قارئین کرام! پشتو کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’ہوخیارہ مرغئی اول گیریگی نہ او چے گیریگی بیا دَ دوانڑہ خپو نہ گیریگی۔‘‘ کچھ یہی صورت حال ہر دل عزیز ضیاء الدین یوسف زئ ’’صاحب‘‘ کی ہے۔
برسبیل تذکرہ، آپ لوگوں نے ملک ریاض کا وہ پلانٹڈ انٹرویو تو سوشل میڈیا پر ملاحظہ کیا ہی ہوگا جس میں انٹرویو سے پہلے طے پانے والی باتوں کو دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انٹرویور اور ملک ریاض کے درمیان باتیں طے ہوتی ہیں۔ اگر نہیں دیکھا، تو کوئی بات نہیں مشال ریڈیو کے ویب سائٹ پر عبدالحئی کاکڑ صاحب کی ضیاء الدین ’’صاحب‘‘ کے ساتھ صوتی انٹرویو ملاحظہ کیجیے۔ اگر کسی کو انٹرویو نہ ملے، تو بھی کوئی بات نہیں، میرے فیس بک صفحہ سے لے لیجیے۔ اسے بہ غور سنیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا یہ ’’پلانٹڈ‘‘ نہیں ہے؟
ارے ضیاء ’’صاحب‘‘! ہم تو آپ کو بڑا بردبار سمجھتے تھے۔ آپ کی برداشت کی داد دیتے تھے کہ سوشل میڈیا پر لوگ آپ کی کتنی ’’عزت افزائی‘‘ کرتے ہیں، مگر یہ کیا محض چند تحاریر کے چھپتے ہی آپ کا حوصلہ جواب دے گیا؟ جب آپ اپنی بیٹی کا روپ دھار کر ’’آئی ایم ملالہ‘‘ میں یہاں کے ایک مؤقر ادارے کو نشانہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ وہاں محض ’’سولہ سو روپے‘‘ کے عوض ملازمت کرتے تھے، اور یہ بالکل واضح نہیں کرتے کہ ان ادوار میں سولہ سو روپے کی قدر کتنی تھی، تو آپ پر بھی تو انگلی اٹھے گی نا!
ضیاء ’’صاحب‘‘! ٹیڈ ٹالکس کے اسٹیج پر ایک مداری کی طرح ڈگڈگی بجاتے ہوئے جب آپ ہمارے پختون معاشرے کے لیے ’’میڈیاکر سوسائٹی‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر اپنے الفاظ کا جادو جگاتے ہیں اور یہ کہہ کر تمام پختونوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہاں لڑکیاں پیدا کرنے والی عورت کو سبز قدم سمجھا جاتا ہے یا بچیوں کی اس ’’میڈیاکر سوسائٹی‘‘ میں کوئی حیثیت نہیں، تو بہ خدا اس وقت میرا آپ کا ’’دہن مبارک‘‘ نوچنے کو جی چاہا۔ اور وہ اس لیے کہ میں بھی دو بچیوں کا باپ ہوں اور اس ’’میڈیا کر سوسائٹی‘‘ کا حصہ ہوں، تو میرے گھر میں تو ایسا نہیں ہے۔ میں نے اپنے دوست احباب سے بھی پوچھا کہ بھئی، ’’میڈیاکر سوسائٹی‘‘ کے باسیو، بتاؤ تمھیں بیٹیاں پیدا کرنے کے بعد افسوس ہوا ہے؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ’’کاکا، بیٹیاں تو اللہ کی رحمت ہیں۔‘‘ میں نے انھیں کہا کہ آؤ ایک مداری کو سنو جو یہود و نصاریٰ کا دیا ہوا رزق ایک مجمع لگا کر ’’حلال‘‘ کر رہے ہیں۔ سب نے آپ پر وہ طبریٰ بھیجا کہ الامان و الحفیظ۔
قارئین کرام! میں بہک کر کہیں اور نکل گیا۔ بات ہو رہی تھی ضیاء ’’صاحب‘‘ اور کاکڑ صاحب کے ’’پلانٹڈ‘‘ انٹرویو کی۔ انٹرویو سن کر افسوس ہوا اور ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ ضیاء ’’صاحب‘‘ نے ان تمام باتوں کا اعتراف کرہی لیا جو سوات کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ کاکڑ صاحب کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ اس سے پہلے موصوف نے ضیاء ’’صاحب‘‘ کی سیڑھی، معاف کیجیے گا بیٹی ملالہ کو بھی، تو ایک کردار بنانے میں دامے، درمے، قدمے، ’’قلمے‘‘ معاونت فرمائی ہے اور آج عوض کے طور پر خود ماشاء اللہ الا باللہ کس مقام پر ہیں۔ اب جب کاکڑ صاحب کے تراشے ہوئے کرداروں پر ہر طرف سے انگلی اٹھائی جا رہی ہے، تو موصوف اگر دامے، درمے، قدمے نہیں تو ’’آوازے‘‘ معانت کرنے آن پہنچے اور اپنے ادارے مشال کے لیے ’’محسن سوات‘‘ ضیاء ’’صاحب‘‘ سے ایک ’’پلانٹڈ انٹرویو‘‘ کرگئے۔
