مینگورہ ، مینگورہ شہر کی تنگ سڑکیں ٹریفک کابوجھ برداشت کرنے سے قاصر،چند گاڑیوں کے استعمال کیلئے بنائی گئی سڑکوں پر لاکھوں گاڑیاں روز گزرتی ہیں، تنگی اور کھنڈرحالت کے باعث ٹریفک جام معمول بن چکا ہے ۔ شہرپرٹریفک کابوجھ کم کرنے کیلئے مینگورہ بائی پاس بنایاگیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی بوجھ کم نہ کرسکا اور پولیس لائن کے قریب بائی پاس روڈ بھی گھنٹوں جام رہتاہے۔شہر کی تنگ سڑکیں مزید بوجھ برداشت کرنے سے قاصرہیں۔ہربڑے شہرمیں سڑکوں کووسیع کیاجاتاہے
لیکن مینگورہ شہرکی بدقسمتی سے یہاں کے ممبران اسمبلی ایوان پہنچ کر گونگے اور بہرے ہوجاتے ہیں ۔7صوبائی اور دوقومی حلقوں سمیت دومخصوص نشستیں بھی سوات کے مسائل حل نہ کرسکے ۔تبدیلی کانعرہ لگالیں وہ بھی بے کاررہا۔ ایک طرف تنگ سڑکیں اور دوسری طرف ناجائز تجاوزات وریڑھی بانوں نے سڑکیں جام کرکے رکھ دی ہے ایک دفعہ شہرمیں داخل ہونے کے بعدشہر سے نکلنا مشکل ہوجاتاہے ۔ ٹریفک اہلکاروں کاتوکوئی اتہ پتہ نہی رہتا،نئے بھرتی جوانوں کے شولڈرز پرپیتے لگاکر ٹریفک درست کیاجارہاہے لیکن ان کے پاس تجربہ ہے ہی نہیں وہ تورڈیپارٹمنٹ سے بے خبرہے۔ ضلعی پولیس آفیسربھی ٹریفک پر توجہ نہیں دے رہے ایسا لگ رہاہے کہ وہ بھی انتظامی امورسے بے خبرہیں انتظامیہ ٹریفک مسائل پر توجہ اور حکمران سڑکوں کی توسیع کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ مسائل میں کمی آسکے۔
714 total views, no views today


