا ضرورت استعمال نے ہمیں ’’ضعیف البصارت‘‘ بھی کر دیا ہے۔ کیوں کہ ہم آغاز ہی سے ’’ضعیف العقل‘‘ جو ٹھہرے۔ میں سوچ رہا تھا کہ ٹیکسٹ بُک والوں کو ’’ض‘‘ سے کوئی اچھا سا لفظ تجویز کرکے پیش کردوں مگر کسی بھی چیز یا فعل کا نام مجھے ایسا نظر نہیں آیا جو ’’ض‘‘ سے شرو ع ہوکر ذہن کو ذرا تر و تازہ بنائے۔ ماسوائے ’’ضیافت ‘‘ کے۔ مگر یہ ’’ضیافت ‘‘ بھی آج کل کسی خاص مقصد کے بغیر کسی کے لیے نہیں کی جاتی ممتحن امتحانات کے لیے ضیافتوں کے سلسلے نے تو اس لفظ کے معنی اور اہمیت ہی بدل ڈالی ہے۔ اس طرح دیگر جتنے بھی کاموں اور چیزوں کے نام میں نے ڈھونڈے ہیں، سب کے سب عجیب تھے، جیسا کہ ’’’ضدی۔‘‘ اب اگر بچوں کو ضد کا عمل بچپن سے سکھایا جائے، تو وہ تو ویسے بھی ضدی ہوتے ہیں اور یہ لفظ ان کا ذہن مزید خراب کرے گا۔
اس طرح ایک لفظ ’’ضبط تولید ‘‘ بھی ہے۔ اب بچوں کو اگر بچپن میں تولید سے متعلق باتیں سکھانا شروع کی جائیں، تو اس کا ان کے مستقبل پر کتنا برا ثر پڑسکتا ہے۔
اس طرح ایک لفظ ’’ضخامت‘‘ ہے جو کہ کسی کتاب کی موٹائی کے علاوہ انسانی جسم کے موٹاپے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ موٹاپے کا کوئی فائدہ ہی نہیں، ویسے بھی ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے پرائمری کلاسوں میں بھی اپنے وزن سے زیادہ ’’ضخیم‘‘ بیگ اٹھانے پر مجبور ہیں اور اگر کم عمری میں انھیں ’’ضخیم‘‘ کتابوں سے بھی آگاہ کرنا شروع کریں، تو میرے خیال میں وہ اتنا بڑا ظلم آسانی سے ’’ضبط ‘‘ نہیں کر سکیں گے اور نہ ہم انھیں اس عمر میں اتنا بڑا ’’ضرب‘‘ لگا سکتے ہیں۔
اپنے موضوع کے حوالے سے اتنا ’’ضعیف البیان‘‘ بھی نہیں ہوں، مگر طوالت مضمون کے پیش نظر ایک چھوٹے سے واقعہ پر اپنا کالم ختم کروں گا اور وہ یہ کہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے دو مختلف مسالک کے بعض علمائے کرام نماز میں ’’والضالین ‘‘ پر اختلافات کے شکار ہوگئے۔ اس سلسلے میں بات ان دونوں فریقوں کے درمیان ’’مناظروں‘‘ تک پہنچ گئی۔ایک فریق کا کہنا تھا کہ یہ ’’والضدالین ‘‘ہے جب کہ دوسرے فریق کا مؤقف تھا کہ یہ ’’ والغدوالین ‘‘ ہے۔
اب عربی کے ایک لفظ پر بات مناظروں تک پہنچانا ہمارے’’ضدی‘‘ ہونے کی نشانی نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم جیسے عجمی لوگوں کو اگر عربی کے لفظ کی ادائیگی پر کوئی شک یا اعتراض ہو، تو اچھی بات تو یہ ہے کہ ہم عربی کے کسی ماہر عالم سے اس سلسلے میں رابطہ کرتے، مگر ہمارے ان مسلکی حضرات نے بات کا بتنگڑ بنا کر نوبت لڑائی جھگڑوں تک پہنچا دی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
5,180 total views, no views today


