سوات میں حالات خراب ہونے سے پہلے ایک لاکھ 43 ہزار 324 ٹن پھل اور ایک لاکھ 28 ہزار 18 ٹن سبزیوں کی سالانہ پیداوار حاصل ہوتی تھی۔ پاکستان پارٹی کلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ بورڈ کے مطابق سوات میں 2007ء اور 2008ء کے دوران میں 24 ہزار 997 ٹن آڑو، 6 ہزار ٹن آلوچہ، 7 ہزار 515 ٹن ناشپاتی، 300 ٹن انگور، 182 ٹن بادام، 50 ہزار 355 ٹن سیب، 4 ہزار ٹن مالٹا کینو اور 6 ہزار 450 ٹن خوبانی و دیگر پھیل پیدا ہوئے۔ جب کہ سبزیوں میں ایک لاکھ 10 ہزار ٹن پیاز، 800 ٹن لہسن، 66 ہزار 57 ٹن ٹماٹر، 16 ہزار 559 ٹن آلو اور دیگر سبزیاں پیدا ہوئیں۔ یہ تو مختصرذکر کیا ہم نے پاکستان پارٹی کلچر ڈیویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ بورڈ کے سوات کے سبزیوں اور پھل کی پیداوار کا۔ اب مطلب کی طرف آجاتے ہیں۔ جس پیداوار کا ذکر کیا گیا ہے انسان کی تمام تر دوڑ دھوپ اسی رزق کو حاصل کرنے کی لیے ہوتی ہے جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح انسان کو زندہ رہنے کے لیے رزق کی ضرورت ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی حکومت کو تمام توجہ زراعت پر دینی چاہیے لیکن یہاں میں پاکستان کی سطح پر نہیں صرف سوات کی سطح پر بات کروں گا۔
ملک، صوبہ اور ضلع کو اتنی بڑی مقدار میں سبزیوں اور پھل کی پیداوار دینے کے باوجود ضلع سوات میں محکمۂ زراعت کی کارکردگی کیا ہے؟ بتایا جائے ضلعی سطح پر کتنی زرعی لیبارٹریاں ہیں؟ ضلعی سطح پر کتنے زرعی سنٹرز ہیں؟ بتایا جائے محکمہ زراعت کی کتنی ٹیمیں کتنے یونین کونسلز میں زرعی سنٹرز یا لیبارٹریاں قائم کرچکی ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ہم بھی اس سوات کے رہنے والے زمین دار لوگ ہیں۔ یہاں نہ کسی بیچ کی کوالٹی ہوتی ہے، نہ کسی کسان کو سستی قیمتوں پر زرعی ادویہ دست یاب ہیں اور نہ ہی کسانوں کے لیے ادویہ اسپرے کرنے کے لیے اسپرے مشینیں دست یاب ہوتی ہیں۔ نہ کوئی سرکاری زرعی ماہر کے مفید مشورے حاصل ہوتے ہیں، نہ حکومت نے کبھی سوات کے کسانوں کی مشکلات معلوم کیں اور نہ ہی کسانوں نے اپنے حقوق کے لیے کبھی آواز اُٹھائی۔ سوات کے لوگوں کا دار و مدار باہر ممالک کی نوکریوں یا زراعت پر ہے لیکن بدقسمتی سے نہ تو باہر ممالک میں نوکریاں کرنے والے جو ماہانہ اربوں کما کر اس ملک میں لاتے ہیں، کے لیے کوئی آسانی یا رعایت پیدا کی گئی اور نہ ہی بنیادی رزق پیدا کرنے والے کسانوں کے لیے کوئی سہولت فراہم کی گئی۔ یہاں کسان حضرات پرائیویٹ ناتجربہ کار دکان داروں سے بیچ اور زرعی ادویہ لینے پر مجبور ہیں جن کی منہ مانگی قیمت وصول کی جاتی ہے اور بیچ اور زرعی ادویہ کا بھی کوئی ذمہ دار ادارہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تحصیلوں میں کئی بار کسانوں کا کروڑوں کا نقصان غلط بیچ کی وجہ سے ہوا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کسان بھی یونین کونسلز اور تحصیل و ضلعی سطح پر ایک کسان یونین وجود میں لائیں، جو حکومت کو سوات میں زراعت پر کام کرنے پر مجبور کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سوات میں گاؤں گاؤں زرعی آفس بنائے جن میں ماہرین کی ٹیم کے ساتھ ساتھ زرعی آلات، زرعی ادویہ اور سہولیات موجود ہوں۔ اس طرح کسانوں کو مالی فائدہ ہوگا اور ملک کو گزشتہ پیداوار سے دگنی پیداوار حاصل ہوگی۔
امید ہے صوبائی حکومت اور وزارتِ محکمہ زراعت ہمارے کسانوں کے مسائل کا اور اپنے محکمے کی کوتاہی کا نوٹس لے گا اور کچھ ایسے اقدامات کرے گا جس سے سوات کے کسانوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
*۔۔۔*۔۔۔*
792 total views, no views today


