گويا ثواب کے بھى اپنے اپنے اسٹنڈرڈ مقرر ہيں
جوكہ امداد کے مستحق پر منحصر ہے يعنى بھوكے كو کھانے كيلۓ كچھ ديا تو بھوکا ثواب ملے گا مريض كو علاج كے پيسے دۓ تو عليل ثواب ملے گا كسى كو تعليم ميں مدد فرمائى تو تعليم يافتہ ثواب ملے گا لہٰذا صاحب استطاعت لوگ اب اسٹنڈرڈ كو ديکھتے ہوۓ مدد كرتے ہيں اب خوار و بھوکے ثواب كا کيا كرنا جب اچھے بھلے اقسام کے ثواب دستياب ہيں.
ميرے دوستوں كو ميرى جنت كى فكر لگى رہتى ہے تو بعض اوقات مجھے نصيحت كرنے لگ جاتے ہيں يا مجھے ثواب كمانے كے مواقع فراہم كرتے ہيں جيسا كہ كل ميرے ايک دوست مجھ سے فرمانے لگے كہ ايک لاچار لڑكى كا داخلہ كرانا ہے ايک كالج ميں اور پرائيويٹ كالج ميں كرانا ہے كيونكہ سركارى كالجوں ميں پڑھائى اچھى نہيں ہوتى مذكوره لڑكى كا سالانہ فيس ساٹھ ہزار روپے تھا جوكہ كالج انتظاميہ نےلڑكى كى غربت كو مد نظر ركھتے ہوۓ اور كچھ همدرد لوگوں كے اصرار پر ساٹھ ہزار سے كم كركے تيس ہزار روپے كردۓ ميرے دوست نے مجھ سے كہا كہ اگر كچھ تعاون آپ كرديں كچھ ميں كردوں اور باقى دوستوں كو موقع ديں تو ھم اس لڑكى كا داخلہ فيس جمع كراسكتے ہيں جوكہ بہت ہى ثواب كا كام ہے.
تو ميں نے بس اتنا كہہ ديا كہ مفلس و غريب بھوكوں مررہے ہيں ايک ايک نوالے كو ترس رہے ہيں ان كے پيٹ ميں بھوک کى آگ لگى ہوئى ہے غربت و افلاس سے مجبور يہ لوگ اپنے جگر گوشوں كو علاج كى سہوليات كى عدم دستيابى كى وجہ سے موت كے حوالے كرنے پر راضى ہيں تو جتنے پيسوں كى گنجائيش ميں نكال سكتا ہوں كيوں نہ ان پيسوں سے كسى غريب كى پيٹ كى آگ بجھے ؟؟ يا كيوں نہ كسى غريب كے بچے كا اتنا ہى علاج ہو سكے جتنے پر وه موت تک كا سفر بغير چيخ و پكار كے طے كر سكے!!!
تو اس نے ناگوار نظروں سے ميرى طرف ديكھا.
ميں ايک شعر سنانے ہى والا تھا كہ اس نے ميرى بات كاٹ كر ميرے دوسرے دوست كو مخاطب كيا اور سرگوشى سے اس كے كان ميں كچھ كہا !!
اندازے كے مطابق انہوں يہ كہا ہوگا كہ يہ بد نصيب كيا جانے کہ يہ مواقع بہت كم لوگوں كو نصيب ہوتے ہيں.
خير
مذكوره بالا دوست نے تو شعر نہيں سنا !! چلو آپ كو سناتا ہوں
وہ جس کا ایک ہی بیٹا ہو ۔۔۔۔۔ بُھوکا آٹھ پہروں سے
بتاؤ اہل ِ دانــــش تم ۔۔۔۔ وہ گــــــندم لے؟یا تختی لے؟
ميں تعليم كو لازمى اور فرض سمجھتا ہوں ليكن پيٹ كى آگ بجھنے كے بعد !!!
“بهوک تہذيب كے آداب بُهلا ديتى ہے”
نظريات و عقل و شعور كى بارى طبعى بقا كے بعد ہى آتى ہے.خالى پيٹ منطق و دليل سے قطعى نااشنا وعارى ہوتا ہے.
بهوک اور خالى پيٹ كسى بهى مہذب قوم كو ناراض جانوروں كےجهنڈ ميں تبديل كرسكتى ہے.
بقول شاعر
دو وقت کی روٹی بھی میسّر نہیں جس کو
کب تک وہ عقیدے کی غذا کھا کے جئے گا
ہمارے معاشرے ميں غربت كے مارے ايسے بھى لوگ ره رہے ہيں جن كو علاج بھى آٹے كى طرح حساب كيمطابق خريدنا پڑتا ہے اور يہ ايک مفروضہ نہيں بلكہ ميرے مشاھدے ميں ہے اور ميں ايسے لوگوں كو جانتا بھى ہوں كہ جن كا اگر بچہ بيمار پڑ جاۓ اور ڈاكٹر كو دكھانا لازمى ہو تو محلے كے ميڈيكل ٹيكنيشن (بابو صاحب) كے پاس جاكر پچاس روپے بابو صاحب كو ديتے ہوۓ كہتے ہيں ڈاكٹر صاحب ميرے بچے كو بچاؤ صبح سے اب تک آٹھ دست ہوچكے ہيں اور قے و اُلٹياں بھى آررہى ہيں.
بابوصاحب كڑک دار لہجے ميں پوچھتا ہے
كتنے پيسے لاۓ ہو؟
جواب ملتا ہے
“پچاس روپے كا علاج كردو”
اور اس کے بعد وہى ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے يعنى بھيک و خيرات سے ملے محدود پيسوں سے تين يا چار چکر لگ جاتے ہيں بابو صاحب كى كلينک تک اور پھر پندره سے بيس دن بعد……!!
فرشتوں نے. . . جسے. . .”سجدہ” کیا تھا
وہ. . . کل …. فٹ پاتھ پر . . مردہ پڑا تھا !
ان بھوکى ننگى لاشوں کا کيا بنے گا؟ کيونكہ اسلام كا اصول ہے كہ زمينى مسائيل كو زمينى وسائيل کےبروۓ كار لاتے ہوۓ زمين والوں نے ہى زمينى طريقوں سے حل كرنے ہيں فرشتے نہيں آئينگے غريبوں كى مدد كرنے !! الله تعالٰى نے ہميں يہ ذمہ دارى سونپى ہے ھم نے ہى ايک ايسا معاشره تشکيل دينا ہے جسں ميں رزق کے سرچشموں کا مساوى و موثر تقسيم ممکن بنايا جاسکے جس كى بنياد ہى معاشرتى انصاف پر ہو جس ميں خيرات دينے والا تو ہو ليکن لينے والا کوئى نہ ہو جس ميں انسان تو انسان كتّے کى بھوک کى بھى فکر ہو اور يہ تب ممکن ہے جب ھم عبادات كيساتھ ساتھ معاشيات کو بھى لازم كرديں.
قريبى رشتہ داروں و ہمسايوں سے ماوراۓ رِيا وتشہير تعاون و صلہ رحمى اپنے اوپر لازم كرديں ان كے زرق كا بندوبست اور علاج كے خرچ كا بندوبست اپنى استطاعت كے مطابق معمول بنائيں تب ہى ايک بدلاؤ آۓ گا جوکہ تبديلى ہوگى
جذباتى و بھڑکتى تبديلى نہيں .. عقلى و منطقى تبديلى !!!
616 total views, no views today


