سعید الرحمان
شمالی وزیرستان میں جب حکومت کی عمل داری کم زور ہونے لگی، تو حکومت نے پندرہ جون دوہزار چودہ کو فیصلہ کن کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ نتیجتاً علاقے میں موجود دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے آپریشن ضر ب عضب شروع کیا۔ یوں علاقہ سے لاکھوں متاثرین نے نقل مکانی شروع کی اور شمالی وزیرستان کے یخ بستہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین اب بنوں، لکی مروت، ڈیرہ غازی خان سمیت ملک کے دیگر گرم شہروں میں زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کردار اس وقت سندھ اور پنجاب گورنمنٹ نے پورا کیا جب سند ھ اور پنجاب میں متاثرین کے داخلہ پر پابندی کا اعلان کیا گیا۔ وہ متاثرین جو پورے اٹھارہ کروڑ عوام اور ملک کے بقاء کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے، ان کی داد رسی کے بجائے انھیں شک کی نگاہ سے دیکھنا چہ معنی دارد؟ پاکستان کے دستور کے شق پچیس،پندرہ اور اٹھارہ کے مطابق پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے ایک شخص ملک کے کسی بھی شہر میں آزادانہ گھوم پھر سکتا ہے، مگر سندھ اور پنجاب حکومت نے پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ قبائیلوں کے دل کو ٹھیس بھی پہنچایا ہے۔
قارئین کرام! اس سے پہلے بھی جب سوات میں آپریشن شروع ہوا، تو اس دوران میں بھی پنجاب حکومت نے متاثرین کے داخلہ پر پابندی عائد کی تھی۔وہاں بھی آپریشن کی کامیابی میں مذکورہ بالا حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا اور یہاں بھی ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ جاری ہے، مگر یہاں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پختون جو آزادی کے بعد سے ملک و قوم کی بقا کے لیے کسی نہ کسی شکل میں قربانی دیتے چلے آرہے ہیں، کے ساتھ کیوں بھکاریوں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ آپریشن کے بعد ا ن کو بھکاری بنانے میں دیدہ و نادیدہ قوتیں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ چاہے وہ سوات ہو یااب شمالی وزیرستان، ہر دور میں پختونوں کی پگڑی کو پاؤں تلے روندا گیاہے۔ وہ پختون جو اپنی عزت او روقار کی خاطر جان دیا کرتا تھا، آج راشن کے نام پر قطاروں میں روٹی کے ایک نوالے کے لیے شدید گرمی میں دن رات انتظار کر تا رہتا ہے۔ آخر کب تک پختون کو بھکاری او ر دہشت گرد کے روپ میں پیش کیا جائے گا؟
قارئین کرام! تاریخ گواہ ہے کہ وفاداری، اخلاص اور اعتماد پختون قوم کی سرشت میں ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پختون قوم سادہ لوح بھی ہے اور یہی خصلت اسے بسا اوقات لے ڈوبتی ہے۔ لوگ اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں جب مغل حکمرانوں نے پختون کو زیر کر نے کی کوشش کی تو تاریخ گواہ ہے کہ انھیں منہ کی کھانا پڑی۔ مگر جب ان قوتوں نے اپنے آپ کو پختون روایات میں زم کیا، تو پھر پختونوں نے ان کو عزت دی اور اپنی پگڑی ان کے سر پرخوشی سے رکھ دی۔ہمیشہ سے بیرونی قوتوں نے پختونوں کو قومی دھارے میں لانے کی بجائے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا ہے اور پھر کام نکلنے کے بعد اسے ردی سمجھ کر پھینک دیا۔
آج شمالی وزیرستان کے پختونوں پر ایک ایسا وقت آیا ہے کہ وہ خود اپنے ملک، اپنے گھر میں خیرات مانگنے پر مجبور ہیں، کھلے آسمانو ں تلے زندگی گزرانے پر مجبورہیں۔ وہ غیور پختون جس کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے ہوا کرتے تھے، جو بیک وقت کئی مہمانوں کا میزبان ہوا کرتا تھاآج ایک وقت کے راشن کے لیے روزے کی حالت میں جھلستی دھوپ میں کھڑا ہونے پر مجبور ہے۔ اگر ہم پختونوں کو ملک کے لیے قربانی دینے کا یہ صلہ ملتا رہا، تو قارئین! آپ ہی بتائیں کہ اگر ملک و قوم پر کوئی مصیبت کی گھڑی آئی تو کیا ہم اگلی بار منہ موڑنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے؟
آج شمالی وزیرستان کے پختون بنوں کی شدید گرمی میں جب اپنے بچوں کو جھلستی دھوپ میں کیمپوں میں دیکھتے ہیں، تو انھیں اپنے یخ بستہ علاقوں کے گھر اور حجرے یاد آتے ہیں۔ انھیں اپنے بھرے پرے دستر خوان یاد آتے ہیں۔ میں جب بھی ان بے بس پختون بھائیوں کی حالت زار کیمرے کی آنکھ سے قید کرتا ہوں، تو ہر چھوٹے اور بڑے کے چہرے پر مجھے ایک ہی تاثر ملتا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کہہ رہے ہوں کہ خدارا! ہمیں اپنی کمائی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ ہمیں بھکاری نہ بنائیں۔ ہماری چادر اور چاردیواری کا تقدس پائے مال نہ کریں۔ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ بس ہمیں اپنے علاقہ میں واپس لوٹنے دیں۔ ہمیں ہماری قربانیوں کے صلے میں بے عزت نہ کریں۔
922 total views, no views today


