سوات،ملاکنڈ ڈویژن میں اضلاع کے بعد سب ڈویژنل سطح پر بھی تنازعات کے حل کے لئے ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز قائم کردی گئیں ،ڈویژن بھر کے 7 اضلاع اور 22تحصیلوں میں قائم یہ کونسلیں چھوٹے تنازعات کو جرگہ سسٹم کے ذریعے حل کریں گی ،ہر کونسل میں 21ممبران خدمات انجام دیں گے،جس سے پولیس اور عدالتوں پر کافی بوجھ کم ہوسکے گا
،اس سلسلے میں سوات کی تحصیل کبل میں پولیس اسٹیشن کبل میں قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی ،جس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن محمد افسرخان ،ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن عبداللہ خان اور ڈی پی او سوات شیر اکبرخان سمیت علاقہ عمائدین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی،کمشنر ملاکنڈ ڈویژن محمد افسرخان نے کونسل کے اراکین سے حلف لیا ،تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر ملاکنڈڈویژن محمدافسرخان اورڈی آئی جی عبداللہ خان نے کہا جرگوں کے ذریعے فریقین کے مابین مصالحت اورراضی نامے کرنا پختون روایات ہیں جبکہ دومسلمان بھائیوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرنا کارخیربھی ہے،انہوں نے کہاکہ ان کونسلوں کے قیام کامقصدلوگوں کے مابین موجودچھوٹے چھوٹے تنازعات کو علاقائی سطح پر ختم کرنا اوران کے مابین صلح صفائی اورراضی نامے کرناہے اور علاقائی سطح پر فریقین میں موجود معمولی معمولی تنازعات بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہورہے ہیں جس سے نہ صرف یہ تنازعات آگے جانے اورسنگین صورت ااختیار کرنے سے قبل ختم ہوجاتے ہیں بلکہ اس سے تھانوں پر بوجھ بھی کم ہوجاتا ہے،انہوں نے کہاکہ بڑھتی ہوئی آبادی سے معاشر ے میں نت نئے مسائل سراٹھا رہے ہیں جبکہ معاشرتی ناہمواریاں،عدم برداشت ،عدم توازن اورجرائم میں اضافہ ہورہاہے لہٰذہ معاشرہ کے ہر فرد پرذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ ان ناہمواریوں اوربگاڑکو ختم کرنے میں کرداراداکرے مصالحتی کمیٹی کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ معمولی واقعات کو سنگین ہونے سے قبل ختم کرکے معاشرہ کو بگاڑسے بچائے۔
454 total views, no views today


