مہمانوں کولے کر سیرکرائی رات گئے واپسی ہوئی کھانے کے بعدمہمان لگ گئے سوات کے قدرتی حسن کی تعریفیں کرنے مگرشائدان کے منہ سے کوئی ایساجملہ نکلاہوجس میں یہاں کی بدحال سڑکوں کا تذکرہ نہ ہو،سوات واقعی جنت کاٹکڑہ ہے
جہاں باربارآنے کو جی کرتا ہے مگر یہاں کی سڑکوں کی حالت دیکھ کریہاں آنے کی خواہش دم توڑدیتی ہے ،ایک مہمان نے کہا،بھئی میں تو پہلی بارسوات آیا ہوں مزہ آیا مگر بدحال سڑکوں نے توسارامزہ کھرکھرہ کردیا،یہ میرا دوسرامہمان تھا جو سڑکوں پرتبصرہ کررہاتھا ،یارسڑکیں دیکھنی ہیں تو پنجاب کی سڑکیں دیکھ لو جن پر سفرکرتے ہوئے آپ محسو س کریں گے جیسے ہواؤں میں اڑرہے ہو،تیسرے مہمان نے تو مجھے جیسے پنجاب آنے کی دعوت دی،بھائی ہم نے وہ سڑکیں بھی دیکھی ہیں واقعی اپنی مثال آپ ہیں مگروہاں تو پوچھنے والے بھی موجود ہیں اورعوام کے غمخواربھی موجودہیں،یہاں تو ایساکوئی شخص نہیں جسے عوامی مشکلات کا احساس ہو،ایک پی ٹی آئی تھی جس سے لوگوں نے متعددامیدیں وابستہ کررکھی تھیں مگر شومئی قسمت اس پارٹی نے تو عوام کی امیدوں پر پانی پھیردیا،میں نے مہمانوں کو جواب دیااورپھرموضوع بدل دیاتاکہ وہ سڑکوں پرمزیدبحث کرنا بند کردیں کیونکہ اس سے کسی بھی حکومتی اہلکار کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی تاہم میں موضوع کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا اوربحث چلتی رہی۔
پورے ملک پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھنے والی پی ٹی آئی نے عوام کے اصل مسائل سے منہ پھیرکر احتجاجی مظاہروں پروقت ضائع کرنے کا سلسلہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کررکھاہے مگر کہاجاتا ہے کہ اپنے خواب کوشرمندۂ تعبیرکرنے کی خوش فہمی میں مبتلا عمران خان کومایوسی اورشرمندگی کے سواکچھ ملنے والا نہیں ،ایک ایمورٹڈشخص کو ساتھ ملاکر لاء اینڈآرڈرکی صورتحال پیداکرنے والے عمران خان کوپہلے صوبہ کے پی کے کی حالت زار پرتوجہ دینی چاہئے کہ انہیں ووٹ دینے اوراب اپنے اس عمل پرپچھتانے والے کس حال میں ہیں؟؟الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کے وعدے اوربلندوبانگ دعوے،ایسالگتاتھا کہ اقتدارمیں آتے ہیں خیبرپختونخواایسی ترقی کرے گا کہ پوری دنیااس کی مثالیں دے گی مگرالیکشن کے بعددیگرحکمرانوں کی طرح عمران خان نے بھی یہاں کے عوام سے آنکھیں پھیرلیںیہی وجہ ہے کہ اب عوام انہیں ووٹ دینے پرپشیماں ہیں بلکہ پچھتا رہے ہیں،میں نے اپنے مہمانوں کوجواب دیا،وہ طنزیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگے جس کا مطلب میں خوب سمجھ رہاتھا۔
عام انتخابا ت میں صوبہ بھر کی طرح سوات کے عوام نے بھی پی ٹی آئی کے امیدواروں کودل کھول کرووٹ دیا جس کا مقصدیہ تھاکہ عوام انہیں اس بات کا اہل سمجھتے تھے کہ وہ عوامی مسائل کوحل کرنے سمیت علاقے کی تعمیروترقی کیلئے بھی عملی اقدامات اٹھائیں گے مگر ایسانہ ہوسکا،پی ٹی آئی کے تبدیلی ،انصاف اوردیگرنعرے دم توڑگئے مگرعوام نے کسی قسم کی مثبت تبدیلی محسوس نہیں کی،وہی بے بس عوام،وہی مشکلات،وہی مسائل،وہی مصائب اورسڑکوں کی وہی ابتر حالت جوں کے توں موجود ہیں،پی ٹی آئی کے اپنے وعدوں سے انحراف اورعدم توجہی کی سبب ایک ایک کرکے عوام کی امیدیں بھی دم توڑگئیں۔
