مجھے نہیں معلوم کہ ریاست سوات کے دور میں جنرل پوسٹ آفس کب بنا تھا۔ لیکن مجھے اتنا ضرور یاد ہے کہ میں بچپن میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں مینگورہ سے جب بھی سیدوشریف جایا کرتا تھا، تو پوسٹ آفس کے دروازے تک بنی اونچی سیڑھیاں اسٹپ بائی اسٹپ مجھے بہت بھلی لگتی تھیں۔ واضح رہے کہ پوسٹ آفس سڑک سے کافی اونچا بنایا گیا ہے۔ ڈاک خانہ کے ساتھ سیمنٹ کی ایک پکی سیاہ ہولڈنگ بورڈ پر سیدو شریف سے مختلف مقامات تک فاصلہ اُس بورڈ پر کلومیٹر کے حساب سے آج بھی درج ہے۔ میں بچپن میں اسے غور سے دیکھتا تھا۔ کالام کا سیدوشریف سے فاصلہ ننانوے کلومیٹر۔ اس طرح بحرین، مدین، میاں دم وغیرہ (علاقوں) کا سیدو شریف سے فاصلہ بھی اس پر رقم تھا۔ یہ بورڈ اب بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
بے شک والئی سوات (مرحوم) ایک نفیس انسان تھے۔ اپنی خوب صورتی اور نفاست کو اپنی بنائی ہوئی عمارتوں، سڑکوں، اسکولوں، کالجوں، پلوں اور سڑکوں کے پشتوں میں ضرور شامل کرتے تھے۔ سیدو شریف گورنمنٹ جہاں زیب کالج کے بالمقابل سیمنٹ سے بنے فٹ میں جگہ جگہ پر سبزہ اگانے کے لیے وہ زگ زیگ لکیر نما جگہیں بناتے تھے، جن میں زمین کی قدرتی نمی سبزہ کی ہریالی کو زندگی بخشتی تھی۔ اس طرح برلب سڑک سوات سرینہ ہوٹل کی اونچی دیوار کی بھی یہی خوب صورتی ہوٹل کا طرہ امتیاز تھی۔ حاجی بابا مینگورہ کے خوڑ کے قریب سڑک کے ساتھ ہی دوڑتے فٹ پاتھ میں اسی سبزہ کی ہریالی مجھے اب بھی یاد ہے۔
والئی سوات مرحوم اعلیٰ پائے کے آرکیٹیک لگتے تھے۔ سڑک کے دو رویہ بڑے بڑے درخت تا حد نظر پیدل چلنے والوں کو گرمیوں میں ٹھنڈا ٹھنڈا سایہ مہیا کرتے تھے اور یہی درخت سڑک کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اونچائی میں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے نظر آتے تھے۔ جب تیز ہوا اور آندھیاں چلتی تھیں، تویہ ایک دوسرے کو پیار سے چوم لیتے تھے۔ مذکورہ درختوں کے ٹھنڈے سائے میں مجھے پیدل چلنا بڑا اچھا لگتا تھا۔ اب ویسا ماحول میں کہاں سے لاؤں؟
سوات کا ایک محسن تھا۔ نام اُن کا عبدالحق جہاں زیب تھا اور تھا وہ والئی سوات۔ سوات کی ترقی کا دل دادہ۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا، تو سوات یتیم بھی ہے اور یسیر بھی۔ ہاں، تو میں بات کر رہا تھا سیدوشریف پوسٹ آفس کی۔ والئی سوات نے صرف پوسٹ آفس نہیں بنایا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اچھی خاصی کالونی بنائی تھی اور ایک خوب صورت پوسٹ آفس ریسٹ ہاؤس بھی۔ جب سوات کو پاکستان میں ضم کیا گیا، تو 1989ء میں اس پوسٹ آفس کو توسیع دے کر جنرل پوسٹ آفس بنایا گیا۔ یہ ملاکنڈ ڈویژن کے صدر مقام پر ہے۔ اس وجہ سے اس میں کام بھی زیادہ ہوتا ہے۔ صبح سے رات گئے تک عملہ اس میں کام میں مصروف ہوتا ہے۔ والئی سوات کا ترقی یافتہ سوات کسی کو ہضم نہیں ہورہا تھا۔ اس کے بعد جب بھی وفاقی یا صوبائی حکومت بنی، اس نے سوات کو نظر انداز کرنا شروع کردیا۔ ہر بڑے افسر نے سوات کو پیچھے دھکیلنے کا فریضہ بہ طریق احسن انجام دیا اور آج سوات کا یہ حال ہے کہ کوئی اس کے عوام کے سر پر دست شفقت رکھنے والا نہیں۔ چاہے وہ سوات سے منتخب ہونے والا ایم پی اے ہو، ایم این اے ہو یا پھر سینیٹر۔ وہ صرف اس سے خوش ہوتاہے کہ میں اسمبلی کاممبر ہوگیا ہوں۔سوات کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کرتا۔ سوات کے لیے اسمبلی میں کوئی تحریک التواء پیش نہیں کرتا کہ سوات کی ترقی کہاں گئی اور تم لوگ سوات کو کیوں نظر انداز کرتے ہو؟ ایک جانب سوات کی ریاست تھی، دوسری جانب صدیوں پرانی ریاستِ دیر۔ حکم رانِ دیر نے دیر کے عوام کوپس ماندہ رکھا، ناخواندہ رکھا، یہاں تک کہ کوئی ریاستِ دیر میں اپنے گھر کی سفیدی بھی نہیں کراسکتا تھا۔ پاکستان کے آنے کے بعد دیر ترقی کرتا رہا۔ اس لیے کہ وہاں کے عوامی نمائندے دیر کی ترقی کے لیے دن رات ایک کرکے کام کرتے رہے۔ آج دیر کی ترقی کا یہ حال ہے کہ وہاں دو یونی ورسٹیاں ہیں۔ ایک ملاکنڈ یونی ورسٹی چکدرہ میں اور دوسری شرینگل۔ سوات کے پاس ایک تعلیمی بورڈ تھا۔ وہ بھی کسی کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے اُس کو بھی سوات سے اٹھایا گیا۔ لیکن اُس وقت سوات کے عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے اور تعلیمی بورڈ کو جانے نہیں دیا گیا۔ بعد میں صوبائی حکومت نے دیر کے لیے الگ بورڈ کی منظوری دی۔ بڑی کوششوں کے بعد اے این پی کے سوات کے نمائندوں نے سوات میں یونی ورسٹی قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن اس یونی ورسٹی کو بھی پیچھے لے جانے میں باہر سے آئے ہوئے وی سی جو صوابی کا رہنے والا ہے، کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ اس کو تعلیمی لحاظ سے تباہ کرنے کے درپے ہے۔ نتیجتاً آج یہ صوبے کی جملہ یونی ورسٹیوں میں سب سے کم زور ترین یونی ورسٹی کی سطح پر آئی ہوئی ہے۔
سوات یونی ورسٹی کے لیے کسی ایمان دار اور مخلص وی سی کا تقرر وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن تحریک انصاف کے مقامی ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹر اس جانب فی الحال توجہ دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تحریر پڑھنے کے بعد ان کی رگ حمیت پھڑکے۔ فی الحال تو دیر کے سینیٹر زاہد خان صاحب سیدو شریف کے جنرل پوسٹ آفس کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تیمرگرہ میں انھوں نے پچاس ہزار روپے کے کرائے پر بلڈنگ لے کر جنرل پوسٹ آفس قائم کیا ہے۔ سیدوشریف جنرل پوسٹ آفس سے پانچ اہل کاروں کو تیمر گرہ تبدیل کرکے سیدو شریف جنرل پوسٹ آفس کو ڈی گریڈ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کر رہے۔ سوات کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس بے انصافی پر یک زباں ہوکر عملی قدم اٹھائیں اور سینیٹر زاہد خان صاحب کو اس حرکت سے منع کریں کہ یہاں سیدوشریف میں جنرل پوسٹ آفس کی سرکاری بلڈنگ ہے، سرکاری کالونی ہے اور سرکاری ریسٹ ہاؤس بھی ہے۔ پھر بھی یہ ظلم سوات اور اہل سوات سے کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ جنرل پوسٹ آفس سیدو شریف کو اس طرح ڈی گریڈ نہ کیا جائے گا۔
1,453 total views, no views today


