بریکوٹ( ریاض احمدسے) زرخیلہ شموزئی کے نابینا اور حافظ قرآن حافظ عبدالوھاب نے کہا ہے کہ ان کے خاندان کے چار افراد گھر کے اندر قتل ہوئے گذشتہ اٹھارہ سالوں سے انصاف کا منتظر ہے مگر ابھی تک انہیں کسی بھی عدالت سے انصاف نہیں ملا ۔فاضل عدالت نے ان کے غیر موجودگی میں فاصلہ سنا کر ملزمان کو بری کردیا جو انصاف کے منافی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بریکوٹ پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ 25مارچ 2002کو ہم اپنے گھر میں موجود تھے کہ مخالفین نے چھوٹے سے زمین پر جس پر عدالتی کیس چل رہا تھا فیصلہ آنے سے قبل مبینہ ملزمان مخالفین میرے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کرکے میرے بیٹے سمیت عبدالقادر،بیوی ،بہو اور بھانجا صابر خان کو قتل کردئیے گئے ۔پولیس نے ملزمان کو گرفتار کردئیے کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھامیں سپریم کورٹ کو 28ستمبر 2016کو تاریخ معلوم کرنے کی غر ض سے گیا وہاں پر مجھے بتایا گیا کہ آپ کا فیصلہ سنایا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے اطلاع کئے بغیر میرے عدم موجودگی میں فیصلہ سنا کر ملزمان کو بری کردیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ رجسٹرار کے پی اے نے کیس تاریخ معلوم کرنے کی غرض سے ایک موبائیل نمبر 03332947345دے کر کہاکہ اس نمبر پر رابطہ رکھیں مگر وہ نمبر کراچی کے کسی فرد کا تھا ۔انہو ں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ میرے کیس میں سابق جسٹس طارق پرویز اور سابق آئی جی ناصر درانی کے ایماء پر خارج کیا گیا ہے انہوں نے فریاد کرتے ہوئے کہاکہ میں غریب ہونے کے ساتھ ساتھ نابینا بھی ہوں میرے گھر کا واحد کفیل میرا بیٹا عبدالقادر تھاجوکہ وہ بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔انہوں نے صدر، وزیراعظم ،چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ میرے ساتھ ہونے والی ظلم ہونے کا پورا پورا انصاف دیا جائے ۔
1,164 total views, no views today



