گداگروں کی بدلتی ہوئی عادات و اطوار اور عوام کے ساتھ غیر منصفانہ رویے کی بناء پر، ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ان کے بارے میں بھی کچھ معلومات بہ ہم پہنچائی جائے۔ یوں تو گداگر بھی معاشرے کے معزز افراد ہیں، آخر ان کا بھی ایک مقام ہے مگر کچھ عرصے سے ان کے مزاج میں بھی تبدیلی رونما ہوئی ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدلتی ہے، اگر ان کے مزاج میں بھی کچھ تغیر ظہور پذیر ہوگیا ہے یا ہو رہا ہے، تو کون سی غیر معمولی یا انہونی بات ہے۔ خیر، جب ہم نے ان کے جارحانہ رویے پہ غور کیا، تو ہمیں گداگروں کی صورت میں گداگرد نظر آنے لگے۔ ان کے اطوار کے پیش نظر ہم نے بے ساختہ انھیں ’’گداگرد‘‘ کا نام دے دیا۔ گداگرد کے معانی و مطالب سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس لفظ سے بہتر کوئی اور لفظ نہیں ہے۔
گداگردوں کی عظمت پہ اگر غور کیا جائے، تو بغیر کسی غلطی یا جرم کے لوگ ان سے معافی مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم نے کئی ایسے بڑے لوگوں کو دیکھا ہے جو ناک پہ مکھی بیٹھنے نہیں دیتے۔ اُن کی اجازت کے بغیر چڑیا پر بھی نہیں مارسکتی مگر گداگردوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر اُن سے معافی مانگتے ہیں۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گداگرد معاشرے کے عزت دار اور معزز افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ اپنی دانست میں انھیں جو کچھ بھی سمجھیں۔ اُن کی صحت پہ کوئی اثر نہیں ہونے کا۔
پہلے جب گداگرد صدا دیتے تھے، اس میں کچھ حقیقی رنگ بھی جھلکتا ہوا نظر آتا تھا۔ اس لیے تو شاعر نے خود کو فقیر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جو دے اُس کا بھی بھلا جو نہ دے اُس کا بھی بھلا، مگر اب جو لوگ خیرات دے دیتے ہیں،ا ن کے حصے میں سرسری طور پہ دعائیں آجاتی ہیں اور جو خیرات نہیں دیتے جو صرف معافی سے کام چلانا چاہتے ہیں، انھیں فی البدیہہ بد عاؤں سے نوازا جاتا ہے۔ ہر گداگرد ایک ہدف مقرر کرکے گھر سے نکلتا ہے کہ یومیہ اتنے روپے مانگ کر لاتے ہیں۔ جب تک مقررہ ہدف پورا نہیں ہوجاتا، تب تک وہ لوگوں کا دامن پکڑ پکڑ دہائی دیتے رہتے ہیں۔ یہ گداگرد اب عموماً نقد رقم، نئے ان سلے کپڑے اور ضرورت کے مطابق چیزیں مانگتے ہیں۔ یہ لوگ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر زندگی گزارنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں آخر یہ بھی تو معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے لوگ ان سے معافیاں مانگتے پھرتے ہیں۔ آخر انھیں بھی تو سر اُٹھا کر جینا ہے۔ ایک مرتبہ ایک گداگرد نے کسی کے دروازے پر دستک دینے کے بعد دہائی دی۔ جواباً ایک بچہ دروازے سے نمودار ہوا۔ اُس کے ہاتھ میں آٹے سے بھرا ہوا برتن تھا۔ اُس نے گداگرد کی طرف وہ برتن بڑھایا۔ گداگرد نے کسی قدر برا منا کر کہا مجھے آٹا نہیں چاہیے، ماں سے کہو نقد پیسے بھجوادو۔ اب بتائے کہ یہ کھلم کھلا گداگردی نہیں تو اور کیا ہے۔
کچھ بھی ہو، گداگرد بھی آج کل بڑے مہذب ہوتے جارہے ہیں۔ جی ہاں، وقت بڑا اُستاد ہے، یہ بعض اوقات فطری سادی تک چھین لیتا ہے اور نت نئے ہتھ کنڈے سکھا دیتا ہے۔ گداگرد صدا دینے کی بجائے گھروں کے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں۔ اگر کسی کے دروازے پہ ڈور بیل ہو، تو وہ بھی بجانے لگے ہیں۔ جب یہ اپنے آنے کی اطلاع اس طرح مہذب طریقے سے دیتے ہیں، تو صاحب خانہ کو ضروری سے ضروری مصروفیت بھی ترک کرکے جانا پڑتا ہے۔ وہ خوشی اور تجسس کے مارے دروازے کی طرف بڑھتا ہے کہ شاید کوئی مہمان آیا ہے، مگر جب دروازہ کھول کر دیکھتا ہے، تو جدی پشتی وارث، گداگرد کی حریص آنکھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُس وقت صاحب خانہ کی جو حالت ہوتی ہوگی وہ تو وہی جانتا ہوگا کہ جس پہ گزری ہوگی۔ (جاری ہے)
1,122 total views, no views today


