عجیب مخلوق ہے یہ سیاستدان بھی، چاہئے حالات جیسے بھی ہو مگر سیاستدان نامی یہ مخلوق ہرجگہ خودکوپیش پیش رکھنے کی کوشش میں لگی نظر آتی ہے جس کا مقصد لوگوں یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ ہرموڑپر ان کے ساتھ ہے ،اس مقصد کیلئے غمی خوشی میں باقاعدگی سے شرکت اس مخلوق کی عادت نہیں بلکہ فطرت سی بن گئی ہے اورخصوصاََ نمازجنازہ اورفاتحہ خوانی کیلئے توسینکڑوں میل دورسے بھی پہنچ جاتے ہیں ،جہاں کہیں کسی کی فوتگی کا اعلان کو جائے تو یہ سیاسی لیڈرسب سے پہلے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ جلوس کی شکل میں بروقت پہنچ بھی جاتے ہیں یہاں پر ان کی یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ نمازجنازہ میں سب سے پہلی صف میں جگہ ملے ثواب ملے نہ ملے کیمرے کی آنکھ کے سامنے تو آجائیں گے،یہ لوگ جنازوں اورفاتحہ خوانی میں اتنی بروقت اورپابندی کے ساتھ شرکت کرتے ہیں کہ اتنی پابندی کے ساتھ پارلیمنٹ یااسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرتے ،شائد ان لوگوں کوکسی کی وفات کا اتنادکھ نہیں ہوتا جتنا کہ انہیں ان کی وفات سے اپنی ووٹروں کی تعدادمیں ایک ووٹر کی کمی کا ہوتا ہے،سیاسی لوگوں کے پاس سیاسی میدان میں سرگرم رہنے کا بہترموسم الیکشن کا زمانہ ہوتا ہے جس کے دوران وہ دن رات نہ صرف عوام میں موجود رہتے ہیں بلکہ انہیں سبزباغ دکھا کر ووٹ بھی بٹورتے ہیں اورالیکشن کے بعدکچھ عرصہ کیلئے غائب ہوجاتے ہیں کوئی جیتنے کی خوشی منانے اورکوئی ہارنے کا غم ، اس وقت ایسا لگتا ہے جیسے سردی کے موسم میں سوات سے ڈینگی غائب ہوگیا ہو ۔
سیاسی پارٹیوں کے قائدین غمی خوشی میں شرکت کرنے کیلئے کافی بے چین نظرآتے ہیں یہاں تک کہ صبح گھر سے نکلتے ہی اس بابت پوچھتے ہیں ،بعض پارٹیوں کے لیڈروں نے تو فوتگی کی برقت اطلاع دینے کے لئے مختلف علاقوں میں کارکنوں کی باقاعدہ طورپر ڈیوٹیاں لگارکھی ہیں اوربھلا ہوان کارکنوں کی جو بڑی پابند ی کے ساتھ یہ کارخیر انجام دیتے ہیں،پہلے پہل سوات میں پیپلزپارٹی کے قائدین نمازجنازہ اورفاتحہ خوانی میں پیش پیش نظرآتے تھے مگر اب یہ میدان مسلم لیگ ن نے مارلیا(یہ الگ بات کہ الیکشن کے میدان میں اسے شکست کا منہ دیکھناپڑاتھا)سیاسی لوگ تونماز جنازہ اورفاتحہ خوانی میں شرکت کرنے کی کوریج کے بھی خواہاں ہوتے ہیں،اس طرح کی کوریج میں شائد مسلم لیگ ن سب سے خوش قسمت پارٹی ہے۔
سیاسی گہماگہمیاں ختم ہونے کے بعد تویہ بچارے ہاتھ پرہاتھ دھرکر نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ سیاسی میدان میں موجود گی بھی تو ضروری ہوتی ہے ،ان کی بے چینی اورپریشانی اس وقت دیدنی ہوتی ہے جب کسی علاقے میں غمی خوشی نہ ہو، بے چینی کے ان مراحل سے گزرناجب ان کیلئے ناقابل برداشت ہوگیا توان لیڈروں نے اپنے حجروں اورذاتی دفاتر میں کارنرمیٹنگ کی روایت ڈال کران ناقابل برداشت مراحل سے چھٹکارا پانے کا حل نکال ہی دیا ،واقعی ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔
