بچوں کی بہترین تربیت بارے سنجیدگی سے غور کرنا والدین کا اہم فریضہ ہے۔ ہوسکتا ہے اس مضمون کا عنوان دیکھتے ہی کچھ لوگ اسے نظر انداز بھی کردیں، مگر فی زمانہ اولاد کی درست طریقے سے تربیت کرنا ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ وقت کی نزاکت اور اس کے تقاضوں کے پیش نظر ان کی نگرانی ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ اسی مشکل کام کے حل کرنے، نے ہمیں قلم اُٹھانے پہ مجبور کیا ہے کہ شاید کسی حد تک تو کامیابی حاصل ہوسکے۔
تربیت کے حوالے سے جو ذمہ داریاں والدین پہ عاید ہوتی ہیں۔ اُن سے ہر گز رو گردانی یا انحراف نہیں برتا جاسکتا۔ تربیت کا تذکرہ جہاں کہیں بھی ہوگا۔ وہاں والدین کا ذکر بھی ضروری سمجھا جائے گا۔ ’’تربیت اطفال‘‘ میں والدین کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ بچوں میں پائی جانے والی خوبیوں اور خامیوں کو عموماً والدین کی تربیت سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ ماحول بچوں کی شخصیت پہ اثر انداز ہوتا ہے۔
بچوں کی پیدائش پہ خوش ہونا انسانی فطرت میں شامل ہے اور خوش ہونا بھی چاہیے۔ ہر شخص کو اپنی اولاد سے گہرا لگاؤ ہوتا ہے اور ان مول محبت ہوتی ہے، مگر والدین پہ اس گہری محبت اور لگاؤ کے اظہار کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں، جن کی ادائیگی از حد ضروری ہے۔ کچھ والدین تربیت کی نزاکتوں سے بے خبر یا لاتعلق ہوکر بچوں کو بے حد محبت دے کر بگاڑ دیتے ہیں۔ پھر اُنھیں سمجھ نہیں آتی کہ اب کیا کیا جائے۔ بچہ من مانی کرنے لگتا ہے، وہ اپنے والدین اور دیگر افراد کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ وہ ہٹ دھرم اور ضدی ہوکر رہ جاتا ہے۔
کچھ والدین اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی لا پروائی اور بے توجہی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں، تاکہ بچوں پہ رُعب طاری رہے۔ اپنے دل کی محبت کو ظاہر نہیں کرتے یا پھر اُن کی مصروفیات ہی کچھ ایسی ہوتی ہیں کہ اُنھیں اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ نتیجتاً وہ اپنے بچوں کے مستقبل سے کھیل جاتے ہیں۔ تربیت کی صورت میں اولاد کا والدین پہ جو حق ہوتا ہے، وہ انھیں نصیب نہیں ہوپاتا، تو اُن میں ادب اور لحاظ نام کی کوئی چیز جنم لے سکتی ہے اور نہ ہی اچھے برے کی تمیز اور یوں وہ محبت اور توجہ سے محروم بچے بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
وہ نا فرمان، ان پڑھ، ضدی اور معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔ تب پھر والدین اپنی نامعقول اور ناکارہ اولاد کے غم میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی قسمت کو رونے لگتے ہیں۔ بچوں کو محبت دینا، شفقت سے پیش آنا اور انھیں بھر پور توجہ دینا والدین کا اہم فریضہ ہے۔ والدین کی طرف سے محبت، شفقت اور توجہ کا ملنا بچوں کا بنیادی حق ہے۔ ان کی تمام تر ضرورتوں کا خیال رکھنا والدین کا فرض ہے۔ مگر توازن کا پہل ہر گز ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، کیوں کہ اولاد ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ محبت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت پہ بھر پور توجہ دی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھریلو ماحول کو بہتر بنائیں۔ مسائل کے حل اور بچوں کی عزت نفس کا انتہائی زیادہ خیال رکھا جائے۔ انھیں عدم تحفظ اور مایوسی کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔ مدرسہ یا کسی بھی تعلیمی ادارے کا بہتر انتخاب بھی اشد ضروری ہے۔ بچے کے لیے سب سے پہلی درس گاہ ماں کی گود کو کہا جاتا ہے اور ماہرین کے اس تجزیے میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ بچے کی شخصیت پہ ماں کی عادات و اطوار کا بہت گہرا چھاپ ہوتا ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے عادات و اطوار کی منتقلی میں انتہائی احتیاط سے کام لے اور بچے میں مثبت عادات و اطوار اور کردار ادا کرنے کا شعور منتقل کرے۔ کیوں کہ بچہ ماں کے بے حد قریب ہوتا ہے۔ ماں اگر متوازن مزاج کی مالک ہوگی، تو بچہ بھی اسی مزاج کی تقلید کرے گا۔ آگے چل کر اس کی شخصیت میں موجود اَن مٹ نقوش لا محالہ ظاہر ہوں گے، بعض اوقات درست تربیت کے باوجود بچہ بڑا ہوکر چند عوامل میں ناکافی محسوس کرتا ہے یا پھر غلط رویوں کو دیکھ کر مشتعل بھی ہوجاتا ہے۔ تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ یہ اچھی تربیت ہی کا اعجاز ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں رونما ہونے والے منفی رویوں کی نفی کرتا ہے۔
بچے کی مثبت تربیت میں والدین، بہن بھائی اور دیگر اہل خانہ کو بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسا کرنا اُن کے فرائض میں شامل ہے۔ گھریلو ماحول ہی بچے کو ذہنی طور پہ معاشرتی قدروں سے روشناس کراتا ہے۔ اس کی ذہنی نشوونما میں گھر کے افراد کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بچے کے اطوار پہ گھر کے دیگر افراد کی عادات کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔
کچھ عادات، میلانات اور رجحانات بچوں کو ورثے میں ملتے ہیں اور کچھ معاشرتی تقاضوں اور ارد گرد کے ماحول سے اخذ ہوجاتے ہیں۔ بچوں کو درست تعلیم و تربیت دینا، اُن کی جائز ضروریات کا خیال رکھنا، انھیں محبت دینا، بے جا لاڈ پیار سے گریز کرنا، مدرسے اور گھر کا ماحول بہترین فراہم کرنا، اُن کی نشست و برخاست، چال چلن اور بات چیت کے طریقے پہ گہری نظر رکھنا وغیرہ وغیرہ یہ تمام عوامل والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ ابتدا ہی سے اپنے بچوں کو معاشرتی نشیب و فراز اور وقت کے اتار چڑھاؤ سے آگاہ رکھیں۔ انھیں ذہنی، جسمانی، اخلاقی اور مذہبی تربیت سے ہم کنار کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ بچوں کی تربیت سے غفلت برتنا اخلاقی جرم ہے۔ انھیں تحفظ کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ہم دردی اور انسانیت سے محبت کا احساس دلانا بھی ضروری ہے۔ بچوں کو ہمت افزائی کے ذریعے بہادر بنانا چاہیے۔ بچوں کو اتنا بھی ڈرا دھمکا کر نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ احساس کم تری کا شکار ہوکر رہ جائیں، اور نہ ہی اتنا اکسانا چاہیے کہ وہ احساس برتری میں مبتلا ہوکر معاشرتی عدم مطابقت کا شکار ہوجائیں۔ بچوں میں اعتماد کا ہونا ضروری ہے۔ اعتماد کے بغیر زندگی بے حد مشکل ہوکر رہ جاتی ہے، مگر اعتماد کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اعتماد کا حد سے بڑھ جانا بد لحاظی میں بدل جاتا ہے اور یہ ایک غیر متواز عادت ہوتی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب انسان کے بچے کو شیر بنانے کی کوشش کی جائے، تو وہ ایک نہ ایک دن درندگی پہ ضرور اُتر آئے گا۔ بچوں کو احساس برتری، احساس کم تری، مایوسی، بد گمانی، نفرت، اضطراب اور عدم تحفظ جیسے احساسات سے دور رکھا جائے۔ خصوصاً ماں کو مثبت سوچ رکھنی چاہیے تاکہ بچہ متوازن طرزِ زندگی سے آشنا ہوسکے اور وہ ایک کام یاب زندگی گزارنے کے قابل ہوسکے۔ اُسے معاشرتی مطابقت حاصل ہوسکے۔ اس کے لیے والدین کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانی پڑے گی۔
