مینگورہ، سوات میں بند سرکاری سکولوں کا کھولنا خواب بنتا جارہا ہے۔ ایک طرف حکمران تعلیم کے فروغ کے دعوے کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف سکولوں کی حالت زار سے تعلیم کا حصول مشکل بنتا جارہا ہے۔ خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سوات میں خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے والئی سوات کے دور میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی اور ریاست کے دوران کے بعد کسی بھی منتخب حکموت نے تعلیم پر توجہ نہیں دی۔ صرف نعرے لگائے گئے عملی کام نہیں کیا۔
سیلاب اور خراب صورتحال کے باعث سوات کے سرکاری سکولوں کو کافی نقصان پہنچا حالات بہتر ہوتے ہی پاک فوج اور باہر ممالک کے امداد پر کافی سکول بنائے گئے جو تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کررہے ہیں۔ زیادہ تر سکول اب بھی ویران پڑے ہیں سوات میں ایسے علاقے ہیں جہاں صرف اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم خواب بنتا جارہا ہے۔ کچھ سکول تو عرصہ دراز سے بند ہے۔ جن میں GGPS اریانی نمبر1 کالام ہے۔ جو گزشتہ 7 سال سے بند ہے۔ کسی بھی استانی نے یہاں بچیوں کو تعلیم سے منور نہیں کیا یہاں پر لوگ چاہتے ہیں کہ بچیاں تعلیم حاصل کریں لیکن محکمہ تعلیم اور حکمران نہیں چاہتے اس جیسے دیگر بے شمار سکول ہیں جو بند پڑے ہیں تعلیم کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا کر بند سکولوں کو کھولاجائے۔
394 total views, no views today


