سوات، سوات میں ڈینگی وائرس کی ممکنہ وباء کی روک تھام کے لئے سوات پریس کلب میں سیمینار ، ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت اور صوبائی حکومت نے ایمرجنسی بنیادوں پر ڈینگی کا راستہ روکنے کیلئے ایکا کرلیا ، سوات پریس کلب نے بھی اپنا بھر پور کردار اداکرنے کا اعلان کردیا کہ ڈینگی کا راستہ روکنے کا واحد حل آگاہی ہے ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے ایمرجنسی فنڈ کا مطالبہ کردیا ،
وباء کے باوجود این جی اوز اور دواساز کمپنیوں کا کردار مایوس کن رہا ، ڈینگی آگاہی کے لئے ضلعی انتظامیہ بھر پور مہم چلائے گی ،عوام بھی گھروں میں لاروا اور انڈوں کی افزائش ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ، سوات میں گذشتہ سال ڈینگی نامی بلا کی وباء اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 36 افراد جان بحق جبکہ 9 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے رواں سال کے دوران بھی وباء کے دوبارہ حملے کے خد شے کے پیش نظر سوات پریس کلب کے زیر اہتمام ڈینگی آگاہی مہم کے سلسلے میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈیڈک سوات کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان ، ڈپٹی کمشنر سید امتیاز حسین ، سیدومیڈیکل کالج کے پرنسپل و سیدو ٹیچنگ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر تاج محمد خان ، سیدو شریف ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خورشید احمد ، قائم مقام ڈی ایچ او سوات ڈاکٹر انعام ، ڈاکٹرواصل خان اور اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی محمد اشفاق خان ، سوات ہوٹلز ایسو سی ایشن کے صدر حاجی زاہد خان ، پرائیویٹ سکولز منجمنٹ ایسو سی ایشن کے چیئرمین احمد شاہ ،سمیت دیگر عمائدین علاقہ نے شرکت کی ، سیمینار کے دوران سوات پریس کلب کے چیئرمین رشید اقبال نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور ڈینگی کی وباء کے حوالے سے میڈیا کے کردار کا خاکہ پیش کیا ، مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی ایک موذی اور مہلک بیماری ہے جو ایک خاص قسم کے مچھر سے پھیلتی ہے اور اس ڈینگی نامی مچھر کے خاتمے اور روک تھام کا واحد حل آگاہی اور روک تھام ہے جس کیلئے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپناکردار ادا کرنا چاہئیے تاکہ اس بلا کا خاتمہ کیا جا سکے کیونکہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے جس کیلئے جہاد کی ضرورت ہے ، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خورشید احمد نے کہ کہ ہمیں ڈینگی جیسی وباء کے دوران محض 50 لاکھ روپے ملے تھے اور مستقبل میں بھی ہمیں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے ، این جی اوز اور دواساز کمپنیو ں کا کردار بھی مایوس کن رہا انہوں نے کہا کہ صوبے میں وباء کے ضمن میں 6 کروڑ روپے منظور ہوئے تھے لیکن سوات کو کو ایک پیسہ بھی نہ دیا گیا ، ڈپٹی کمشنر سوات سید امتیاز حسین نے بھی این جی اوز کو آڑھے ہاتھوں لیا اور شدید تنقید کی ، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو گذشتہ سال اچانک وباء آنے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس سال ہم مشترکہ اقدامات کرکے ڈینگی کا مقابلہ کریں گے ، انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہم نے اس پر 25 لاکھ روپے خرچ کئے تھے ، اور امکان ہے کہ اس سال یونیسیف کے جانب سے ہمیں 12 ملین روپے ملیں گے ،ڈیڈک کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان نے کہا کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں اور سوات کا حق کسی کو چھیننے نہیں دیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ ڈینگی کا خاتمہ حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے اور بھاری فیس لینے والے ڈاکٹروں کو بھی اس ضمن میں آگے آنا چاہئیے ، انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہمارا حق غصب کرنے کی کوشش کی گئی تو میں ہر محاذپر لڑوں گا ، اور ناکامی کی صورت میں استعفیٰ ہی دے دوں گا ، سیمینار کے شرکاء نے ڈینگی کی روک تھام کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا عزم دہرایا اور صوبائی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے اور خصوصی فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔
ٖٖ سوات پریس کلب کر زیر اہتما م ڈینگی کی روک تھا م کے حوالے سے منعقدہ ایک روزہ سمینارسے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹیوسیدوگروپ آف ٹیچنگ ہسپٹلز ڈاکٹرتاج محمد خان نے کہاکہ ڈینگی سمیت کوئی بھی مرض لاعلاج نہیں تاہم علاج سے پرہیزاوراحتیاطی تدابیرپر عملدرآمد کرنا ضروری ہوتا ہے،انہوں نے کہاکہ پچھلے سال جب سوات میں ڈینگی کی وباء پھوٹ پڑی تو ہم نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا مگریہاں پر موجود پانچ سو بستروں پر مشتمل اس ہسپتال پر پورے ڈویژن کی ساٹھ ستر لاکھ آبادی کاانحصار ہے اس وقت ہم ڈینگی سے متاثرہ افراد کی امدادکے ساتھ ساتھ ڈویژن بھر سے آنے والے دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی بھی خدمت کرتے رہیں ،ڈینگی کی وباء آئی تو ہم نے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے کئی وارڈ متاثرہ افراد کیلئے خالی کردئے اورجو مریض سیریز ہوتے انہیں داخل کراتے جبکہ دیگر کوطبی امدادفراہم کرکے فارغ کیا جاتا ،انہوں نے کہاکہ وہ وقت بھی گزرگیا اب ہمیں آنے والے وقت کیلئے سوچنا ہے کہ آئندہ اس وباء سے کس طرح نمٹاجائے،انہوں نے کہاکہ عوام ڈینگی سے محفوظ رہنے کیلئے جو احتیاطی تدابیر ہیں ان پر عمل کریں اوردوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں تاکہ وہ اس وباء سے محفوظ رہ سکیں۔
سمینارسے خطاب کرتے ہوئے سیدوہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹرخورشیداحمدنے کہاکہ پچھلے سال جب ڈینگی کی وباء پھوٹ پڑی تو ہسپتال انتظامیہ نے کلاس فور سے لے کر پروفیسرتک کو مریضوں کی خدمت کیلئے الرٹ کردیا مگر اس دوران مسئلہ یہ پید ہوا کہ جو بھی وی آئی پیزیا مدادکی فراہمی کیلئے کوئی آتا تو ان کی رہائش اورکھانے پینے کا نتظام بھی ہمیں سونپاگیا جوہمارے دسترس سے باہر تھا مگر پھر بھی ہم نے اپنے طورپر وہ مسئلہ نمٹادیا،انہوں نے کہاکہ ڈینگی کی روک تھام کیلے ہمیں پچاس لاکھ روپے کا فندیاگیا جو صرف ادویات کیلئے تھا اس میں ٹیسٹ اوردیگرضروریات کیلئے رقم شامل نہیں تھی ہم نے باربار اس سلسلے میں حکام کو آگاہ کیا جس کے بعد ہمیں ایمرجنسی کیلئے موجود فنڈ سے ضروت کے مطابق رقم خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ،انہوں نے کہاکہ سوات میں ڈینگی کی وباء کے دوران کسی بھی ادویہ ساز کمپنی نے کسی قسم کا تعاؤن نہیں کیا یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کے لوگ روزانہ گھنٹوں گھنٹوں اپنی ادویات فروخت کرنے کیلئے ہسپتالوں میں موجود رہتے ہیں۔
سمینارسے خطاب کرتے ہوئے انچارج ڈینگی وارڈ ڈاکٹر واصل نے کہاکہ ڈینگی کی وباء کے دوران بھرپوراندازمیں مہم چلائی اور جو بھی مریض آتا انہیں بروقت بہتراندازمیں طبی امدادفراہم کی ،انہوں نے کہاکہ ایک طرف ڈینگی سے متاثرہ افرادکو طبی امدادکی فراہمی اوردوسری طرف لوگوں میں اس سے بچنے کیلئے شعوراجاگرکرنے کیلئے کام کرتے رہیں ،زیادہ رش ہونے کے باوجود بھی ہماری ٹیم نے کافی حوصلہ کے ساتھ کام کیا ،انہوں نے کہاکہ وباء کے دوران متاثرہ افرادمیں زیادہ تر تعدادجوان مردوں کی تھی بچوں اورخواتین کی تعدادمردوں کی نسبت کم تھی،انہوں نے کہاکہ ڈینگی سے متاثرہ تمام مریضوں کو ہسپتال میں داخل کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی ان میں زیادہ سیریزمریض کو داخل کرایاجاتا ہے باقی کو طبی امداددے کر فارغ کردیا جاتا ہے تاہم اس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
سمینارسے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام ڈی ایچ اوڈاکٹرانعام نے کہاکہ آئندہ کیلئے ڈینگی سے نمٹنے کیلئے سمینارز،واک اوردیگراس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کی ضرورت ہے جن میں عوام کو یہ شعوردیا جائے کہ اس وباء سے بچنے کیلئے انہیں کیا کرنا ہوگا،انہوں نے کہاکہ ڈینگی کا جراثیم اگر چہ کافی خطرناک ہے مگر اس کا خاتمہ کرنا کو ئی مشکل کام نہیں عوام کو صرف یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے گھر کے اندرپانی کو کھڑانہیں ہونے دیں اورجہاں جہاں پانی کھڑاہو وہ صاف کریں،اسی طرح پانی کی ٹینکی،گملے،ٹائراودیگرمقامات پر پانی کو کھڑانہ ہونے دیں،انہوں نے کہاکہ سوات میں ڈینگی کی دوقسم کے جراثیم کی تصدیق ہوئی ہے جسے آئندہ سال سب نے مل کر ختم کرنا ہے۔
441 total views, no views today


