مٹہ (سوات نیوزڈاٹ کام)سابق امیدوار حلقہ این اے 30مولانا حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ ائندہ الیکشن مذھبی جماعتوں کیلئے ایک چیلنج ہے کیونکہ سیکولرجماعتیں ملکی مفاد کو نقصاب پہنچانے اور اغیار کے مفادات کیلئے کام کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی قیام کی بعد مٹہ تحصیل کے اجلاسوں میں تحصیل کے امیر اور جنرل سیکرٹری کو نہ بلانے اور جمعیت کے نظریاتی قائدین اور کارکنوں کو نظر انداز کرنا ضلع امیر اور جنرل سیکرٹری کیلئے ایک اہم سوال ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ہمارے قائدین کی کاوشوں سے مذھبی جمعتوں کا ایک پیلٹ فارم متحدہ مجلس عمل دوبارہ وجود میں ایا ہے اور الیکشن کا نتیجہ بھی انشاء اللہ حوصلہ افزا ہوگا لیکن ضلع سوات کے سطح پر ایم ایم اے اچھی طرف نہیں جارہا کیونکہ لوکل سطح پر ضلعی اور تحصیل کی تنظیمیں بنی ہین اور جمعیت علماء اسلام جماعت اسلامی اور دیگر کے درمیان تعاروفی اجلاس بھی ہوئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام کی طرف سے کون ان اجلاسوں مین شریک ہوئے ہیں کیونکہ جمعیت کے خاص لوگوں اور نظریاتی کارکنوں کو تو پتہ نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ اج کل تحصیل مٹہ اور دیگر تحصیلوں میں ایم ایم اے کے تنظیمیں بن رہی ہیں لیکن دستوری طور پر تحصیل کے جمعیت علماء اسلام کے منتخب شدہ امیر کو ضلعی قیادت نے امارت سے ہٹادیا ہے انکے متبادل قائم مقام امیر کے دستوری چھ مہنے بھی گزر گئے ہیں اور تاحال تحصیل مٹہ کے امیر موجود نہیں انہوں نے کہا کہ دوسری طرف کارکنوں کے ووٹ پر منتخب شدہ تحصیل جنرل سیکرٹری اور عملہ کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے اور جنرل سیکرٹری سمیت پورے عملے کو ان پروگراموں کی بارے میں کوئی معلومات بھی نہیں ہوتے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جمہوری اور دینی جماعت ضلعی امیر اور جنرل سیکرٹری کا نام نہیں ہوتا کہ اوپر سے فیصلے مسلط کرتے رہے کیونکہ یہ دونوں عہدیدار اکثر فیصلوں میں مجلس عمومی یا مجلس شوریٰ کے مشاورت کے پابند ہوتے ہین انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ضلع سوات کے امیر اور جنرل سیکرٹری غیر قانانی طور پر ان عہدوں پر براجمان ہیں کیونکہ وہ بغیر ووٹ سے ان عہدوں پر موجود ہے انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی کو سوات میں ان دونوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ انکی ہٹ دھرمی کیوجہ سے سارے کارکن تشویش میں ہیں انہوں نے کہا کہ اگر یہی حال رہا تو متحدہ عمل اور جمعیت علماء اسلام کو جو نقصان ہوا اسکے ذمہ دار یہ دونوں ہونگے اور جمعیت علماء اسلام کے98فی صد کارکن اپنا کوئی لائحہ عمل وضع کریں گے
994 total views, no views today



