یہ ضد، یہ ہٹ دھرمی اور اپنے آپ کو بند گلی میں دھکیلنا واقعی ’’سیا سی خودکش دھماکا‘‘ کرنے کی تیا ری ہے۔ ایک تو آپ نے اپنے لیے کوئی دوست نہیں چھوڑا، سیاست دانوں سے لے کر ججوں، الیکشن کمیشن اور پھر میڈیا والوں تک کو نہیں بخشا جو واقعی سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ تمام آپ کے الزامات کی زد میں ہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں، بالکل ٹھیک ہے خان صاحب! مگر ہمارے ہا ں نہ تو اصولی سیاست ہے اور نہ اصولی جمہوریت۔ اور پھر خان صاحب! جب آپ کی پارٹی میں دوسری پارٹیوں سے لوگ شامل ہونے لگے اور آپ اپنے اصولوں سے ہٹنے لگے، تو یہ جواز پیش کیا کہ ’’میں فرشتے کہا ں سے لاؤں‘‘ تو اب لچک کا مظاہرہ کیوں نہیں فرماتے؟ خدا نہ کرے کہ کوئی ناخوش گوار وا قعہ پیش ہو، کیوں کہ ہمارے ملک میں ہمیشہ سے ہم یہی سنتے آرہے ہیں کہ ’’کچھ عناصر‘‘ یا ’’خفیہ ہاتھ‘‘ بہت طاقت ور ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ڈیڈلاک سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چاہے وہ لال مسجد ہو، اکبر بگٹی سے مذاکرات ہوں یا پھر طالبان سے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پورا ملک جمود کا شکا ر ہے، جس ملک کا دارالحکومت بند پڑا ہو، اس کے حالات کا اندازہ لگا نا مشکل نہیں ہے۔ ہمارا میڈیا بھی بے مثال کردار ادا کررہا ہے۔ اسے چند ہزار افراد نظر آرہے ہیں، مگر وہ دس لاکھ افراد نظر نہیں آرہے، جو آپریشن سے متاثر ہیں اور اپنے گھروں سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بس چینلوں کو اپنی ریٹنگ کی فکر لگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان صاحب اور نہ طاہر القادری صاحب نے اپنی تقاریر میں ان بے گھر افراد سے اظہار یکجہتی کی ہے۔ کم از کم یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ اس ملک میں ایک جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ کی حیثیت کیا ہے؟ پتا نہیں ان لوگوں کو کیوں مظاہروں میں لوگ پوری قوم دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے نوجوانوں اور لوگوں کو گرمانے کے لیے کھلے عام کشتی کے آ فرز بھی لیڈر کی طرف سے باربار دیے جا رہے ہیں، لیکن ایک سوال ذہن میں اٹکا ہوا ہے کہ کیا اگر جمہوریت کا بستر گول کردیا جاتا ہے، تو ان لوگوں کو ہمت ہوگی کہ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دے سکیں؟ کیا ہم جمہوریت کے قابل ہیں؟ قادری صاحب تو ویسے بھی موسمی دھرنا دیتے ہیں، مگر جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے اس کی سیا سی ساکھ کم از کم سنجیدہ عوام میں خراب ہوئی ہے۔ قادری صاحب اور عمران خان کے اردگرد وہ لوگ ہیں جو ایک ڈکٹیٹر کو سپورٹ کرتے رہے اور ان کے تیور اب بھی ا یسے ہیں کہ وہ کسی طور پر جمہوریت کے حامی نہیں ہیں۔ یہ لوگ چاہتے بھی یہی ہیں کہ تھرڈ امپائر کی انگلی اٹھ جائے۔
