بریکوٹ،پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اپنے ناکامیوں چھپانے کیلئے احتجاجی سیاست کررہی ہے ، 90 دن میں کرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے 400 دن گزرنے کے باوجود صوبے ایک پر ائمری سکول تک تعمیر نہیں کیا ، چار حلقوں پر دھاندلی پر واویلا کر نے کے بجائے صوبہ خیبر پختوں خوا کے عوام بے روزگاری ، بدامنی ، مہنگائی ،ظالمانہ لوڈشیڈنگ ، جیسے مسائل سے خود کشیوں پر مجبور ہیں ، ان کیلئے لانگ مارچ کر یں ، عمران خان ، وزیر اعظیم بننے کی چکریں چھوڑ دیں ، ا
س صوبے عوام نے اپ مینڈیٹ دیا ہے ، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جا ئے ، ان خیالات کا اظہار قومی وطن پارٹی ملاکنڈ ڈویثرن جنرل سیکرٹری صدیق علی خان ، حلقہ پی کے 81 کے سابق سینئر نا ئب صدر فضل ودود باچا ، یونین کونسل غالیگے کے چیرمین گل رحمن خان ، سعادت خان ، خان محمد ، ودیگر نے تحصیل بریکوٹ کے علاقہ املوک درہ میں شمولیتی تقریب سے خطا ب کر تے ہوئے کیا ، اس موقع پر مختلف سیاسی پارٹیوں سے درجنوں خاندان مستعفی ہو کر قومی وطن پارٹی میں شامل ہو گئے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر لحاظ سے ناکام ہو چکا ہے ، صوبے میں بدامنی ، بے روزگاری ، مہنگائی ، کے بادل چھائے ہو ئے ہیں ، عوام ذہینی مریض بن گئے ہیں ، پختون قوم کو درپیش مسائل پختوں لیڈر حل کر سکتے ہیں ، پنجاب کے لیڈر پختوں قوم کے رسم ورواج سے نا واقف ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے خطے میں پختون قوم مسائل کے شکار ہیں ، اور پختوں کے مسائل اور مشکلات پراج تک کسی توجہ تک نہیں دیا ہے ، انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم بننے کیلئے پنجاب کی بالاستی اور ان کے مفادات کے بات کر نا شرط ہیں ، اسلئے ، اج عمران خان نے صوبہ خیبر پختوں خوا کے عوام کو درپیش مسائل چھوڑ کر وزیر اعظم کے چکر میں لانگ مارچ کے زریعے اپنے ناکامیوں چھپانے احتجاجی سیاست پر اتر ایا ہے ، انہوں نے کہا کہ پختوں قوم کے وسائل پرپنجاب عرصہ دراز سے قابض ہے ، جہاں بھی پختوں قو م ابا د ہیں ، وہاں پر معدانی ذخائر بڑی مقدار موجود ہیں ، مگر ان ذخائر سے پنجاب لطف اندوز ہو رہے ہیں ، اخر یہ کہاں کا انصاف ہے ، انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے روشن مسقبل کے خاظر پختوں قوم کا اتحاد واتفاق وقت کی اشد ترین ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے عوام سے تبدیلی کا نام ووٹ لیا ہے ، مگر ایک سال سے ذائد عرصہ گزرنے کی باوجود اج تک عوام نے کسی قسم کی تبدیلی محسوس نہیں کی ، البتہ ایک تدیلی ضرور محسو س ہو ئی ، عوام بجلی ٹرانسفارمروں کیلئے جھولی پھلاو مہم شروع کر رکھا ہے ، اور ممبران اسمبلی گلی کوچوں کے پختگی کو تبدیلی کا نام دے رہاہے ، اور سرکاری اداروں میں ایماندار افسران گھیرا تنگ ہوچکا ہے ۔ حالانکہ گلی کوچیوں کی پختگی کوئی نئی بات ہے نہیں ، ضرورت اس امر کی ہے ،کہ سوات کے عوام نے تحریک انصاف کے ممبران کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناےء ہیں ، اور اج تک سوات میں کسی قسم میگاپراجیکٹ پر کام کا اغاز نہ ہو سکا ، سوات یونیورسٹی کا بلڈنگ کئی سال گزرنے کے باوجود تعمیر نہ ہوسکا ، سوات جیل ابھی ویران کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے ، کالام روڈ کی خرابی کے باعث سوات کے سیاحت پر انتہائی اثرات مر تب ہو رہے ہیں
429 total views, no views today


