مینگورہ،سوات کی تحصیل خواہ خیلہ کے رہائشی گل اکبرنے کہا ہے کہ عمرکا بیشترحصہ بیرون ملک میں محنت مزدوری کرکے گزارہ اوراس دوران جو کچھ کماتارہا بھائیوں کے نام بھیجتارہاتاکہ ملک واپس آکرباقی زندگی آرا م سے گزارسکوں مگرگاؤں آکر پتہ چلا کہ میری بھیجی گئی
رقم پر بھائیوں نے جائیدادخرید کر اپنے نام کردی ہے جس کے بعد میں دردر کی ٹھوکریں کھاتاپھررہا ہوں اعلیٰ حکام مجھے انصاف فراہم کریں،سوات پریس کلب میں عمائدین علاقہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 1979میں محنت مزدوری کی غرض سے بیرون ملک گیا جہاں پر جو کچھ کماتا وقتاََ فوقتاََ بھائیوں کے نام بھیجتارہا اورجب 1987میں وطن واپس آیا توپتہ چلا کہ میری بھیجی ہوئی رقم سے میرے بھائی صنوبر نے جائیدادخرید کراپنے نام کرادی ہے جس کے بعد میں نے کئی جرگے بلائے مگر بھائی کسی کی بھی نہیں مانتایہاں تک کہ جب میں جائیدادیکھنے جاتاہوں تو پولیس مجھے تنگ کرتی ہے،انہوں نے کہاکہ عمرکا بیشترحصہ بیرون ملک میں محنت مزدوری کرتے ہوئے گزارہ مگر بھائیوں نے جمع پونجی سے محروم کرکے میرے ساتھ ظلم کی انتہاکردی ہے،اس وقت میں آبائی مکان میں رہتا ہوں جبکہ بھائی الگ رہ رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ اس وقت لاکھوں میں خریدی گئی یہ جائیدادآج کل کروڑوں روپے کی ہے ،انہوں نے مرکزی اورصوبائی حکومت سمیت چیف جسٹس آف پاکستان ،پولیس حکام اوردیگرارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طورپر انصاف دلاکر مجھے پریشانی سے نجات دلائیں،اس موقع پر علی اکبر میاں،کریم رحیم،محمدیاراوردیگر عمائدین علاقہ بھی موجود تھے۔
449 total views, no views today


