لاہور: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے غیر قانونی بولنگ ایکشن کے باعث پابندی کا سامنا کرنے والے جادوگر اسپینر سعید اجمل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے بولنگ ایکشن کو درست کرکے آئندہ ورلڈ کپ میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ پابندی ان کے لیے مسئلہ نہیں، آئی سی سی نے مجھے بو لنگ کرنے سے اس لئے روکا ہے کہ بولنگ کے دوران میرا بازو 15 ڈگری سے زیادہ زاویئے بنا رہا تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ میں جلد اسے درست کر لوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کے میڈیکل چیک اپ کا نتیجہ مایوس کن ہے تاہم میں ایک فائٹر ہوں اور جانتا ہوں کہ ورلڈ کپ سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کیسے بناؤں، ایک سوال کے جواب میں سعید اجمل کا کہنا تھا کہ اپنے بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے وہ سابق کھلاڑیوں سے بھی مدد لیں گے کیونکہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے کھیلنا میرا خواب ہے اورمیں اسے پورا کروں گا۔
راشد لطیف نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بولنگ ایکشن پر نئے قوانین کے بعد انہیں اس فیصلے پر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ پہلے بولرز کو میڈیکل کی بنیاد پر شک کا فائدہ دے دیا جاتا تھا تاہم اب ٹیکنالوجی نے اس کام کو شفاف اورآسان کردیا ہے لیکن سعید اجمل ایک فائٹر ہے اور اس کی واپسی جلد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو چاہئے کہ اجمل کے بولنگ ایکشن کو درست کرنے کے لیے سابق عظیم اسپنرز ثقلین مشتاق، عبدالقادر اور مشتاق احمد سے مدد لی جائے۔
شیعب اخترنے تبصرہ کرتے ہوئے سعید اجمل کو مشورہ دیا کہ وہ نہ صرف اپنی پابندی کو بلکہ اس پورے نئے طریقہ کار کو چیلنج کریں اور آئی سی سی کو عدالت لے جائیں اور یہ جنگ انہیں اکیلے ہی لڑنا پڑے گی۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اپیل کے لئے 14 دن کا وقت ہے اور اس حوالے سے ہم اپنی حکمت عملی تیار کررہے ہیں تاہم جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جائے گا جب کہ چیف سلیکٹر معین خان نے کہا کہ امید ہے کہ اجمل جلد اپنے ایکشن کو درست کرلیں گے تاہم بورڈ نے ان کا نعم البدل تلاش کرنا شروع کردیا ہے اورا سکے لیے بیک اپ پلان کے تحت دو تین اچھے اسپینرز کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں طلب کر لیا گیا ہے تاکہ سعید کی واپسی تک ان کا کوئی متبادل تلاش کیا جاسکے۔
726 total views, no views today


