ہرسال قومی اورصوبائی اسمبلی میں پیش کئے جانے سے قبل اوربعد میں میڈیاپر بجٹ کا خوب چرچا ہوتاہے ۔حزب اقتدار اورحزب اختلاف سے تعلق رکھتے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر تعریف وتنقید کے ساتھ ساتھ مختلف ماہرین اقتصادیات و معاشیات بھی اپنی ماہرانہ رائے دیتے ہوئے اس پر تجزئیے پیش کرتے رہتے ہیں سواکثرلوگ بجٹ کے نام سے واقف ہوتے ہوں گے یہ تو کہاجاسکتاہے اور تخمینے کی لاگت کو بجٹ کہاجاتاہے شائد بیشترشہری یہ بھی جانتے ہوں گے لیکن بجٹ درحقیقت ہوتا کیا ہے کیسے بنایاجاتا ہے ،کن کن مراحل سے گزرتاہے اور کن کن چیزوں پر مشتمل ہوتاہے اورآئین پاکستان کی روشنی میں اس میں منتخب ممبران اسمبلی کا کردارکیا ہوتاہے اور کیا ہونا چاہیے شہری اس تمام عمل سے آگاہ ہوں گے کہ نہیں یہ وثوق سے نہیں کہاجاسکتاالبتہ اگر میں اپنی بات کروں کہ چند دن قبل تک میں بھی اس حوالے سے یکسر لاعلم تھا تومیرااندازہ یہ ہے کہ بیشتر شہری بجٹ بنانے کے مراحل اور اس کی تکمیل کے عمل سے ناواقف ہی ہوں گے۔مردان میں میڈم عذراکی زیرسرپرستی قائم غیرسرکاری سماجی تنظیم پاک وومن نے 11تا12جولائی 2014 کوسوات کے پرفضاء اور خوبصورت سیاحتی علاقہ بحرین کے ایک مقامی ہوٹل میں مالاکنڈ ڈویژن کے ورکنگ جرنلسٹس کے لئے بجٹ کے حوالے سے ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیاتھاجس میں دیرلوئر،دیراپر،سوات مالاکنڈ کے اضلاع سے تعلق رکھتے کم وبیش چالیس صحافیوں کے ساتھ مجھے بھی شریک ہونے اوربجٹ کی اصل حقیقت سے بڑی حد تک آگاہی حاصل کرنے کاموقع ملا۔یہاں یہ ذکر نہ کرنازیادتی ہوگی کہ بجٹ پر پچھلے کئی سالوں سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ملک مسعوداس تربیتی ورکشاپ کے ٹرینر تھے جنہوں نے ایک بہترین استاد کا کردار نبھاتے ہوئے نہ صرف ورکشاپ کے شرکاء کو بجٹ کے حوالے سے اہم معلومات سے نواز بلکہ اپنے دلکش اندازاوردلچسپ طرزگفتگوسے انہیں خاصامحظوظ بھی رکھا۔بہرحال اب آتے ہیں بجٹ کی جانب جوکہ آج کا اصل موضوع کالم ہے ۔بجٹ دوحصوں پر مشتمل ہوتاہے ترقیاتی بجٹ اور غیر ترقیاتی بجٹ جسے کرنٹ بجٹ بھی کہاجاتاہے اوربجٹ میں آمدن اوراخراجات کاتخمینہ لگانے کے ساتھ ساتھ وقت کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے تاہم سالانہ ترقیاتی منصوبہ جات کی تیاری اور منظوری کاطریقہ کارکیاہوتاہے مذکورہ دوروزہ تربیتی ورکشاپ میں صحافیوں کوقابل ذکر یہی کچھ سکھانے کی کوشش کی گئی جبکہ یہاں یہ بتانابھی ضروری سمجھتاہوں کہ تربیتی ورکشاپ کامرکزومحورصوبہ خیبرپختونخواکابجٹ ہی رہا۔بتا یاگیا کہ بجٹ میں شامل کرنے کی غرض سے منصوبوں کو بروقت جمع کرانے کے لئے ماہ نومبر میں تمام متعلقہ اداروں کو مطلع کیاجاتاہے اور پھر جنور ی کے مہینے میں تمام متعلقہ اداروں سے منصوبہ جات وصول کئے جاتے ہیں،ماہ جنوری اور فروری میں میں تمام متوقع منصوبوں کی محکمہ خزانہ سے پی اینڈ ڈی محکمے کورپورٹ پیش کی جاتی ہے،مارچ کے مہینے میں منصوبوں کا اندازہ لگایاجاتاہے اور اس کا پہلاکتابچہ بھی تیارکیاجاتاہے، ماہ اپریل میں ترتیب شدہ کتابچہ نظرثانی کے لئے متعلقہ اداروں کو پیش کیاجاتاہے اور پھر مئی کے مہینے میں منصوبہ جات کا حتمی کتابچہ تیارکیا جاتا ہے،مئی اور جون کے مہینے میں یہ مرتب کردہ حتمی کتابچہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکو دیاجاتاہے، جون کے مہینے میں تمام صوبائی وزراء سے مشاورت اور وضاحت طلب کرنے کے بعد حتمی سالانہ ترقیاتی منصوبہ جات کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجاتاہے جبکہ اسمبلی سے منظورہونے کے بعد تمام ترقیاتی منصوبہ جات کو کتابچے کی صورت میں چھپواکر تمام متعلقہ اداروں کو بھجودیاجاتاہے تاکہ منصوبوں پر عملی کام شروع کیا جا سکے۔