مینگورہ (سوات نیوزڈا ٹ کام) سوات میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار بچے سکولوں سے باہر ہیں۔اس حوالے سے گزشتہ روز سوات میں سکول داخلہ مہم تقریف کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سینکڑوں کی تعداد میں بچوں، والدین، اساتذہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد طاہر خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سوات تعلیم کی بہتری کیلئے کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہا جب تک بچوں کی تعلیم میں دلچسپی پیدا نہیں ہوں ۔ہم تعلیم میں اگے نہیں بڑھ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے سوات سائنس فسٹیول کے نام سے ایک سائنس میلے کا انعقاد کیا ہے۔ اس میلے کا مقصد یہ کہ بچوں میں سائنس سے محبت پیدا کی جائے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے فضل حکیم نے کہا کہ تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔ا نہوں نے کہا کہ تعلیم کیلئے سب سے زیاد کام پی ٹی آئی حکومت نے کیا ہے۔ڈسڑکٹ ایجوکیسن افیسر نواب علی نے کہا کہ ہمارا یہ عزم ہے کہ کوئی بھی بچہ سکول سے باہر نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ اچھی اور معیاری تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔انھوں نے کہ کہ ہم نے NTSپر اساتذہ کو بھرتی کیا ہے۔اور تمام سکولوں کو کمپوٹرائر ڈ کیا ہے۔جن میں بچوں ، والدین اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہر تعلیم ڈاکٹر جواد نے کہا کہ اس وقت سوات پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کی تعداد چھ لاکھ ہیں۔ ان چھ لاکھ بچوں میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان بچوں کو سکولوں میں لانے کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔تقریب میں باضابطہ طور پر سلمان کو داخل کر اکر داخلہ مہم کا آغاز کیا گیا۔تقریب کے بعد ایک اگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔
1,052 total views, no views today



