اسلام آباد: طالبان اورحکومتی کمیٹیوں کے اجلاس میں اس بات پراتفاق کیا گیا کہ مذاکرات آئینی حدود اوراس کے تقاضوں کے مطابق کئے جائیں گے۔ اسلام آباد کے خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں حکومت کی جانب سے عرفان صدیقی ، میجر ریٹائرڈ عامر، رستم شاہ مہمند اور رحیم اللہ یوسف زئی جبکہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں مولانا سمیع الحق، مولانا عبدالعزیز اور پروفیسر ابراہیم شامل تھے
، اجلاس کے حوالے سے جاری مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بات چیت کا عمل پاکستانی آئین کے حدود میں رہتے ہوئے کئے جائیں گے اور مذاکراتی عمل کے دوران ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جو امن کو نقصان پہنچائے، مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ طالبان کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کو تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے تیسری قوت کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا گیا، حکومتی کمیٹی نے طالبان کی اعلی قیادت سے ملاقات جبکہ طالبان کمیٹی نے وزیراعظم، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سبربراہ سے ملاقات کا مطالبہ کیا۔
اجلاس کے بعد حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹرعرفان صدیق اور طالبان کمیٹی کے نمائندے مولانا سمیع الحق نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ قومی تقاضوں کے پیش نظر خوشگوار ماحول میں نتیجہ خیز بات چیت کی گئی، امید ہے جلد حتمی نتائج تک پہنچ جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دہشتگردی کی تمام کارروائیوں کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیئے۔
واضح رہے کہ دونوں کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس منگل کو ہونا تھا تاہم حکومتی ارکان کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔
430 total views, no views today


