سوات،سوات کے مرکزی شہرمینگورہ میں پیشہ ورگداگروں کی بھر مار،بھیک کی آڑ میں چوریاں اوردیگروارداتیں کرنے لگے،شہربھرمیں غیرمقامی پیشہ وربھکارنیں بھی منڈلانے لگیں،محکمہ سوشل ویلفیئرنے ان گداگروں کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا
،عوام میں تشویش کی لہر دوڑگئی،حکومت اورانتظامیہ سے ایکشن لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق سوات کے مرکزی شہر مینگورہ اورگردونواح میں غیرمقامی خانہ بدوش اورپیشہ ورگداگروں نے ڈھیرے جمارکھے ہیں جن میں زیادہ تر تعدادبرقعہ پوش خواتین کی ہے ،یہ خواتین گھروں میں گھس کر بھیک کی آڑ میں چوریاں کرتی ہیں ان بھکارنوں کے مردگھروں اورخیموں میں بیٹھ کر تاش کھیلتے اورچرس پیتے میں جبکہ ان کی خواتین بازاروں،مارکیٹوں،گلی کوچوں اورگھروں میں بھیک مانگتی اورچوریاں سمیت دیگر وارداتیں کرتی ہیںیہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے مگر تاحال کسی نے بھی ان لوگوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی، ذمہ داروں کی اس لاپرواہی کانتیجہ ہے کہ یہ پیشہ وربھکارنیں بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ چوریوں کی وارداتوں میں مصروف عمل ہیں اوریہاں تک کہ ایک ایک محلے میں چور ی کی کئی کئی وارداتیں کررہی ہیں،اس سلسلے میں پولیس سے رابطہ کیا گیا تووہاں سے جواب ملا کہ پولیس ان لوگوں کے خلاف اس وقت کارروائی کرتی ہے جب ان کے رنگے ہاتھوں پکڑ جانے کی اطلاع مل جائے اوریہ کہ ان پیشہ ورگداگروں کے خلاف کارروائی کا کام محکمہ سوشل ویلفیئرکا ہے، دوسری جانب اس سلسلے میں جب محکمہ سوشل ویلفیئرسے فون پر رابطہ کیا گیاتو وہاں سے جواب ملاکہ ان کے پاس پیشہ ورگداگروں کو رکھنے کیلئے جگہ اورفوڈ کا انتظام موجود نہیں اس لئے وہ ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے ،ادھر عوامی حلقوں نے اس امر پر افسوس کا اظہارکیاہے کہ یہاں پر کوئی بھی ادارہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیارنہیں جس کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل سراٹھارہے ہیں،عوام کا کہناہے کہ متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں صوبہ بھرمیں پیشہ ورگداگروں کے خلاف ایک منصونہ بندی کے تحت وقتاََ فوقتاََ کارروائی کی جاتی تھی جس کی وجہ سے معاشرہ پیشہ ورگداگروں سے پاک ہواتھا مگر ایم ایم اے کے بعدکسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی جس کے باعث آج ہرگلی کوچے اوربازارمیں یہ گداگرمنڈلاتے نظرآرہے ہیں جو راہگیروں سے بھیک کے نام پرغنڈہ ٹیکس اورجگاٹیکس وصول کرنے کے ساتھ ساتھ چوریاں بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی لاحق ہے،ان حلقوں نے صوبائی حکومت اورضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مینگورہ شہر اورگردونواح میں موجود پیشہ خواتین اورمردبھکاریوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں ضلع بدرکریں تاکہ عوام کی پریشانی کا خاتمہ ہوسکے۔
471 total views, no views today


