تحریر ؛۔ فضل خالق خان
تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب پورا ہونا کسی صورت ممکن نہیں ، آج دنیا کی جن اقوام نے ترقی کے آسمان کو چھوا ہے ان کی ترقی کا راز حصول تعلیم میں پوشیدہ ہے ، ملک عزیز بہ شمول سوات میں بھی اس خواب کو پورا کرنے کیلئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلبہ وطالبات میٹرک کا امتحان اس امید کے ساتھ پاس کرتے ہیں کہ آگے جاکر وہ ملک وقوم کی ترقی کے دوڑ میں شامل ہوکر اپنے ملک کا نام روشن کریں گے لیکن یہاں پہنچ کر ان کے اپنے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں کہ جب انہیں یہ پتہ چلتا ہے کہ مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے ان کو مقامی محدود کالجوں میں محدود نشستوں پر داخلہ ملنا ممکن نہیں، سوات جو ریاستی دور میں تعلیمی ترقی کے بام عروج پر تھا ،

اس زمانے میں والئی سوات نے یہاں کی پسماندہ ترین علاقوں حتیٰ کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی تعلیمی درسگاہیں بنائی ہوئیں تھیں تاکہ علاقے کا کوئی بھی بچہ تعلیم کی اس نعمت سے محروم نہ رہ پائے ، اس زمانے میں بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لئے انہیں مختلف قسم کی مراعات بھی فراہم کی جاتی تھیں، والئی سوات نے اپنے دور حکومت میں سوات میں عظیم علمی درسگاہ جہانزیب پوسٹ گریجویٹ کالج کا قیام عمل میں لایاتھا جو تاحال سوات کے ساتھ ساتھ دیگر ملحقہ علاقہ جات کی بچوں کی ضروریات پوری کررہا ہے لیکن وقت بدلنے اور آبادی میں اضافے کی بناء پر اب یہ درسگاہ طلبہ کی بڑھتی تعداد کی مناسبت سے کم پڑ رہا ہے اور مزید تعلیمی درسگاہوں کا قیام ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے جس سے ریاست سوات کے ادغامِ پاکستان سے لے کر تادم ہر آنے والی حکومت صرف نظر کررہی ہے۔

اس دوران سوات میں محدودے چند مینگورہ ڈگری کالج اور کبل ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا گیا اس کے ساتھ ساتھ تحصیل مٹہ میں افضل خان لالا کالج بھی قائم ہوا لیکن وہ بھی ہر سال مختلف اسکولوں سے میٹرک پاس کرنے والے طلبہ وطالبات کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں جس پر ضرورت اس امر کی محسوس کی جارہی ہے کہ موجود ہ حکومت جو تعلیمی ترقی کی بہت بڑی دعویدار ہے اور باالخصوص یہ پارٹی اپنے آپ کو نوجوانوں کی نمائندہ بھی ظاہر کرتی ہے اس بناء پر ان کی کاندھوں پر یہ ذمہ داری پڑتی ہے کہ اس کے ذمہ داران سوات کی نوجوانوں کو ملکی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لئے سب سے پہلے تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔

اس سلسلے میں حاصل شدہ اعدادوشمار کے مطابق سوات میں امسال کبل ڈگری کالج میں 3200 طلبہ نے داخلہ فارم جمع کئے جس میں محدود نشستوں پر صرف پانچ سو بچوں کو داخلہ مل سکا جبکہ دیگر تمام طلبہ محروم رہ جانے کے باعث در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے ،اسی طرح جہانزیب کالج میں بھی تقریباً6 ہزار طلبہ نے مختلف شعبوں میں داخلہ فارم جمع کئے جس میں آدھے طلبہ کو بھی داخلہ نہ مل سکا ، ذرائع کے مطابق امسال تقریباً26000بچے جو مختلف اسکولوں سے میٹرک پاس کرنے کے بعد اس امید کے ساتھ اپنے اسناد لئے مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے نکلے تو ان کے چودہ طبق روشن ہوئے کہ ان کی مزید تعلیم کے لئے مناسب سہولیات دستیاب نہیں ۔

واضح رہے کہ سوات ایک پسماندہ اور پچھلے عشرے میں دہشت گردی سمیت کئی طرح کی قدرتی آفات کا شکار علاقہ رہا ہے جس پر ضرور ت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت جس کا نعرہ ہی ملکی ترقی میں نوجوانوں کو شامل کرنا ہے لہذا سوات میں مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں ،سوات کی تحصیل مٹہ میں افضل خان لالا کالج موجود ہے لیکن وہ بھی بالائی سوات کی ہر سال میٹرک پاس کرنے والے طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے جس پر تحصیل مٹہ ، کبل ، بریکوٹ بحرین، سمیت دیگر علاقوں میں نئے کالجوں کاقیام نہایت ہی ناگزیر ہوچکا ہے ۔
اس سلسلے میں خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ اب تو مرکز اور صوبے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود کا تعلق بھی سوات ہی کے علاقے مٹہ سے ہے انہیں بھی بخوبی اپنے علاقائی مسائل سے آگاہی حاصل ہے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ سوات میں اعلیٰ تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی میٹرک کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے دیگر علاقوں کا رُخ کرچکے تھے لہذا اپنی آئندہ نسلوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنانے کیلئے اللہ تعالیٰ انے انہیں ایک بڑا ہی خوبصورت موقع دیا ہے اگر وہ اس سے فائدہ اُٹھا کر سوات میں مزید کالجز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں پر مختلف ہنر سکھانے والے کالجز اور مکینکل کالجز کا قیام یقینی بنائے تو اس سے سوات کی طلبہ وطالبات کو گھر کی دہلیز پر مناسب سہولیات کی فراہمی سے قومی ترقی کے دوڑ میں شامل ہونے کا خواب حقیقی معنوں میں پورا ہوجائے گا ،

مزید یہ کہ انہوں نے سوات میں میڈیا سے اپنی پہلی گفتگو میں اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ جب تک مزید کالجوں کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا تب تک پہلے سے موجود کالجوں میں شام کی کلاسوں کا اجراء کرکے طلبہ کو درپیش مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی لہذا اس پر اگر عمل کیا جائے تو امسال میٹرک پاس کرنے والے طلبہ کی مسائل میں کسی حدتک کمی لائی جاسکتی ہے تاہم دیکھتے ہیں کہ حکومت نوجوانوں کو درپیش اس اہم مسئلے سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے ۔

2,318 total views, no views today



