وطن عزیز کی موجودہ حالت دیکھ کر دل دُکھ سے لبریز ہوجاتا ہے۔ کرب و اذیت کا ایک سلگتا ہوا احساس رگ و پے میں سرایت کرجاتا ہے۔ دُنیا روز بروز ترقی اور خوش حالی کی جانب گامزن ہے اور ہم ابھی تک اپنے بنیادی نوعیت کے ابتدائی مسائل کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ ہمارے رہنماؤں اور مقتدر طبقے کا ذہنی افلاس اس قدر زیادہ ہے کہ انھیں اپنی ذات کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اس ملک اور عوام کو لوٹنے، کھسوٹنے اور اس کی درگت بنانے میں سب لگے ہوئے ہیں۔ خواہ وہ سیاست دان ہوں، فوجی جرنیل ہوں، بیورو کریٹس ہوں یا صنعت کار ہوں۔ سب ہی اس ملک کی جڑیں کھودنے میں اپنے اپنے انداز میں مصروف ہیں۔ فوجی آمروں نے مارشل لاؤں اور سیاست دانوں نے جمہوریت کی آڑ میں فسطائیت نافذ کرکے اس ملک کی بنیادیں کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ ملک اور قوم ابھی تک اپنے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔
میاں محمد نواز شریف کو تیسری دفعہ حکومت کرنے کا موقع ملا ہے لیکن ان کا اندازِ حکمرانی ابھی تک جمہوری روایات پر پورا نہیں اتر رہا ہے۔ انھوں نے اپنے ارد گرد جن لوگوں کو جمع کر رکھا ہے، وہ اپنے اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ ان کے مابین کارکردگی کے لیے نہیں بلکہ ذاتی اثر و رسوخ کے حوالے سے کھینچا تانی ہو رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ناراضی ہے اور پھر جس انداز میں میاں نواز شریف نے چوہدری نثار سے ملاقاتیں کرکے انھیں راضی کرنے میں کامیابی حاصل کی، اسے موجودہ حکومت کا ایک نادر کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگر کسی جمہوری حکومت کی کامیابی کا معیار یہی رہا جائے کہ ایک منتخب وزیراعظم اپنے وزیر داخلہ کو اس خوف کی وجہ سے راضی کرنے میں لگے ہوئے ہوں کہ کہیں وہ مخالف سیاسی پارٹی میں نہ چلا جائے اور ان کے اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائے، ایسے وزیراعظم سے ملک کے بڑے مسائل حل کرنے کی کیا اُمید رکھی جاسکتی ہے۔ اس وقت ملک کا سلگتا ہوا مسئلہ بجلی کے بحران کا ہے لیکن بحران حل ہونے کی بہ جائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ وہ بجلی جو 24 گھنٹوں میں محض چند گھنٹو ں کے لیے آ تی ہے، اس کے نرخ بڑھانے کے لیے ہر مہینے کے بعد سمری تیار کی جاتی ہے۔ آج کے اخبارات میں جلی سرخی ہے کہ وزارتِ پانی و بجلی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری تیار کرلی ہے۔ کوئی حکومت سے پوچھے کہ جو چیز عنقا ہے، اس کی قیمتیں روز بروز کیوں بڑھ رہی ہیں؟ وزارتِ پانی و بجلی سے کوئی یہ دریافت کرے کہ جو بجلی شب و روز میں محض چند گھنٹوں کے لیے آتی ہے، اس کا وولٹیج اتنا کم کیوں ہوتا ہے جس کے لیے سٹیبلائزر لگانا پڑتا ہے اور وولٹیج کی اچانک کمی بیشی اور بے ترتیبی کی وجہ سے ہر روز صارفین کے قیمتی برقی آلات جلتے رہتے ہیں۔
ہمارے ہاں ذہنی افلاس کا سلسلہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے بزرجمہروں تک محدود نہیں بلکہ اس معاملے میں اپوزیشن کی پارٹیاں بھی کسی سے کم نہیں۔ اب تحریک انصاف کے عمران خان کو لیجئے، وہ پہلے پہل یہ نعرہ لگاتے تھے کہ انھیں اگر اقتدار ملا تو ہ ملک میں تبدیلی کا انقلاب برپا کریں گے۔ انھیں اگرچہ وفاق میں اقتدار ملنا نصیب نہیں ہوسکا، جس کا رونا وہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر روتے رہتے ہیں لیکن جب انھیں خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت ملی تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ خیبر پختون خوا کو ایک مثالی صوبہ بنائیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ گڈ گورننس کیا ہوتی ہے لیکن خیبر پختون خوا میں ابھی تک کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آئی۔ کیوں کہ عمران خان احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں لگے ہوئے ہیں۔ انھیں وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر جلوہ افروز ہونے کا اس قدر شوق اور جلدی ہے کہ اس کے لیے وہ خیبر پختون خوا کی اسمبلی توڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ خان صاحب کا تازہ ترین اعلان یہ ہے کہ ’’آزادی مارچ ہر صورت ہوگا، اسلام آباد پہنچ کر اتنا بڑا اعلان کریں گے کہ ہر شے بدل جائے گی۔‘‘ قدرت نے صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کی صورت میں عمران خان کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کا سنہری موقع دیا ہے لیکن وہ اس موقع کو ضائع کرنے پر تل گئے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں کرنے کے بہت سے کام ہیں۔ خان صاحب اگر اپنی دانش اور بصیرت سے کام لیں تووہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ صوبے میں پانی کے وافر مستقل ذخائر ہیں، وہ ایمرجنسی کی بنیاد پر ہائیڈل بجلی کے منصوبے شروع کروا سکتے ہیں۔ وہ صوبے کے معدنی ذخائر سے استفادہ کرکے ترقی و خوشحالی کی راہیں کھول سکتے ہیں۔ صوبے میں گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں، ان کی رائلٹی حاصل کرکے ترقیاتی کاموں کا آغاز کرسکتے ہیں۔ صوبہ بھر میں پختہ سڑکوں کا جال بچھا سکتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات منعقد کرواکر اقتدار و اختیار نچلی سطح تک منتقل کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے۔ لیکن کیا کیا جائے ہمارے وہ سیات دان جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں، عوام کے ساتھ گڈ گورننس کا وعدہ کرتے ہیں، انھیں جب اقتدار میں حصہ ملتا ہے تو وہ اس پر قانع ہونے کی بہ جائے پورے ملک پر بلا شرکت غیرے حکمران بننے کے خواب دیکھنے لگ جاتے ہیں۔
وطن عزیز کی بدقسمتی کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری فوج جس کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت ہے، وہ اپنی اصل ذمہ داریاں نبھانے کی بہ جائے غیر متعلقہ معاملات میں اُلجھی چلی آ رہی ہے۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے بطن سے کتنے المیے ظہور پزیر ہوں گے، یہ تو وقت بتائے گا کیوں کہ اس وقت وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ غیر جانب دار ذرائع کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے افغانستان ہجرت کرلی ہے۔ اگر ہمارے سکیورٹی ادارے ابتداء ہی سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ نہ دیتے یا انھیں وہاں رہائش کی اجازت نہ دیتے تو آج ملک و قوم دہشت گردی کے عفریت کی لپیٹ میں نہ ہوتے۔ فوج اور دیگر حساس سکیورٹی ادارے اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گرد گروہوں، تنظیموں اور جرائم پیشہ لوگوں کو پنپنے سے قبل ہی ختم کریں تاکہ بعد میں وہ ملک کے اقتدارِ اعلیٰ، سا لمیت اور ریاستی رِٹ کے لیے خطرہ نہ بن سکیں لیکن ہمارے ہاں ہمیشہ یہ ہوتا چلا آیا ہے کہ ایسے گروہوں کو پہلے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور جب وہ سکیورٹی رِسک بن جاتے ہیں تو ان کے خلاف فوجی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے جس میں عام طور پر بے گناہ اور معصوم عوام کا نقصان زیادہ ہوتا ہے۔
ہمارے مقتدر طبقوں کو سوچنا چاہئے کہ ملک کے حالات روز بروز خراب سے خراب تر کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ انھیں اپنے ذاتی اقتدار اور سیاسی رسہ کشی سے زیادہ وطن عزیز کی سلامتی، عوام کی خوشحالی اور ترقی کیوں عزیز نہیں ہے؟ باقی دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی اور ہم ابھی تک آپس میں دست و گریباں ہیں۔ کیا کوئی مسیحا اس ملک و قوم کے لیے بھی آئے گا یا ہم آپس میں ہی لڑ لڑ کر اس ملک اور خود کو تباہ و برباد کرکے رہیں گے؟ تباہی و بربادی کے لیے اگر ہم یک جا ہوسکتے ہیں تو امن و آشتی اور ترقی و خوش حالی کے لیے کیوں اکٹھے نہیں ہوسکتے؟ ہمیں سوچنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ ہم سوچنے کا موقع بھی گنوا بیٹھیں۔
700 total views, no views today