ضیاء ’’صاحب‘‘ کا کہنا ہے کہ اہل سوات ان پر تنقید کر رہے ہیں کہ ملالہ فنڈ کے تحت بچیوں کی تعلیم کا ٹھیکا ان کے اپنے ذاتی اسکول کو دیا گیا ہے۔ اس کی موصوف نے یہ وجہ بتائی ہے کہ اس ٹھیکے کو لینے کے لیے کوئی اور تیار ہی نہیں تھا۔ لوگ ’’ملالہ‘‘ کے نام سے ڈر رہے تھے۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ پراجیکٹ خوشحال اسکول کو ادارۂ تعلیم آگاہی تنظیم کے تحت دیا۔ ’’موصوف‘‘ کے بڑے پن کا اندازہ اس بات سے لگ گیا جب انھوں نے کہا کہ ہم نے ملالہ فنڈ سے ’’انیویٹو یوتھ فورم‘‘ کو ایک سمینار کے لیے تین لاکھ روپے بھی ’’عطیہ‘‘ کیے ہیں۔ وہی اینویٹو یوتھ فورم جس کے پلیٹ فارم سے حالیہ ایک تقریب’’آؤ، ایوارڈ ایوارڈ کھیلیں‘‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ موصوف کے کہنے کے مطابق انھوں نے پانچ لاکھ روپے سے اسپتال کو سامان بھی فراہم کیا ہے۔ انٹرویو میں یہ بات سنتے ہی میری ہنسی چھوٹ گئی کہ پانچ لاکھ کی رقم اسپتال کی کیجولٹی کے لیے اونٹ کے منھ میں زیرے کے مصداق بھی نہیں ہے۔ اس طرح دس لاکھ افراد کے لیے روزگار کی خاطر بھی وہ رقم بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم کہاں اور کن بے روزگاروں میں تقسیم ہوئی، واللہ اعلم۔ اب ’’موصوف‘‘ مستقبل میں ایک یتیم خانہ کو تیس بچیوں کی تعلیم کے لیے سڑسٹھ لاکھ روپے دینے کا بھی سوچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’موصوف‘‘ نے گلوبل پیس کونسل کو سیدو شریف اسپتال کے لیے پچیس لاکھ روپے کا فنڈ بھی بھیجا ہے۔
شاباش ضیا ء ’’صاحب‘‘! آپ کو میں سوات آنے کی دعوت اس وجہ سے نہیں دے سکتا، کیوں کہ ٓآپ نے خود میری اس تحریر کو سند قبولیت بخشی ہے جس میں، مَیں نے لکھا تھا کہ ضیاء ’’بھائی‘‘ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ اب دوسروں کے ہاتھوں کا ’’پتلا‘‘ ہے۔اس کے تار کوئی اور ہلا رہا ہے۔ انکل سرگم کی طرح اس کے حلق میں کسی نے ہاتھ دے رکھا ہے اور اس کا جبڑا کوئی اور ہلا رہا ہے، تبھی تو وہ اپنے پختون وطن اور قوم کو ’’میڈیاکر سوسائٹی‘‘ قرار دے رہا ہے۔ ’’صاحب‘‘ اسی ’’میڈیاکر سوسائٹی‘‘ میں آپ ضیاء الدین سے ضیاء الدین ’’یوسف زء‘‘ بنے۔ آپ کے ’’پتلے‘‘ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت آپ نے خود انٹرویو میں دے دیا کہ جب آپ نے اپنے ’’آقاؤں‘‘ سے23 مارچ کو اپنے ملک آنے کی اجازت مانگی، تو آپ کو جواب نفی میں ملا۔ ضیاء ’’صاحب‘‘، اپنے خاندان کی زندگی کی ضمانت مت مانگیں۔ آپ آجائیں، میرے ملک میں بدامنی اتنی بھی نہیں کہ آپ خود کو اتنا غیر محفوظ تصور کریں۔ میرے ملک میں جتنے بڑے اور محب وطن لوگ رہتے ہیں، آپ کو اس کا اندازہ بھی نہیں۔وہ یہاں سے بھاگنے والے نہیں ہیں۔ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے یہاں رہ رہے ہیں، آپ کی طرح اولاد کو ’’سیڑھی‘‘ بنا کر بام عروج پر پہنچنا نہیں چاہتے۔
آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا اور سوات میں مکمل امن کے بعد آپ ’’صاحبان‘‘ بڑے بڑے پراجیکٹ پر کام کریں گے۔ کسی سے پوچھ تو لیتے کہ پاک فوج کے زیر اہتمام سوات ٹوورسٹ گالا یا چھوٹی عید پر سوات میں سیاحوں کا رش کتنا رہا؟ الحمد اللہ، اب یہاں امن کا دور دورہ ہے، بس آپ ہمت کرکے آجائیے اور اپنے ساتھ ڈگڈگی لانا نہ بھولیے، کیوں کہ باقی ماندہ دنیا بھلے ہی آپ کو ’’ہیرو‘‘ تصور کرے، ہم تو آپ کو ’’طوفان‘‘ کا زبردست متبادل شعبدہ باز مانتے ہیں۔
شمالی وزیر ستان کی بچیوں کے لیے خوئندو کور کو دس لاکھ روپے دینے کی بات کی ہے آپ نے، تو وہ تب دیں گے آپ، جب وہ معصوم بچے اور بچیاں پوری دنیا کے سامنے خوار ہوجائیں، پھر ان پختون بچیوں کو آپ کی ’’خیرات‘‘ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ خود بھی پختون ہیں، آپ کو پتہ ہے کہ پختون بھیک مانگنے کی بجائیں محنت مزدوری کو ترجیح دیتے ہیں۔
ضیاء ’’صاحب‘‘! آپ بڑے عورتوں کے حقوق کے علم بردار بنے پھرتے ہیں، میں آپ کو چیلنج دے کے کہتا ہوں کہ ذرا ایک لفظ اسرائیل کی فلسطین کی عورتوں اور بچیوں پر جاری جارحیت کے بارے میں تو منھ سے نکالیے، اگر آپ کو دھکے دے کر انگلستان کی سرزمین سے نہ نکالا گیا، تو میرا نام بدل دیں۔
ضیاء ’’صاحب‘‘! سوات میں ذرا اپنے تن خواہ داروں سے پوچھ لیں کہ یہاں کے لوگ آپ سے اور آپ کی چہیتی بیٹی سے محبت کرتے ہیں یا نفرت؟ آپ نے بھی تو کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلیں، ماشاء اللہ ، اب تو آپ نے ملالہ کے حق میں لکھنے کے لیے باقاعدہ طور پر تن خواہ دار رکھ لیے ہیں اور جن کی کوئی قیمت نہیں لگ رہی،ان کو منتیں کر رہے ہوکہ ملالہ کے حق میں دو جملے لکھ لو۔میں یہاں پر ان کے نام تو نہیں لکھ سکتا لیکن ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جن کی کوئی قیمت آپ نہ لگا سکے۔آپ کے کہنے پر جو لوگ لکھ رہے ہیں، ان کی اصلیت بھی یہاں کے عوام جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں اور سوات کے عوام کے نام پر کہاں کہاں سے فنڈز لیے ہیں۔
ضیاء ’’صاحب‘‘! ملالہ کو آپ نے سوات کی ترجمان اور آواز قرار دیا ہے، مگرسوات میں ایسی ہستیاں ہیں جو سوات کے عوام کے لیے جان تک دے سکتی ہیں۔ رائیل فیملی، کامران خان فیملی، سہراب خان فیملی اور ان کے علاوہ وہ تمام گم نام جو سوات اور پختونوں کی نیک نامی کے لیے مصروف جہد ہیں، جو آپ اور آپ کی بیٹی کی طرح شعبدہ باز نہیں ہیں۔
ضیاء ’’صاحب‘‘! آپ کے حواس جواب دے چکے ہیں، ورنہ آپ اپنے ’’عطیہ‘‘ کیے ہوئے چند لاکھ روپوں کے لیے انٹرویو ’’پلانٹ‘‘ نہ کرتے۔ میں بھی پاگل ہوں جو ایک ایسے شخص سے انسانیت کی توقع رکھتا ہوں جو شہرت کے لیے اپنی اولاد تک کو داؤ پر لگاسکتا ہے۔ بہت جلد آپ کے اندر کا انسان آپ کو پاگل خانے بھیجے گا، اور شائد یہی سزا آپ کے لیے کافی ہے۔ ’’میں منتظر ہوں اس دن کا۔‘‘
968 total views, no views today