ہم نے ہربارعام انتخابات میں دیکھا ہے کہ وہ سیاستدان جوعام دنوں میں عوام اوراپنے ووٹروں سے ملنا تک گوارا نہیں کرتے وہ میدان میں نکل کر عوام میں ایسے گھل مل جاتے ہیں جیسے ان کیلئے یہی عوام اقتدار سے بھی زیادہ عزیرہیں اور عوام کا کیا کہنا وہ تو سیدھے ہونے کے ساتھ ساتھ سادھے بھی ہیں جو فوراََ ان بازیگروں کی چکنی باتوں میں آجاتے ہیں،یہ رہاعوام اورسیاستدانوں کے مابین انتخابی رشتہ ،دوسری طرف ایک دوسرے کے مقابل سیاستدان ہیں جو سالہاسال خاموش رہتے یا ایک دوسرے کا بھرم رکھتے ہیں مگر الیکشن کے زمانے میں خاموشی توڑکر ایک دوسرے پر وہ وہ الزامات لگاتے ہیں کہ الامان ،دھاندلی،ووٹوں کی خریداری،ٹیوب ویلوں کی منظوری ،گیس لائنوں وٹرانسفارمروں کی تنصیب ،نقدی کی تقسیم اورنجانے کیسے کیسے الزامات لگائے جاتے ہیں ۔
حیرانگی کی بات ہے کہ ابھی تک کسی بھی سیاستدان نے دوسرے سیاستدان پر لگایا گیاالزام ثابت نہیں کیا،بعض اوقات تو ایسالگتا ہے کہ الیکشن نہیں بلکہ ڈرامہ ہورہا ہے جس کا باقاعدہ سکرپٹ پہلے سے تیار کیا جاچکاہے ا س سے قطع نظرالیکشن میں الزامات لگانے اورووٹ بٹورنے کیلئے سب سے اہم جو چیزہوتی ہے اسے حرف عام میں الیکشن مہم کہا جاتا ہے یہ ایک وقتی جاندارچیزہے جو انتخابات ختم ہونے کے ساتھ دم توڑدیتی ہے مگردم توڑتے توڑتے بہت سے بردہ نشینوں کے ناموں بلکہ چہروں کو بے نقاب کردیتی ہے،کس نے اقتدارمیں رہ کرکیاکیا گل کھلائے ہیں؟کس نے نوکریاں فروخت کی ہیں؟کس نے سرکاری خزانے کولوٹا؟ کس نے حکومتی مشنری کوسیاسی رشوت کے طورپر استعمال کیا ہے؟کس نے سیاسی وفاداریاں تبدیل ہیں؟کون کتنا پانی میں ہے ؟یہاں تک کہ موقع ملنے پرکون کیا ارادے رکھتے ہیں۔۔؟؟نام سامنے آنے کے بعدبھی ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتاکیونکہ ان میں موجود ہ اورسابقہ اہل اقتدارشامل ہیں شائد۔
اس کے علاوہ بلندوبانگ دعوئے ،اسٹیج پر کھڑے ہوکر یہ مخلوق زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں،کسی کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے سے تو رہے مگربات کرتے ہیں دودھ کی نہریں نکالنے کی،خودانحصاری،کڑااحتساب،سستے انصاف کی فراہمی ،بحرانوں کا خاتمہ ،تعلیم عام کرنااورنجانے کیاکیا دعوے مگرالیکشن ختم ہوتے ہی ہرسوخاموشی چھاجاتی ہے،نہ تو بحرانوں پرقابوپاگیااورنہ ہی قرض اتاراگیا،نہ کسی کو سستاانصاف ملااورنہ ہی کسی کا احتساب ہوا،بس مداری نے مجمع میں اپنی خودساختہ دوائیاں فروخت کیں اورسامنے پڑے گتے کے کاٹن پرسے بچھائی گئی چادراٹھا ئی جس پر اس وقت تک لوگوں نے اس لئے نظریں جما رکھی تھیں کہ ابھی اس سے کبوتراڑ ے گامگر کھیل ختم پیسہ ہضم کے مصداق الیکشن ختم ہونے کے بعد دعوے اوروعدے کرنے والے اپنی سرگرمیاں ختم کرکے سب کچھ بھول جاتے ہیں اورکچھ عرصہ بعدعوام کی امیدیں بھی دم توڑدیتی ہیں اوروہ لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں۔
944 total views, no views today