منصوبوں پر نظرثانی کے عمل کی رُوسے پہلے سہ ماہی کاجائزہ اکتوبر،دوسرے سہ ماہی کاجائزہ جنوری،تیسرے سہ ماہی کاجائزہ اپریل اور سالانہ نظرثانی کا جائزہ جولائی میں لیاجاتا ہے۔یکم جولائی سے ہر مالی سال کاآغاز ہوتاہے،10جولائی تک متعلقہ محکموں سے سالانہ جائزہ شدہ پیش رفت یاپراگریس رپورٹ کے ساتھ ساتھ فنڈز میں کمی بیشی سے متعلق وضاحت طلب کی جاتی ہے ،ماہ جولائی کے آخرمیں سالانہ ترقیاتی منصوبہ اے ڈی پی کے ہر سیکٹر کاجائزہ لیاجاتاہے اسی طرح سال کے ہر ماہ میں بجٹ سے متعلق حکومت اور سرکاری محکموں کے مابین خط وکتابت اور جائزہ اجلاسوں کاترتیب وار سلسلہ جاری رہتاہے۔ابتداء میں ذکر ہواتھا غیر ترقیاتی یاکرنٹ بجٹ کاتو اس میں تنخواہوں،پنشن اور مرمت وغیر کے لئے فنڈزمختص کئے جاتے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ میں نئے تعمیراتی منصوبوں کے لئے رقم مختص کی جاتی ہے۔یہاں بتایاگیا کہ سال 2013-14کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کاپیش کردہ بجٹ 344ارب روپے کاتھالیکن یہ اَمرباعث تشویش ہے کہ اس میں 344ارب روپے کی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے محض 118ارب روپے رکھے گئے تھے۔ورکشاپ میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)ایوارڈزکے حوالے سے بھی شرکاء کومفصل اندازمیں بتایاگیاکہ ہرسال قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں ایک فارمولے کے تحت ہرصوبے کو اس کا حصہ دینے کی منظوری دی جاتی ہے۔بتایاگیاکہ پہلے ہر صوبے کو مرکز سے براہ راست 37ارب روپے ملاکرتے تھے اب این ایف سی ایوارڈ کے تحت 68ارب روپے ملتے ہیں اور جو فارمولہ ترتیب دیاگیا ہے اس کے تحت پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختون خوا کو14.62فیصداور صوبہ بلوچستان کو 9.6فیصد آبادی کے تناسب سے حصہ ملتاہے اس کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو (جی ایس ٹی)جنرل سیلزٹیکس بھی ملنے لگااس سے قبل یہ براہ راست وفاق کو ملتاتھا۔یہاں صنفی بجٹ پر بھی بحث کی گئی اور بتایاگیاکہ صنف کامطلب معاشرہ میں مردوزن کے کردارکاہوتاہے نہ کہ جنس کاجبکہ بجٹ میں مردوزن کی برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی ضرورت کومدنظر رکھتے ہوئے رقم مختص کی جائے گی۔اگرچہ بجٹ سے متعلق اس تربیتی ورکشاپ میں دیگر بھی کئی اہم معاملات پر ٹریننگ دی گئی لیکن ایک کالم میں ان کو تفصیل سے بیان کرناممکن نہیں اور اگرچہ مذکورہ ورکشاپ کے انعقاد پر پاک وومن آرگنائزیشن قابل تعریف ضرور ہے۔ کیوں کہ اس سے مالاکنڈکے صحافیوں کوبجٹ جیسے اہم سبجیکٹ پر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا تاہم کوئی ایک تربیتی ورکشاپ کافی نہیں ہوگی صحافیوں کی تربیت اور ان کی مدد سے شہریوں کو معلومات کی فراہمی کے عمل میں بلکہ ضروری ہے کہ پاک وومن اور ا س کی تقلید میں دیگر غیر سرکاری سماجی تنظیموں کی جانب سے صحافیوں کی اس قسم کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھاجائے ۔
829 total views, no views today


