محکمۂ جنگلات میں عرصہ تینتیس سالہ ملازمت کے دوران میں اپنے حاصل کردہ تجربات کی روشنی میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ ماحولیات کے اس محکمے میں ناکامی، خسارہ، جنگلات جیسی انتہائی قیمتی دولت کے گل سڑنے، ٹمبر اسمگلنگ اور عوام کے پریشان کن مسائل کے اصل اسباب کا زیادہ تعلق بد انتظامی (mismanagement) سے ہے، جب کہ کرپشن ایک ضمنی سبب ہے۔
صوبہ خیبر پختون خوا کے بلند و بالا پہاڑوں پر واقع اس قدرتی خودرو قیمتی قومی دولت (green gold) کی تباہی و بربادی دراصل 1992ء میں اس وقت شروع ہوئی جب انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچرل ریسورسز (I.U.C.N) نام کی ایک بین الاقوامی تنظیم کی سفارش پر سیلابوں اور آلودگی کی روک تھام کے لیے ایک عالمی ایجنڈے کے تحت درختوں کی ناجائز کٹائی پر پابندی نافذ کی گئی، تاکہ دُنیا میں نباتات، قدرت کے مجوزہ توازن پر قائم رہیں، کیوں کہ اس کرۂ ارض پر نوع انسان کی زندگی کی بقا نباتات کے ایک متوازن مقدار کی مرہون منت ہے۔
اگرچہ یہ حکمت عملی اس کرۂ ارض کے حسن و جمال اور پائیدار زندگی قائم کرنے کے لیے وقت کی آواز اور ایک ناگزیر ضرورت تھی، لیکن اس کے عملی نفاذ میں پاکستان کے پالیسی سازوں نے اس حکمت عملی کی غلط اور ناقص تعبیر کرکے قوم و ملک کو بہت بڑے نقصان اور خسارہ سے دوچار کیا۔ دُنیا کے دو سو باون ممالک میں سے صرف پاکستان نے اس حکمت عملی کی غلط تعبیر کرکے جنگلات سے متعلق سائنٹفک مینجمنٹ کے تحت درختان کی ہاروسٹنگ سے دستبردار ہوکر، ناجائز اور بے تحاشا کٹائی کے سارے دروازے کھول دیے۔
جنگلات کی ترقی اور توسیع کے پیش نظر گزشتہ عرصہ تقریباً پچاس سال سے چند سال تک فارسٹ مینجمنٹ سنٹر (ایف ایم سی) بعد میں نام تبدیل کرکے ’’فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل‘‘ کے نئے نام سے صرف تھیوریز کی حد تک اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہا ہے، جس میں صوبہ خیبر پختون خوا کے ہائی ہلز پر واقع اس گرین گولڈ کے انتظام، انصرام پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن سال 1992ء سے لے کر تک تادم تحریر جنگلات ہاروسٹنگ کے مد میں کسی قسم کے قانونی سائینٹیفک انتظام و انصرام کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا، جس کے ردعمل میں غیر قانونی اور ناجائز کٹائی کے سارے دروازے خود بخود کھل گئے، جب کہ سائنٹفک انتظام و انصرام کے لیے قائم شدہ مذکورہ ادارہ ایک عضو معطل کی طرح صرف تھیوری کی حد تک لاکھوں روپے خرچ کرنے کے لیے قائم و دائم ہے۔
’’فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل‘‘ کے نام پر قائم شدہ چھے یونٹ پر مشتمل اس ادارہ کے سربراہ کنزرویٹر کے تحت چھے ڈی ایف اوز، اسی سائنٹفک انتظام میں مصروف عمل ہیں، لیکن فارسٹ ہاروسٹنگ پر سال 1992ء میں لگائی ہوئی اِس غیر فطری پابندی کی وجہ سے ہر ورکنگ پلان کی مجوزہ مکعب فٹ ٹمبر برآمد ہونے کی بجائے گل سڑنے یا ناجائز کٹائی کے لیے دوسرے ورکنگ پلان کا بیگ لاگ بن جاتا ہے۔ عملی طورپر کسی نفاذ کے بغیر صرف تھیوریز کا یہ سلسلہ گزشتہ تیئس سال سے روبہ عمل ہونے کے انتظار میں جاری ہے۔
غیر فطری طریقہ کار کی اس پابندی کو جب زمینی حقائق کے ساتھ ٹکراؤ کے چیلنجوں نے غلط ثابت کیا، تو پابندی کو مکمل طورپر ہٹانے کی بجائے 2003ء میں جزوی اور عارضی طورپر صرف ڈرائی اور ونڈ فال درختان ہاروسٹنگ کی اِجازت دے دی گئی، لیکن عملی تجربہ میں اِس طریقہ کار کی ہاروسٹنگ کے نقصانات اس کے فوائد کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ثابت ہوئے۔ خاص طورپر انڈس کوہستان میں داسو فارسٹ ڈویژن نے ڈرائی ونڈ فال کی آڑ میں سبز درختان کو بھی نہایت بے ہنگم اور خلاف قانون طریقہ سے کاٹ کر خلاف ورزیوں کی حد کراس کر دی۔ سبز درختان کو نظر انداز کرکے، صرف ڈرائی اور ونڈ فال ہاروسٹنگ کی اس غلط پالیسی کے نقصانات دیکھ کر، صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت نے ڈرائی وینڈ فال ہاروسٹنگ پر بھی فروری 2014ء کو پابندی لگا کر قوم کو خوش خبری سنا دی۔ ’’یہ کہ 1992ء میں نافذ ہونے والی پابندی کو ختم کرکے اس حکمت عملی کی درست سمت تعبیر، شروع کی جائے گی اور سائنٹفک انتظام و انصرام کے تحت فارسٹ ہاروسٹنگ کا کام جلد از جلد شروع کیا جائے گا۔‘‘