احتجاج جمہوری حق ہے مگر تقاریر سے لگتا ہے کہ معاملہ ذاتی اختلاف کا ہے۔ آپ اگر اپنے آپ کو قومی لیڈر مانتے ہیں، تو پھر ایسی زبان استعمال کرنے سے تو آپ کے پارٹی کے جذباتی ورکرز خوش ہوسکتے ہیں، مگر سنجیدہ لوگ نہیں۔ دوسری جانب ان دھرنوں میں جس طریقے سے کھلے عام خواتین و حضرات کے رقص دکھائے جا رہے ہیں، اس کا تو کسی طور ہمارا مذہب اجازت دیتا ہے او رنہ ہماری ثقافت ہی اجازت دیتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ دھرنے کسی طور پر بھی ایک ٹور یا دل لگی کے علاوہ کچھ ہوں،کیوں کہ اس میں مفت کھانا پینا، موسیقی، قوالیا ں اور بہت کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر نواز شریف استعفا دے بھی دے، تو کیا اس سے پورا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ کیا پھر دھاندلی نہیں ہوگی؟ کیا ہمارے ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف پارٹیوں کا راج نہیں ہے یا ہر صوبے کا اپنا الگ ووٹ بینک نہیں ہے؟ اس کے علاوہ سابق چیف الیکشن کمشنر سب کے مرضی سے نہیں بنا تھا۔ خاں صاحب بار بار ’’دوبا رہ الیکشن‘‘ پر زور دے رہے ہیں لیکن اس سے کیا ایسا ہوجائے گا کہ خاں صاحب کو اکثر یت مل جائے گی؟ عمران خان کو چاہیے کہ خود الیکشن کمیشن کی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین بن جائیں اور الیکشن نظام کو ٹھیک کریں۔ پہلے جن حلقوں پہ ان کو شک ہے، انھیں دوبارہ کھلوائیں اور ایک آزاد کمیشن کے ذریعے تحقیقات کروائیں، تو پھر عوام میں اس کی پوزیشن مظبوط ہوجائے گی اور اس کے مخالفین کو اخلاقی شکست ہوجائے گی، لیکن اگر اس طرح وہ مختلف لوگوں کے حوالے دے دے کر الزامات لگاتے رہے، تو اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا لیکن مطالبہ وزیر اعظم کو ہٹانے تک ہے، تو اس سے ملک میں یقیناًتصادم کی صورت حال اور ایک غلط روایت قائم ہوجائے گی۔ کیوں کہ کل نوازشریف دھرنا لیے بیٹھا ہوگا۔ تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں جو حکومت ملی، اس نے ابھی تک کچھ ایسے انقلابی کام نہیں کیے ہیں کہ یہاں کے عوام اتنی جلدی دوبارہ آپ کو منتخب کریں۔ یا تو آپ لوگ صحیح معنوں میں قومی اور تمام صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دے کر تحریک شروع کریں یا اس صوبے کو ایک ماڈل صوبہ بنائیں۔ عوامی نمائندوں کو تو دھرنوں سے فرصت نہیں، تو ایسے میں عوام کیاکریں؟ ایک عام آدمی کو آ پ لوگ کس طرح مطمئن کرسکیں گے کہ آپ نے جس کو ووٹ دیا ہے، وہ انقلاب لارہا ہے یا لوڈشیڈنگ وفاقی مسئلہ ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور خراب سڑکیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
نوازشریف صاحب کو بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں میں وزارتیں بانٹنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی، اپنی مرضی کا صدر لانا جس کا ملک میں بہ ظاہر کوئی کردار نظر نہیں آرہا، صرف خانہ پوری کے مترادف ہے۔ کیوں کہ اس پورے بحران میں صدر کو ایک ایکٹو کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ بھاری میڈیٹ اسے پہلے بھی ڈبو چکی ہے۔ جمہوریت کو اس وقت تقویت ملے گی جب ملک کے ادارے مظبوط ہوں گے۔ آزاد عدلیہ اور ذمہ دار میڈیا ہوگا۔ ایک دوسرے کے ساتھ میچ کھیلنے والو، یاد رکھو کہ جب دونوں امپائرز کنفیوژن کا شکار ہوں تو فیصلہ تھرڈ امپائر ہی کرتا ہے۔
740 total views, no views today


