تحریر ؛۔ حمزا یوسفزئی
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور پھر اس انسان کو خود تخلیق کرکے اسے عقل وشعور سے نوازا صرف یہی نہیں بلکہ اسی انسان کو پھر علم کے تحفے سے بھی ہمکنار کیا اوراسی خاصیت کی بدولت انسان کو فرشتوں سے افضل ٹھراکر خود فرشتوں کو جواب دہ ہوا کہ “انسان کو میں نے وہ کچھ سکھایا ہے جو تمہیں نہیں سکھایا” بات یہی ختم نہیں ہو جاتی ،اس کے بعد انسان کو تما م دنیا کے زی الروح اشیاء میں بہترین صحت دے کر اپنے تمام انعامات واحسانات کو انسان کیلئے مکمل کردیئے لیکن بدقسمتی سے ان انسانوں میں اکثر نہ تو اپنے رب کا شکراد اکرتے ہے اور نہ اپنے عقل کا صحیی استعمال کرتے ہے ایسے لوگ دنیا میں زلیل ہوکر رہ جاتے ہے اور ان کے برعکس جو لوگ خشوع وخزو ع سے اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے رب سے کسی چیز کا مطالبہ کرتے ہے تو خدا انہی کو دلا بھی دیتا ہے، انسان اپنے عقل کو بروئے کار لاکر اپنے علم کے زریعے پوری دنیا میں نہ صرف نام کما تا ہے بلکہ اپنے ملک وقوم کی خدمت کرتے ہوئے والدین کا سہارا بن جاتا ہے، یہی انسا ن اپنی کامیابی کی خاطرعلم کے مختلف شعبوں میں جاکر اپنا لوہا بھرپور طریقے سے منوانے کی کوشش کرتا ہے، ایسی ہی ایک شعبے کا عالمی دن گزشتہ ہفتے دنیا بھر میں منایا گیاآئیے علم کی اس شعبے کی بارے میں جانتے ہے۔

قارئین کرام !دنیا بھر میں 25ستمبر کا دن “انٹرنیشنل فارمہ سسٹ ڈے”کے طور پر منایا جاتا ہے، شعبہ صحت کا مطالعہ اگربغور کیا جائے تو بنیادی طور پر اس شعبے کے تین اہم ستون ہے، ان ستون میں سے ایک ہیلتھ ٹیکنیشن ،دوسرا فارمہ سسٹ اور تیسرا ڈاکٹر یعنی معالج ہوتا ہے، درحقیقت یہ تینوں ستون ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہے ایک دوسرے کے بغیر یہ دائرہ ہر گز مکمل نہیں ہوسکتا ، ٹیکنیشن کا کام ہر قسم کے ٹیسٹ وغیرہ کروانا ، اسی طرح ڈاکٹر کا کام بیماری کی تشخیص کرنا اور فارمہ سسٹ وہ لوگ ہے جو نہ صرف بیماریوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے دوائیوں کی صورت میں ہتھیار فراہم کرتے ہے بلکہ ان ہتھیاروں یعنی ادویات کو درست بیماری کی خلاف درست وقت پر درست مقدار میں درست طریقے سے استعمال کے بارے میں بہتر آگاہی رکھنے کی وجہ سے بقائے انسانیت کیلئے معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کرتے ہیں ۔

قارئین کرام !فارمیسی یعنی ادویات سازی کا مشغلہ بہت ہی قدیم ہے ، ایک آرٹیکل کے مطابق اس کی ابتدا ء قدیم یونانیوں نے کی تھی لیکن مسلمانو ں کی دور میں اسکی بہت ترقی ملی، سن 707ء میں خلیفہ ولید ابن عبدالمالک نے پہلی مرتبہ دمشق میں قائم ایک ہسپتال میں فزیشن کیساتھ ساتھ فارمہ سسٹ کی تعیناتی کو لازم قرار دیا،تاہم بعد میں یہ سلسلہ بغداد سے ہوتے ہوئے مصر ، چین اور یورپ تک جا پہنچا ،فارمہ سسٹ کے کردار سے جب صحت عامہ پر مثبت اثر ات مرتب ہوئے تو پہلی مرتبہ 1683میں “فرینکلن “نے سرکاری بنجا میں سرکاری طور پر” پنسلونیا” ہسپتال میں نہ صرف فارمہ سسٹ کی سرکاری سطح پر تعیناتی کے احکامات جاری کئے بلکہ فزیشن کی ادویات بنانے پر پابندی بھی لگائی، برصغیر میں فارمیسی کی ابتدا ء1863میں اس وقت ہوئی جب گجرات میں ایک شخص نے فارمیسی کھولی،1948میں تقسیم ہند کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی ابتدا ہوئی،دو سالہ ڈیپلومہ کی توسیع 1978-79میں چار سال کی ڈگری تک جاپہنچی ، جبکہ سال 2003میں اس ڈگری کو بین الاقوامی سطح پر شعبہ صحت میں اہمیت کی باعث پانچ سال کردی گئی ، فارمیسی ڈگری ہولڈر کو فارمہ سسٹ یا ڈاکٹر آف فارمیسی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