صوبہ خیبرپختونخواکے سب سے پسماندہ ضلع جسے ہردورمیں بری طرح نظراندازکیا گیا ہے سوات ہے جس کے عوام نے بھی نے آنکھیں بند کرکے الیکشن میں اپنے ووٹ کے ذریعے یہاں کی صوبائی اورقومی نشستیں پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال کراسے صوبے میں حکومت قائم کرنے کاموقع دیا مگرپی ٹی آئی نے سوات کے عوام کے اس خلوص کی قدرنہیں کی اوربدلے میں ان کی امیدوں کا قتل عام کرتے ہوئے ان کی جھولیاں مایوسی اورمحرومی سے بھردیں، نہ صوبہ ترقی کرسکا اورنہ ہی سوات ترقی کی راہ پر گامزن ہوا،اورتواوروہ سڑکیں جن کے کھڈوں پر سابقہ حکمرانوں کی ہدایت پرمٹی ڈال کرڈھانپاجاتا تھا مگرپی ٹی آئی وہ تسلسل بھی قائم نہ رکھ سکی اسی غفلت کا ہی نتیجہ ہے کہ سوات کی وہ سڑکیں جو پہلے کھنڈرات کا نقشہ پیش کرتی تھیں آج آثاقدیمہ کا نقشہ پیش کررہی ہیں،اگرپی ٹی آئی کے کسی ممبرسے اس بابت پوچھاجائے تو وہ این ایچ اے اورایف ایچ اے کی بات کرکے معاملہ رفع دفع کردیتا ہے ،بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ صوبائی اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی میں توبھی ان کی نمائندگی موجود ہے مگربھینس کے آگے بین بجانے کا کیافائدہ ؟
اگر یہ مانا جائے کہ سوات کے ریاستی دور میں چندگاڑیوں کیلئے بنائی گئیں ان تنگ سڑکوں کو کشادہ کرنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی فارمولہ موجود نہیں تو کم ازکم ان کی بدحالی کوتودورکرنے کیلئے تومنصوبہ بندی کی جاسکتی ہے ،آثارقدیمہ میں تبدیل ہونے والی ان بدحال سڑکوں پرسفرکرنا جوئے شیرلانے کے مترادف ہے مگریہ یہاں کے عوام کی مجبوری ہے جو دن رات ان بدحال سڑکوں پر مسافت کرتے ہیں،سوات میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کی سب سے بڑی وجہ بھی یہ بدحال سڑکیں ہیں جس پر کبھی پانچ منٹ تک پہیہ رواں دواں نہیں رہ سکتابلکہ منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں طے کرناپڑتا ہے،ہرجگہ بھیڑگاڑیوں کی قطاریں اوربے ترتیب ریلا حکمرانوں کی غفلت کاثبوت پیش کررہا ہے۔
سڑک جو کسی بھی علاقے کی معیشت اورسیاحت کی ترقی اورفروغ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اورسوات جہا ں پرقدم قدم پرسیاحت کے مواقعے موجود ہیں مگر سڑکوں کی ابترصورتحال کی وجہ سے یہ مواقعے بری طرح ضائع ہورہے ہیں،سوات آنے والے سیاح اگرچہ بہت سی خوشگواریادیں لے کر واپس جاتے ہیں مگر وہ زندگی بھر سڑکوں کی بدحالی بھی نہیں بھول پاتے،عمران خان جو اس وقت بے جامارچ،دھرنوں،مظاہروں اورجلسے جلوسوں پر بے دردی کے ساتھ قومی وسائل اورپیسہ ضائع کررہے ہیں اگر ان وسائل کے آدھے سے بھی کم وسائل کو کے پی کے کی تعمیروترقی پر خر چ کیاجائے تویقینایہ صوبہ ترقی اورخوشحالی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ بن جائے گامگریہ تب ہوگا جب عمران خان پورے ملک پر حکمرانی کاخواب دیکھنا چھوڑدیں اوراپنی تمام ترتوجہ اس صوبے اوریہاں کے عوام پرمرکوزکریں جہاں کے عوام نے انہیں تبدیلی لانے کیلئے ووٹ دیاتھا،اب بھی عمران خان کے پاس موقع ہے کہ وہ غیر ضروری دھرنوں اورجلوسوں کاسلسلہ ختم کرکے حقیقی معنوں میں صوبہ خیبرپختونخواکے عوام کی ترجمانی کریں ،اس سے اگر ایک طرف وہ اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرسکیں گے تودوسری طرف آئندہ وقتوں کیلئے یہ موقع بھی پیداکرسکیں گے کہ لوگ دل کھول کرانہیں مینڈٹ دیں گے اوراگر اب بھی خان صاحب راہ راست پر نہیں آئے تو یقیناًکہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں پولنگ اسٹیشنوں میں پڑے ہوئے ان کی پارٹی کے بکسے ووٹ کی پرچی ہو ترسیں گے۔
454 total views, no views today


