اللہ تعالیٰ نے کائنات کو جس طرح مختلف انواع و اقسام کی زندگی پر مشتمل پیدا کیا ہے، اس میں مختلف قسم کے جانور، نباتات اور پرندے بھی پیداکیے ہیں جس سے نہ صرف ماحول مزید حسین ہو گیا بلکہ یہ جانور اور نباتات انسان کی بقا اور اس ماحول اور انسانی زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم وائلڈ لائف یعنی قدرتی زندگی کی تعریف کچھ یوں بھی کر سکتے ہیں کہ وہ تمام قدرتی جانور اور پودے جو قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں وائلڈ لائف کہلاتے ہیں۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے یہ جانور اور پودے اس کائنات کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ کسی ملک کو خوب صورت بنانے کے علاوہ اقتصادی اعتبارسے بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ دنیا کے کئی خوش قسمت ممالک میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے جو اس قسم کے جانوروں اور پودوں کی آماج گاہ ہے جس سے دنیا کے بہت امیر ترین ممالک محروم ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہم یا تو بہت نالائق ہیں یا انتہائی بدنصیب کہ ہم اس ان مول تحفہ خداوندی کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔ خیر ہمارا موضوع یہ نہیں بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق ماحولیاتی نظام اور ان میں رونما ہونے والی تبدیلی کے بارے میں کچھ نہ کچھ جاننا سے متعلق ہے ۔
ہمارا ملک جغرافیائی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں پر مختلف قسم کے جنگلات پائے جاتے ہیں جس میں زیادہ تر صوبہ خیبرپختون خوا کے بالائی علاقوں میں موجود ہیں۔ یہ جنگلات جس طرح قیمتی درختوں پر مشتمل ہیں اس طرح ان میں بے شمار ایسے نایاب جانور پائے جاتے ہیں جو ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں کے اقتصادی حالات بہتر کرنے کے علاوہ اس ملک کی شہرت کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ یہ تمام چیزیں فضول اور بے کار نہیں بلکہ ہماری زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ کیوں کہ کائنات کا نظام آپس میں جڑ کر بنایاگیا ہے۔ اس میں تمام چیزیں ایک زنجیر کی کڑی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح زنجیر کی ایک کڑی ٹوٹنے سے پوری زنجیر بے کار ہو جاتی ہے، ٹھیک اسی طرح کائنات میں موجود ایک ذی روح کڑی ختم ہونے سے تمام جان داروں کے ساتھ انسان بھی مشکلات کا شکار بن سکتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ ایک پودے کی نوع سے پندرہ سے پچیس جانور جس میں حشرات اور انسان بھی شامل ہیں، کا انحصار ہوتا ہے۔ اس نوع کے ختم ہونے سے ان جان داروں کی زندگی بھی خطرہ کی طرف چلی جاتی ہے مگر ہمارے غیر فطری اعمال کی وجہ سے قدرتی زندگی کے معدوم کرنے کا کھیل پوری دنیا میں جاری ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق دنیا کے پچاس فی صد habitat یعنی ’’رہنے کی جگہ‘‘یا تو ختم ہو چکی ہے یا تبدیلی کر دی گئی ہے۔ Tropical جنگلات سال میں 7.3 ملین ہیکٹر کے حساب سے صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال اس کے 1000 انواع معدوم ہو رہے ہیں۔ اگر ان کی معدوم ہونے کی رفتار اسی طرح جاری رہی تو سالانہ 10,000انواع مٹ جائیں گے۔ اس طرح ہمارے ملک میں بھی پچاس فی صد تمرکے جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔ 1970ء میں یہ جنگلات 2600 کلو میٹر کے رقبہ پر تھے لیکن 1990ء میں یہ 1300کلو میٹر تک سکڑ گئے۔ پاکستان کا بائیو ماس یعنی جان دار 4.6فی صد کے حساب سے کم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آئی یو سی این کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 47 نایاب جان دار پائے جاتے ہیں، جس میں 18 جانور،17 پرندے، 9 رینگنے والے جانور ایک مچھلی اور دو پودے شامل ہیں۔ اب ہمارے یے سب سے بڑا المیہ ان کے بچاؤکے لیے تدابیراختیار کرنا ہے۔ کیوں کہ دنیا کے دوسرے ممالک تو شب و روز وائلڈ لائف کے بچاؤ میں مصروف ہیں لیکن یہاں بدقسمتی سے ہماری ترجیحات ان کے علاوہ کچھ اور ہیں۔
838 total views, no views today


