پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تیرہ اگست سے شروع ہو نے والے دھرنوں نے پورے ملک کے عوام کو یک عجیب کشمکش میں مبتلا کیا ہے۔ ملک کو اس بحران سے نکالنے کے بجائے مختلف پارٹیوں کے سیاسی مشران اپنی سیاست چمکانے سے اس وقت بھی بعض نہیں آرہے۔ ایک طرف عمران خان اور طاہر القادری اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف جلتی پر تیل کا کام کرنے کے لیے سیاست دان ایک دوسرے پر سبقت لینے میں خوب مگن نظر آرہے ہیں۔ ہر وقت مختلف ٹی وی چینلوں پر ایک دوسرے پر جوابی حملے جاری رہتے ہیں۔ اس طرح گزشتہ کئی دنوں سے یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دھمکیاں بھی دی جاری ہیں کہ اگر دھرنے والو ں کی ہٹ دھرمی جاری رہی، توپورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ شروع کرلیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ان کے کارکنان بھی اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں۔
قارئین کرام! یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان دھمکیوں سے ہم ملک کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں؟ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس وقت اپنے مفاد کے بجائے ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ اس طر ح ہٹ دھرمی اور ’’میں نہ مانوں‘‘ والا رویہ روا رکھا جائے، جس سے ملک میں مزید انتشار ہی پھیلے گا اور کچھ نہیں ہوگا۔
قارئین کرام! اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں کو ملک و قوم کی بقاء کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ہمارے ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب یہاں پانی سر سے گزر جاتا ہے، تب ہم سنجیدہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر مسائل کے حل کے لیے وقت پر سنجیدہ اقدام کیے جاتے، تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ میں نے خود بہ حیثیت ایک ذمہ دار صحافی اسلام آباد میں آزادی اور انقلابی مارچ کی کوریج کی ہے۔ وہاں پر عوام(خصوصاً نوجوان) کے جذبات دیکھنے کے قابل ہیں، مگر دوسری جانب جڑواں شہرو ں اسلام آباد اوروالپنڈی کے باسی اور خصوصاً محنت کش طبقہ اس دھرنے کی وجہ سے گونا گو مسائل سے دوچار ہے۔ دارالحکومت ان دھرنوں کی وجہ سے محاصرے میں ہے۔ ہزاروں پولیس، رینجرز، ایف سی اور پاک فوج کے جوان اسلام آباد میں تعینات ہیں۔ اس کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر جگہ جگہ کنٹینر رکھے گئے ہیں، جس کی وجہ سے پانچ منٹ کا راستہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ اسکولوں کی چھٹیوں میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔ لوگوں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطا بق روزانہ کی بنیاد پر ایک سو پچاس ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ معیشت دن بہ دن زوال کا شکار ہو رہی ہے، لیکن اس کا خیال کسی بھی جماعت کے پاس نہیں۔ بس سب اپنی اپنی کرسی بچانے اور اپنے مفاد کی خاطر لگے ہوئے ہیں۔ اگر یہی حال رہا، تو اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔
قارئین کرام! اس ساری صورت حال میں سب سے بڑا نقصان کنٹینر والوں کا ہو رہا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے بڑے بڑے کنٹینروں کو راستے میں رکھ دیا گیا ہے، مگر ان کو ابھی تک ایک روپیہ مزدوری بھی نہیں دی گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ان غریبوں کے بارے میں کیوں کر نہیں سوچا جاتا۔ کرے کوئی بھرے کوئی۔
اب تو یہ صورت حال ہے کہ دھرنوں میں شرکت کر نے والے ریڈ زون میں دھرنا دے رہے ہیں۔ اور اسی دھرنے کے ارد گرد موبائل ٹیمیں بھی کا م کر رہی ہیں، جس میں روزانہ کی بنیاد پر دو سو سے تین سو تک مریضوں کا علاج کیا جا تا ہے۔ ان میں زیادہ تر شکایات معمولی بیماریوں کی ہیں۔ گیسٹرو، قے، سر درد، پیٹ درد اور دیگر چھوٹی موٹی بیماریاں۔ اس طرح ادھر نہ تو سونے کی جگہ ہے اور نہ رفع حاجت کی۔ اور اگر دھرنا مزید جاری رہتا ہے، تو وہاں کے صفائی کے ناقص انتظام اور تعفن سے دھرنے والوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے باسیوں کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خد شہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قارئین کرام! اس وقت پاکستان کی حالت پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کو چاہیے کہ اپنے مفاد سے ہٹ کر ملک کے استحکام کے بارے میں سوچیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے باز آئیں۔ ملک کو اس بحران سے نکالنے میں سب اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ہمارے سیاست دانو ں کا یہی حال رہا، توپھر تیسری قوت کو میدان میں کود نے میں دیر نہیں لگے گی۔ خدارا، جمہوریت کو مضبوط کرنے اور ہمارے پیارے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گام زن کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے دائرے میں ایسے اصلاحات لائے جائیں کہ مستقبل میں ان دھرنو ں جیسی صورت حال پیدا نہ ہو۔ عمران خان کے دھرنے سے شاید ایک کامیابی مل جائے اور وہ یہ کہ الیکشن کمیشن میں اصلاحات کے بعد آئندہ الیکشن کا عمل شفاف ہو۔ خدا کرے کہ میرا یہ خیال حقیقت میں بدل جائے۔
مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔ ان کو اس مسئلے کے حل میں زیادہ کردار ادا کر نا چاہیے، مگر بد قسمتی سے وہ بھی ریلیوں کی شکل میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، تو دوسری جانب دیگر پارٹیاں بھی ملک میں دھرنوں کے خلاف ریلیاں نکال رہی ہیں، یہ واقعی ایک خطرناک عمل ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ عمل ملک کو تصادم کی طرف لے کر جائے گا۔ ان سیاست دانو ں کے ان کرتوتوں کی وجہ سے نواز حکومت کی کشتی کے ڈوبنے کا خد شہ پیدا ہو گیا ہے۔ دھرنوں کی جگہ وہ مقام ہے، جہاں پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا تھا، مگر آج کل وہاں ہر وقت لوگوں کی بھیڑ رہتی ہے جو بارود کے ڈھیر سے کم نہیں۔ خدا نہ کرے کہ کوئی اسے ایک چنگاری دکھا دے، پھر کیا ہوگا، اس کے بارے میں سوچتے ہی آدمی لرز اٹھتا ہے۔
832 total views, no views today


