وہی پرانی کہاوت ہے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے شانگلہ کے حلقہ پی کے 88 میں جمعیت علمائے اسلام کے دو راہ نما ٹکٹ ملنے کے منتظر تھے، جن میں ایک حاجی عبدالمنعم اور دوسرا شیرعالم تھا۔ جنھوں نے ا س شرط پر جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کی تھی کہ انھیں ٹکٹ ملے گی، لیکن جب 2013ء کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم شروع ہوگئی، تو دونوں راہ نماؤں نے ٹکٹ کے حصول کے لیے ہاتھ پیر مارنا شروع کیے۔ ان دنوں ٹکٹ کبھی حاجی عبدالمنعم کو اور کبھی شیرعالم کو مل جاتا، لیکن آخر کار شیر عالم جمعیت علمائے اسلام سے ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوگئے اور حاجی عبدالمنعم نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جمعیت علما ئے اسلام کی بڑی تعداد میں کارکنوں کی ہم دردی حاجی عبدالمنعم کو حاصل تھی۔ اس لیے انتخابات کے بعد شانگلہ کی سیاست میں ایک تبدیلی آگئی یعنی برسوں بعد شانگلہ کے صوبائی حلقہ پی کے 88 پر راج کرنے والے شہید پیر محمد خان کے بیٹے فضل اللہ کو حاجی عبدالمنعم نے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اسی تبدیلی سے شانگلہ کے عوام میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی کہ چہرے بدلنے سے سسٹم میں بھی کچھ تبدیلی آجائے گی، الیکشن جیتنے کے بعد حاجی عبدالمنعم قومی جمہوری اتحاد کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت یعنی پاکستا ن تحریک انصاف کے ساتھ اتحادی بن گئے اوربعد میں مشیر وزیر اعلی خیبر پختون خوا بھی نامزد ہوئے۔ حاجی عبدالمنعم نے جن نعروں پر عوام سے ووٹ لیا تھا، ان کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ ان کے نعرے کچھ یوں تھے کہ ’’شانگلہ سے کرپشن کا خاتمہ، میرٹ کی پاس داری اور روایتی سیاسی کلچر کا خاتمہ، شانگلہ کے لیے میگا پراجیکٹس کی منظوری، انصاف کی فراہمی، و علیٰ ہذا القیاس۔
شانگلہ خیبر پختون خوا کا پس ماندہ ترین ضلع ہے اور شانگلہ کے عوام اس وقت انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ شانگلہ کی ترقی میں اہم رکاوٹیں ضلع میں بے انتہا کرپشن اور غربت ہے۔ شانگلہ کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں لیکن غربت اور روزگار کی کمی کی وجہ سے وہ سیاہ قبروں یعنی کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کی غرض سے آتے جاتے ہیں۔ شانگلہ کی تمام سیاسی پارٹیوں اور سیاسی راہ نماؤں کو اللہ تعالیٰ نے شانگلہ کی تقدیر بدلنے کے لیے کوئی نہ کوئی موقع ضرور دیا ہے، لیکن اس وقت وہ حکم رانی کے نشے میں مست ہوتے اور انھیں یہ علم بالکل نہ ہوتا کہ ان کی حکم رانی عارضی ہے اور بہت جلد ان سے یہ مراعات واپس لی جائیں گی۔کچھ یہی صوت حال آج کل حاجی عبدالمعنم صاحب کی ہے۔ ان کے ہاتھ بھی شانگلہ کی تقدیر بدلنے کا ایک موقع آیا ہے اور وہ خیر سے مشیر وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا، ڈیڈک چیئرمین شانگلہ قومی جمہوری اتحاد اور صوبہ خیبر پختون خوا پر حکومت کرنے والی پارٹی کے اتحادی ہیں۔ شانگلہ کے عوام کی محرومیاں دور کرنے کا اس سے بہتر موقعہ اور کیا ہوگا؟ لیکن عوام کے امیدوں پر اس وقت اوس پڑگئی جب حاجی عبدالمنعم کا اصل چہرہ سامنے آیا۔ حاجی عبدالمعنم عوامی توقعات کے بر عکس نکلے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ میرٹ کی پاس داری کی بجائے اپنی مرضی سے کام نکلوائے، جس کی زندہ مثال محکمۂ زراعت میں اپنے من مانے لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش بھی ہے، لیکن شانگلہ کے غیور نوجوانوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر بھرتی رکھوا دی۔ اس کے علاوہ انھوں شانگلہ کے ہر ادارے میں اپنے من پسند لوگوں کو بٹھارکھا ہے اوراپنی مرضی کے مطابق ان سے کام بھی لے رہے ہیں۔
میں حاجی عبدالمنعم سے ایک ہی اپیل کرتا ہوں کہ جس طرح دوسری پارٹیوں کے راہ نماؤں کو اقتدار کے دنوں میں ہوش نہ آیا۔ ٹھیک اسی طرح آپ کے یہ دن بھی گزر جائیں گے۔ آپ کے پاس یہی موقع ہے۔ اگر شانگلہ کے عوام کے لیے اور اپنے سیاسی مستقبل لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں، تو شانگلہ کے عوام کے مسائل پر توجہ دیں نہ کہ اپنے خاندان کے مسائل پر اور اپنے دوسرے سیاسی راہ نماؤں کے ماضی کو دیکھ کر ان سے سبق سیکھیں کہ ان کی ماضی کی غلطیوں نے ان کو عرش سے فرش پر دے مارا ہے۔
یاد رکھیں، آج آپ مسند اقتدار پر بیٹھے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے، لیکن جب یہ وقت گزر جائے گا، تب آپ ایک بار پھر عوام کا در کھٹکھٹانے آئیں گے، اس دن کا کچھ خیال کریں اور شانگلہ کے عوام کے مسائل پر توجہ دیں۔ وما علینا الا البلاغ۔
800 total views, no views today


