بریکوٹ ( ریاض احمدسے ) محکمہ سوئی گیس میں کرپشن ،اقراباء پروری،سیاسی مداخلت اور میرٹ کی تمام تر حدود پار کردے دی گئی ہیں ۔کنکشن کے فراہمی کے دوران صارفین سے زائد رقم کی وصولی اور بعض علاقوں میں بے چارے اور سیاسی اثر رسوخ نہ ہونے والے صارفین کے نام کے میٹر سیاسی اثر رسوخ اور بااثر صارفین کو لگانے کا بھی انکشافات ہوچکے ہیں ۔ ارجنٹ داخلہ کرنے والوں کو پانچ یا چھ ماہ بعد میٹر لگایا جاتا ہے ۔سینکڑوں کی تعداد میں صارفین تنگ آکر کنزیو مر کورٹ کا رخ کر دیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے ایم این اے عائشہ سید نے عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کا دروازہ کھٹکھٹا یا اور کرپشن کے تمام ثبوت فراہم کردئیے ہیں ۔یہاں کے سماجی حلقوں نے نیب کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ فوری طور پر نیب محکمہ سوئی گیس کے کرپشن کے خلاف جلد از جلد ایکشن لے تاکہ یہاں کے صارفین سکھ کا سانس لیں ۔تفصیلات کے مطابق سوات میں محکمہ سوئی گیس سفید ہاتھی بن گیا ہے کرپشن ،اقراباء پروری اور سیاسی مداخلت اسی ادارے کی پہچان بن گیا ہے ۔کنکشن اور میٹر کے فراہمی میں محکمہ سوئی گیس کے اہلکار صارف سے غیر قانونی زائد رقم کا وصولی بھی کررہے ہیں جبکہ ایک صارف کے نام کے میٹر دوسروں کو سیاسی یا سفارش کی بناء پر دوسرے کو لگا دیا جاتا ہے ۔اب بھی زائد صارفین جو کہ میرٹ پر پورے ہیں سیاسی اثررسوخ یا محکمہ میں سفارش نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی ماہ گذرنے کے باوجود کنکشن سے محروم ہیں ۔ بریکوٹ کے علاوہ علاقہ موسیٰ خیل کے مختلف گاؤں جن میں گورتئی ،ابوہا،نویکلے ،کوٹہ میں اب بھی کئی ماہ سے کنکشن کے حصول کے لئے کھڈے کھودے گئے ہیں مگر کنکشن سے محروم ہیں ۔آخر محکمہ سوئی گیس میں کرپشن ،اقرابا پروری ،میرٹ کی دھجیاں کب تک اڑائی جائیں گی اور یہاں کے صارفین کا مدوا کب ہو گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟
910 total views, no views today



