انتظامیہ کی جانب سے ڈینگی آگاہی مہم اورجگہ جگہ اسپر کرانے کے دعوے دھر کے دھر ے رہ گئے،چند محلوں کے علاوہ پورا شہر اسپرے سے محروم،بروقت آگاہی مہم اورسپرے نہ کرانے کی وجہ سے محلہ امانکوٹ ڈینگی کا مسکن بن گیا،درجنوں افرادمتاثر،دیگرمحلوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں
،عوام میں تشویش کی لہر،حکام کیلئے لمحہ فکریہ، تفصیلات کے مطابق پچھلے سال کی طرح اس سال بھی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں ڈینگی جراثیم نے سراٹھا کر درجنوں افرادکولپیٹ میں لے لیا ہے،اس حوالے سے انتظامیہ، محکمہ صحت اورٹی ایم اے کی طر ف سے دعوے سامنے آرہے ہیں کہ شہربھر میں عوام کونہ صرف ڈینگی سے بچاؤ کی تدابیرسے آگاہ کیاجارہا ہے بلکہ جگہ جگہ ڈینگی ماراسپرے بھی کرایا جارہا ہے مگرحقیقت یہ ہے کہ مینگورہ میں چندایک مقامات کے علاوہ کہیں بھی آگاہی یا اسپرے مہم نظر نہیں آرہی ہے جس سے حکام کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں جس کا زندہ ثبوت محلہ امان کوٹ ہے جواس وقت ڈینگی کامسکن بناہواہے جہاں پر روزانہ کسی نہ کسی مریض میں ڈینگی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے اگرحکام نے بروقت اقدامات کئے ہوتے تو آج یہ محلہ ڈینگی کی لپیٹ میں نہ ہوتا ،ٹی ایم اے اہلکار تو شہرمیں روٹین کی صفائی ستھرائی میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے ہیں تو ڈینگی کے خاتمہ کیلئے چلائی جانے والی مہم کوکامیاب بنانے میں کیا کرداراداکریں گے؟اسی طرح شہر کے دیگر محلوں میں بھی ڈینگی کا خطرہ موجود ہے مگر محکمہ صحت کی جانب سے صرف زبانی دعوے ہورہے ہیں اوراس سلسلے میں کسی قسم کے عملی اقدامات سامنے نہیں آرہے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں کافی تشویش پائی جاتی ہے،واضح رہے کہ پچھلے سال مینگورہ میں سینکڑوں افرادڈینگی سے متاثر اور درجنوں جاں بحق ہوئے تھے ،عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ اس سال ڈینگی کی روک تھا م اورخاتمہ کیلئے موثر اقدامات اٹھاتی مگروہ ایسانہ کرسکی یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی ڈینگی نے پرپرزے نکال کردرجنوں افرادکو لپیٹ میں لے لیا ہے اورمزید لوگوں کے سروں پر خطر کے سائے منڈلاتے نظر آرہے ہیں،مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام ڈینگی کے خاتمہ کیلئے فوری اقدامات اٹھاکر عوا م کو اس مصیبت سے چھٹکارہ دلائیں تاکہ ان میں پائی جانے والی بے چینی اورتشویش کا خاتمہ ہوسکے
572 total views, no views today