بچوں میں انسانی ہم دردی، مساوات، ایمان داری اور صبر و رضا جیسے پاکیزہ جذبات کو اُجاگر کرنا چاہیے اور یہ کوشش والدین کا اہم فریضہ ہے۔ بچوں کی طرف سے کیے گئے سوالات پہ غور کرکے انھیں تسلی بخش جوابات دینا، تربیت کا اہم ترین حصہ ہے۔ سوالات علم میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ بچے فطری تقاضوں کے مطابق سوالات کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان میں تجسس کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ لاشعوری طور پہ اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ تجسس کے اس فطری تقاضے کو تسکین پہنچانے اور ذہانت کی پرکھ کرنے کے لیے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں سے آسان اور مفید سوالات پوچھیں۔
لفظ دوست کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اُس سے ہر قسم کی بات کی جاسکتی ہے۔ دوست ایک ہم درد اور ہم راز کی سی حیثیت رکھتا ہے اور اچھا دوست اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر بچے کو اپنے گھر کے اندر ہی ماں اور باپ کی صورت میں دوست مل جائیں، تو اس سے اچھی بات ایک نو آموز بچے کے لیے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ لہٰذا بچوں کو دوست بنا کر رکھنا انھیں اعتماد میں لینا اوراُن کے تمام مسائل کو سنجیدگی اور ہم دردی سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا والدین کے لیے ضروری ہے، مگر اس کے باوجود بچے اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ والدین بچوں کے دوستوں سے بھی واقف ہوں کیوں کہ گھریلو ماحول کے بعد ارد گرد کا ماحول بچوں کی نفسیات پہ اثر انداز ہوتا ہے اور ماحول کی اثر پزیری ہمیشہ ان مٹ نقوش چھوڑتی ہے۔ لہٰذا بچوں کو اردگرد کے ماحول بہتر ملنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کی تربیت کا یہ مرحلہ مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے لیکن والدین کا فرض ہے کہ وہ اس مرحلے میں بھی بچوں کو تنہا اور بے لگام ہر گز نہ چھوڑیں۔ بچوں کو ذہنی اور شعوری تربیت دینے کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور تفریح کے عمل میں ساتھ دینا ضروری ہے۔ کیوں کہ کھیل کود بھی فطری تقاضے ہیں اور فطرت کو دبانا ایک غیر فطری بات ہے۔ بچے کھیل کے ذریعے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ان میں اعتماد بڑھتا ہے۔ قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ زائد توانائی مثبت طریقے سے استعمال ہوجاتی ہے۔ صحت بر قرار رہتی ہے۔ جسمانی تحریک کے بڑھنے سے ذہنی استعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔
بچوں کو تخریبی سرگرمیوں سے بچانا چاہیے۔ انھیں تعمیری سرگرمیوں میں مصروفِ کار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی کام یا مشغلے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں ہمہ وقت پابندی سے مصروف کار رہا جائے۔
بچوں کو بھٹکنے سے پہلے درست راستے پہ گام زن کردینا چاہیے۔ تاکہ پریشانی کا سامنا بچوں اور والدین دونوں کو نہ کرنا پڑے۔ والدین کی ذرا سی غفلت اورکوتاہی بچے کو بے راہ روی، ناکامی اور والدین کو شرمندگی سے ہم کنار کرسکتی ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
888 total views, no views today


