منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تعمیر کئے گئے بنیادی ڈھانچے سے فائدہ ہوگا۔
وہ بدھ کواسلام آباد میں پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کےلئے زمینی مواقع کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان چین اور وسطی ایشیا کو ملانے کےلئے سی پیک پر مبنی مزید دو راہداریاں آئندہ چند برسوں میں مکمل کی جائیں گی۔ایک راہداری پشاور کو کابل اور تاجکستان سے ملائے گی جبکہ دوسری راہداری کوئٹہ کو ہرات اور ترکمانستان سے ملائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان راہداریوں سے وسط ایشیائی ملکوں کو روسی فیڈریشن تک راستہ میسر آئے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وسط ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون کا پروگرام بھی تقدیر بدلنے کامنصوبہ ہوگا کیونکہ اس سے ایشیا، یورپ اورافریقہ کے خطے کے ساتھ روابط پیدا ہونگے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کاسا 1000 سے کرغزستان سے تاجکستان، افغانستان اور پاکستان میں بجلی کی ترسیل ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن بھی جلد مکمل ہوگی۔
وفاقی وزیر نے علاقائی تعاون ،مفاہمت اور سلامتی کے فروغ کے لئے پاکستان میں سینٹرل ایشین یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔
ادھر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کے وسط ایشیائی ملکوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کا شماران ملکوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے وسط ایشیائی ملکوں کو تسلیم کیا۔
خطے کو در پیش مسائل کوا جاگر کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نےکہا کہ چین کاایک خطہ ایک سڑک پروگرام علاقائی ملکوں کے لئے امید کی ایک کرن ہے کہ وہ اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے خوشحال اورپرامن مستقبل کے لئے مل کر کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام خطے میں روابط کے لئے انتہائی اہم ہے، انہوں نےکہاکہ پاکستان افغانستان میں مصالحتی عمل کی حمایت کرتا ہے کیونکہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
1,146 total views, no views today