پوری قوم اس خوش آئند فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختون خوا کے کیبنٹ کا شکریہ ادا کرتی ہے اور قوم و ملک کو فائدہ پہنچانے والے اس کارِ خیر میں اپنے آپ کو شامل کرکے چند مزید تجاویز پیش کرنا چاہتی ہے جو اس حل طلب مسئلہ کے حل میں نہایت ہی مفید اور نفع بخش ثابت ہوں گی اور ان پر عمل درآمد سے بڑی حد تک کرپشن کے دروازے بھی بند ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے چند اہم تجاویز یہ ہیں۔
1:۔ 1992ء سے جنگلات ہاروسٹنگ پر نافذ پابندی والے احکامات کی درست سمت تعبیر، تشریح کرکے سائنٹفک مینجمنٹ کے تحت فارسٹ ہاروسٹنگ کا انتظام و انصرام جلد از جلد اولین فرصت میں شروع کیا جائے۔ گزشتہ عرصہ تیئس سال سے اس طریقہ کار کے حق میں بے شمار میٹنگز منعقد کرکے سمریز لکھی جاچکی ہیں۔ یہ کام مزید تاخیر اور تعطل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
2:۔ ورکنگ پلانز کے مجوزہ کمپارٹمنٹ میں سلیکشن سسٹم کے تحت فوری طورپرMain مارکنگ شروع کی جائے۔
3:۔ مارکنگ درختان کے دوران میں اول سے آخر تک متعلقہ ڈی ایف او کی موجودگی نہایت ہی لازمی قرار دی جائے۔نچلا اسٹاف مثلاً فارسٹ گارڈ اور فارسٹر سے مارکنگ کرانے کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔
4:۔ مارک شدہ درختان کی ہاروسٹنگ کے دوران میں اسٹمپ سائٹ پر پندرہ فی صد ڈی ایف او کی طرف سے اور تیس فی صد ایس ڈی ایف او کی طرف سے فیلڈ بک میں چیکنگ کے دستخطوں کو لازمی قرار دیا جائے۔
5:۔ ہاروسٹنگ کے دوران میں سلیپران (scants) میں پینتالیس فی صد جب کہ گیلی جات (logs) میں اسی فی صد سے زیادہ برآمدگی کی صورت میں اسٹمپ سائٹ پر متعلقہ ڈی ایف او کے ہم راہ ڈی ایف ایم کے مشترکہ چیکنگ کے دستخطوں کو بھی لازمی قرار دیا جائے۔
6:۔ ایف ڈی سی کی وساطت سے ہاروسٹنگ کی صورت میں اسٹینڈنگ والیوم کی اکائی سے فی مکعب فٹ کا پری فکسڈ اسٹمپچ ریٹ مقرر کرنے کی بجائے ہمیشہ کے لیے نیٹ سیل کا طریقہ کار اپنایا جائے۔ گزشتہ چند سالوں میں پری فکسڈریٹ کے طریقہ کار سے ایف ڈی سی نے مالکان جنگل اور محکمہ جنگلات کا بہت زیادہ اِستحصال کیا ہے۔ کیوں کہ عوام اس ٹیکنیکل استعمال سے بے خبر اور نابلد، جب کہ محکمہ جنگلات کے بعض اہلکارشاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار دیکھے گئے۔
7:۔ ’’فارسٹری پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سرکل‘‘ نام والے ادارہ کے آخری ورکنگ پلانز کے متعین وقفہ میں مزید دو سال کی توسیع (extention) کرکے، تمام سابقہ مجوزہ بیک لاگ والیوم کی مارکنگ کی جائے۔
8:۔ ڈرائی، ونڈ فال ہاروسٹنگ کی مروجہ پالیسی پر سخت پابندی لگا کر صرف جاری کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ سائنٹفک مینجمنٹ شروع ہونے کی صورت میں ڈرائی، ونڈ فال درختان ہاروسٹنگ کو ترجیحی بنیادوں پر خود بہ خود اولیت دی جائے گی۔
9:۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2003ء سے ڈرائی ونڈ فال ہاروسٹنگ شروع کرنے کے باوجود صوبہ خیبر پختون خوا کے ہائی ہلز پر کروڑوں مکعب فٹ کا ٹمبر گل سڑنے کے انتظار میں پڑا ہے۔ اس قیمتی دولت کے ضیاع اور بربادی میں جہاں چند قومی اور سرکاری مسائل حائل ہیں، وہاں پر محکمہ جنگلات کے تاخیری حربوں، سہولت کی بجائے مسائل اور مشکلات پیدا کرنے کا فطری رحجان، ہر چیز میں کیڑے نکالنے کی عادت، چیک اینڈ بیلنس کی بجائے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار نے ملک و قوم کو اس خسارہ سے دو چار کیا ہے۔
ملک و قوم کے اِس حل طلب مسئلہ پر عوام کی چیخ و پکار اور احتجاج پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا ردِ عمل بھی قومی مفاد میں نہیں۔ ممکن ہے، ان کا یہ ردِ عمل نیک نیتی پر مبنی ہو، لیکن اِس خاص مسئلہ میں نان ٹیکنیکل، سائنٹفک سوچ اور اپروچ کی وجہ سے بات کی تہہ تک پہنچنا خٹک صاحب کے لیے مشکل ہوگا، خٹک صاحب کی مثبت سوچ پر ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد اس حل طلب مسئلے کے بارے میں وہ ایک ٹیکنیکل اور سائنٹفک اپروچ حاصل کرکے قوم اور ملک کے مفاد میں فیصلہ صادر فرمائیں گے۔
1,054 total views, no views today


