ریجنل پولیس افسر ملاکنڈ ریجن عبدا للہ خان نے سوات ، بونیر ، شانگلہ ، دیر لوئیر ، دیر اپر اور چترال کیلئے رمضان المبارک کے اخری دس ایام ، چاند رات اور عید الفطر ، عید چھٹیاں 2014 کے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے احکامات ہر صور ت میں عملی جامہ پہنانے کی ہدایت کی ہے
، انہوں نے کہا کہ پختون معاشرہ میں چاند رات پر ہوائی فائرنگ کا رجحان صدیوں پرانا ہے اور پختون قوم ہوائی فائرنگ کو فخری انداز میں پیش کرتے ہے ، یہ لمحاتی خوشیاں اور مہم جوئی بعض اوقات مصیبت اور افسوس کی وجہ بن جاتی ہے ، جب ایک معصوم شہری ہوائی فائرنگ کے ضد میں اکرلگ جاتا ہے ، ایسے حادثات سے بچنے کیلئے تمام ذرائع بشمول میڈیا ، بینروں کی نمائش ، نامور بزرگوں اور مذہبی افراد کے ساتھ میٹنگ اور خصوصی طور جمعتہ الوداع کے موقع پر عوام الناس کو اگاہی دی جائے اور ڈی پی اوز کو چاہیئے کہ وہ ایسے صوت حال سے احسن طریقے سے نمٹنے کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی ترتیب دیں ، انہوں نے کہا کہ ایک پہیہ پر موٹر سائیکل ڈرائیونگ اور مقررہ حد سے زیادہ پٹاخے رکھنے پر پابندی لگاکر اس پر سختی سے عمل کرنے کو یقینی بنایا جائے ، اندریں سلسلہ دفعہ 144CRPC کے نفاذ کے سلسلے میں دفتر ڈپٹی کمشنر کے ساتھ کوارڈی نیشن کی جائے ، عید کی چھٹیوں کے دوران ٹاون شپ اور افسراباد کالونی کے اکثر رہائشی عید منانے کے خاطر اپنے اپنے ابائی علاقوں میں جاتے ہیں ان کو مناسب ہدایت کی جائے کہ وہ اپنے نئے چوکیداروں کا بندوبست کریں تاکہ کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ رونماء نہ ہوسکے ، اور تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی جائے کہ وہ ان متعلقہ ٹاؤن اور کالونیوں کیلئے مناسب بیٹ کا بندوبست کریں ، عید کے چھٹیوں کے دوران تمام پرنسپل ، ہیڈماسٹر اور دوسرے اداروں کے سربراہان کو سکولوں ، ہسپتالوں اور دوسرے اہم مقامات میں چوکیداروں کی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے تاکہ کسی قسم کی دہشت گردانہ واقعہ رونمانہ ہو، پبلک مقامات ، شاپنگ پلازوں آڈوں ، سرائے ، بڑے مساجدوں ، پلوں ، چیک پوائنٹ ، عید میلوں کیلئے مناسب سیکورٹی فراہم کی جائے ، تاکہ جیب تراش اور دوسرے جرائم پیشہ لوگوں پر کھڑی نگرانی رکھی جائے ، اسی طرح بازاروں اور مستورات کے انے جانے کی مقامات پر لیڈیز کا نسٹیبلا ن کی ڈیوٹیاں گلادی جائے ، عید کے دنوں میں زیادہ تر مفرور لوگ عید منانے کے خاطر اپنے گھروں میں واپس اجاتے ہیں ، ان کے گرفتاری کی خاطر ایک مضبوط اور قابل فہم منصوبہ بندی کرکے ان پر خفیہ چھاپے لگائے جائے ، بعض اوقات خونی دشمنی رکھنے والے مخالف لوگ علاقے کے مسجد میں عید کے نماز ایک ساتھ پڑھتے ہیں ، ایس ایچ او کو ان لوگوں کیلئے مناسب سیکیورٹی اور نقص امن کے خاطر مختلف مسجدوں میں نماز عید ادا کرنے کے ہدایت کرنے چاہیے ، صوبائی اور قومی ممبران کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور گنر بدوران عیدان کے ساتھ موجود رہیں گے ، شہریوں کے جان ، مال کے حفاظت کے خاطر بدوران عید اور جمعتہ الوداع قابل فہم سکیورٹی پلان مرتب کیا جائے، ایس ڈی پی اوز اورایس ایچ اوز کو ان کے نگرانی کی ہدایت کی جائے ، انہوں مزید کہا کہ دوران عید تما ججوں ،صوبائی اور قومی اسمبلی اور دوسرے اہم شخصیات کے رہائش گاہوں پر مناسب سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے ، انچارج ڈی ایس بی اور ایس بی کو ہدایت کی جائے وہ تما م شاپنگ سنٹروں اور وسرے اہم مقامات کے لئے مناسب سکیورٹی کا بندوبست کریں ، انہوں نے کہا کہ تمام ایس ایچ اوز کوبس اڈوں، بازاروں ، سرائیوں اور پلوں کی سکیورٹی کے خاطر مناسب بندوبست کی ہدایت کی جائے ، تمام اہم مقامات بینک، مارکیٹ اور دوسرے مالیاتی اداروں میں ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو چوکس رہنے کی ہدایت ہو،تما م شاہراہوں پر سیکورٹی کے خاطر گشتوں کا انتظام کیا جائے ، تما م اڈوں کے منیجر ز کو ہدایت کی جائے وہ گاڑیوں کو بک کرتے وقت مسافروں کی شناخت کویقینی بنائے ، تما بک گاڑیوں کو جگہ بہ جگہ چیک کرنے کی پوسٹ قائم کریں، تمام پمپ منیجر کو ہدایت کی جائے وہ سورج ڈھلنے کے بعد زیادہ رقم پمپ میں نہ رکھے اور چوکیداران کو ہدایت کرے کہ وہ رات کو پمپ میں موجود رہے ، انہوں نے کہا کہ نقص امن کے پیش نظر ضلع میں مواثر ناکہ بندی کیلئے موبائلز کا مختص ہونا ضروری ہے ، سکول ، کالج وغیرہ کے چوکیداروں کو موبائل پر چیک کرنے اور چوکس رہنے کی ہدایت کرنے چاہیے تاکہ ان موجودگی ڈیوٹی کے جگہ پر یقینی ہواور کسی قسم کا ناخوشگوار وقوعہ رونما نہ ہو، انہوں نے موبائل پولیس ، ریڈر ٹریفک سکواڈ کو اپنے اپنے پوائنٹ عیدسے پہلے کے اجتماعات کے موقع پر موجود رہنا چاہئے ، تمام وی آئی پیز کو اپنے گھروں پر عید کے تہوار کے خاطر جانے کیلئے ان کو سپیشل پولیس سکیورٹی دینے چاہیئے ، بم ڈسپوزل سکواڈ ہر وقت تیاررہنا چاہئے ۔
531 total views, no views today


