سوات میں محکمہ تعلیم میں پی ایس ٹی کی بھرتی میں مبینہ طور پر خود کو احمدی مذہب کا قراردینے والے شخص کو بھرتی کرلیا گیا ،مسلم نشست پر اس کی تقرری کو دارالقضاء میں چیلنج کردیا گیا
،درخواست گذار کے مطابق عمر فاروق پشتوں سے مسلمان ہے خود کو احمدی بناکر نوکری حاصل کی ہے ،محکمہ تعلیم سوات کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ذوالفقارالملک کے مطابق عمر فاروق نے سٹی گورنمنٹ کراچی سے احمد ی مذہب کا سرٹیفیکیٹ پیش کرکے اس کی بھرتی کی گئی ہے غلط بیانی کی صورت میں محکمہ تعلیم تادیبی کارروائی کرے گا ،محکمہ تعلیم سوات میں فروری 21،22اور23فروری2014کو این ٹی ایس ٹیسٹ ہوا جس کے نتائج کا اعلان 3مارچ2014کو کیا گیا،این ٹی ایس ٹیسٹ میں تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقے تارگو کے رہائشی گوہرعلی نے68جبکہ اسی علاقے کے عمر فاروق نے 58نمبر حاصل کئے تھے سکول وائز رزلٹ میں گوہرعلی کا نمبرچھٹا جبکہ عمرفاروق کا انیسواں تھا جبکہ یونین کونسل وائز میرٹ لسٹ میں گوہرعلی کی پہلی پوزیشن تھی جبکہ عمرفاروق کا نام ہی شامل نہ تھا ،گوہر علی نے میڈیا کو بتایا کہ غیر مسلموں کے لئے صرف 0.5فیصد کا کوٹہ مختص تھا جس پر ایک غیر مسلم رودش سنگھ کی بھرتی ہوئی اور ٹاپ پوزیشن لینے کے باجود مجھے ڈراپ کرکے میری جگہ عمرفاروق کو اقلیت کی نشست پر بھرتی کیا گیا اور اسے جی پی ایس ٹانگو میں تعینات کیا گیا ہے حالانکہ عمرفاروق مسلمان ہے اور اس کے والد مسجد میں موذن ہے ،گوہرعلی نے محکمہ تعلیم کے اس فیصلے کے خلاف ممتاز قانون دان عزیز الرحمن کی وساطت سے دارالقضاء میں کیس دائر کیا ہے،قانون دان عزیز الرحمن نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ قانون اور آئین پاکستان کے تحت کسی بھی غیرمسلم کو مسلم نشست پر بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ذوالفقارالملک سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کاکہناتھا کہ عمرفاروق نے سٹی گورنمنٹ کراچی سے سرٹیفکیٹ لایا ہے جس میں اس کا مذہب احمد ی ہے جس کے تحت اس کو بھرتی کیا گیا ہے انہوں نے یہ بھی کہاکہ حکومتی پالیسی کے تحت اقلیت کے لئے تین فیصد کوٹہ مختص تھا تاہم انہوں نے کہاکہ اگر انہیں عمرفاروق کے مسلمان ہونے کا ثبوت مل جائے تو غلط بیانی پر نہ صرف اس کو برطرف کردیا جائے گا بلکہ اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی جاسکتی ہے
450 total views, no views today


