آج 28مئی کو بھوک کا عالمی دن منا یا جارہا ہے ، دنیا بھر میں 795 بلین سے زائد افراد سخت ترین بھوک کا شکار ہیں
سوات (رپورٹ /وقار سواتی )دنیا میں 795 بلین سے زائد افراد سخت ترین بھوک کا شکار ہیں ،جس میں 60فیصد خواتین کو خواراک میسر نہیں ،اور پانچ سال سے کم عمر کے 50لاکھ بچے خوراک نہ ملنے کے باعث دم توڑ رہے ہیں۔اس کا ذکر سوات میں بھوک کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک روزہ پروگرام کے دوران کیا گیا ،پروگروام میں بتایا گیا کہ ۲۰۱۱ سے ہنگر ارگنایزیشن نے اس دن کا اغاذ کیا تھا اور اس دن کے بعد ہر سال ۸۲ مئی کو بھوک کا عالمی دن منایا جاتاہے ،پروگرام میں بہت تعداد میں خواتین نے شرکت کی ، عنوان بھی اس دن کی مناسبت سے تھا کی بھوک کو کم کرنے میں خواتیں ک کیا کردار ہیں خواتین نے بتایا کہ کیسے وہ اپنے بچوں اور گھر والں کے لئے سب کرتی ہیں انکی بھوک کو کم کرنے کے لئے کھان تیار کرتی ہیں تو کوئی نوکری کرتی کوئی استاد کوئی ڈاکٹر ہے اور مختلف شعبوں میں کام کرتی ہیں اور اپنے گھر والوں کے لئے کسی ن کسی طریقے سے انکے بھوک کو ختم کرنے کے لئے کوشش کرتی ہیں پروگرام لاسونہ کی کمینونیکشن افسر مہناز ٖفخر نے بتایا کہ دنیا میں ایسے کئی ممالک ہے جن مناسب خوارک تو کیا خوارک بلکل میسر ہی نہیں ہے ،انہوں نے خواتین کو بتایا کہ وہ کیسے اپنے گھروالوں کو مناسب خوراک فراہم کرسکتی ہیں تو بھوک میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے اسی طرح لوگوں کو غذا ملنے پر نقل مکانی کا سلسلہ بھی تھم سکتا ہے ۔
1,260 total views, no views today