25ستمبر کے دن یعنی “انٹرنیشنل فارمہ سسٹ ڈے”گزشتہ ہفتے دینا بھر میں منایا گیا ، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں فارمہ سسٹ کمیونٹی نے یہ دن خصوصی طور پر منایا ، ملاکنڈ یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں بھی اسی دن کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ، اسی ہی شعبے سے ہونے کی باعث میں بھی پروگرام میں شریک تھا، پروگرام میں میرے ساتھ میرے نہایت ہی اچھے دوست وقاص نے بھی شرکت کی ، 25ستمبر کی نسبت سے ڈیپارٹمنٹ میں Poster Presentationکا مقابلہ رکھا کیا گیا تھا جس میں ڈیپارٹمنٹ کے پانچ کلاسز ز کے درمیان بہترین Presentationکا مقابلہ ہوناتھاجس کیلئے ججز پینل جس میں ڈاکٹر جمیل انور ، ڈاکٹر ودود علی شاہ اور ڈیپارٹمنٹ کے چیرمئین ڈاکٹر مناسب خان نے بطور ججز اپنے فرائض سرا نجام دیئے، مقابلے میں مختلف موضوعات پر کل آٹھ Presentationمقابلے کیلئے تیار تھے، پروگرام میں وائس چانسلر ملاکنڈ یونیورسٹی ڈاکٹر گل زمان بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی ، انہوں نے ججز کے ہمراہ تمام پوسٹرز کا دورہ کیا اور طلبہ سے دلچسپ سوالات کئی ،وائس چانسلرنے تھرڈ پروفیشنل کے طلبہ وطالبات کے بنائے گئے Presentation پوسٹر کے قریب 25ستمبر کے مناسبت سے تیار شدہ کیک بھی کاٹ لیااور انہی طلبہ سے کافی سارے سوالات بھی کئی، مقابلے میں میرے گروپ یعنی شاہد علی خان، محسن فواد، عاصم علی خان، شاہ فیصل اور مسعود کی بنائی گئی Posterجس کا موضوع Correst Drugs Prescribtion in Pragnancyتھا ، موضوع نہایت ہی بہترین تھی کیونکہ ٹاپک کا انتخاب ہم نے اپنے معزز استاد محترم اور پاکستان بھر میں Posterمیں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ڈاکٹر آیاز صاحب سے مشاورت کے بعد کیا تھا لیکن ججز پینلز کی ہم پر “نظر کرم”ہوئی نہیں مقابلے کی ٹاپ تھری میں توہم نہیں آئے لیکن بحر حال شرکت سے بہت کچھ سیکھا، مقابلے میں تیسری پوزیشن میرے ہی کلاس کے ڈاکٹر ثناء اللہ کی ٹیم کی آئی جن کی موضوع کا انتخاب بقول ایک دوست میرے ہم جماعت فرح نازاور صاحبہ کی مشاورت سے ہوئی تھی، دوسری پوزیشن فائینل ائیر کی زاکراللہ اور انہی کی کلاس میٹ عروسہ یوسف کی ٹیم کی آئی اور پہلی پوزیشن تھرڈائیرکی ڈاکٹر عابدہ اور ساتھیوں کی گروپ نے حاصل کی۔

وائس چانسلر ملاکنڈ یونیوسٹی ڈاکٹر گل زمان نے اس موقع پر روزنامہ چاند کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آج سے 25سال قبل ترکی کے دارالحکومت استنبول میں ہونے والے ایک کانفرنس کے دوران اس دن کو عالمی دن کے حیثیت سے منانے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھرمیں ادویات کی صحئی استعمال کے رجحان کو بڑھانا ہے، اس موقع پر ڈاکٹر مقصود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ Third World countriesمیں فارمہ سسٹ کے کردارکے نہ ہونے کی باعث بیماریاں آئے روز وبائی حیثیت اختیار کرلیتی ہے،انہوں نے کے پی گورنمٹ سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کی طرح یہاں کے ہسپتالوں میں بھی فارمہ سسٹ کو تعینات کروادیا جائے۔اس موقع پر طالبہ حسینہ رفیع کا کہنا تھا کہ آج کا دن پورے دنیاکوادویات کے مثبت استعمال ، ادویات کی حفاظت کے طریقوں اور معاشرے کو فارمہ سسٹ کے رول سے آگاہی کا دن ہے، یونیورسٹی ہی کی سونی عامر کا کہنا تھا کہ مارمہ سسٹ کا کام ادویات کو نہ صرف بنانا نہیں بلکہ مریض کو اسکی صحیی استعمال کے بارے میں آگاہی بھی دلانا ہے، اپنی کلاس کے گولڈمیڈلسٹ محسن فواد کا کہنا تھا کہ فارمہ سسٹ کا کام مریض اور فزیشن کے درمیان ایک پل کا ہے جو کہ بہت اہم ہے،پروگرام کی اختتام پر یونیورسٹی بھر میں شعبہ فارمیسی کے طلبہ وطالبات اور اساتزہ نے یونیورسٹی بھر میں آگاہی واک بھی کیا۔

قارئین کرام!آج کے اس دورمیں ادویات تقریباہر شخص کی ضرورت بن چکی ہے اور فارمہ سسٹ کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کیلئے حکومت کو بڑے اقدامات اٹھانے ہونگے، اگر ترقیافتہ ممالک کی بات کی جائے تو وہاں کی ہسپتالوں میں ہر پچاس مریضوں کیلئے ایک فارمہ سسٹ کا ہونا لازمی ہے اور یہ حکم بین الاقوامی قوانین کی مطابق ہے لیکن اگر یہاں ہماری حکومت اور ملک کی بات کی جائے تو صرف صو بہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ صوبائی حکومت نے فارمہ سسٹ کیلئے صوبہ بھر کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں عالمی قوانین کو مدنظر رکھکر 119 فارمہ سسٹ کے بھرتی ہونے کی غرض سے درخواستیں وصول کرکے لاکھوں روپے بھٹورے لیکن بعد میں ان پوسٹوں میں سے 88میڈیکل ٹیچکنگ انسٹیوٹ کیلئے اور باقی 31پوسٹس کو پبلک سروس کمیشن نے اپنے پاس رکھے،حکومت کیساتھ ساتھ پاکستان فارمہ سسٹ ایسوسی ایشن کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ حکومت کو اپنے مطالبات سامنے رکھکر ٹھوس اقدامات اٹھائے لیکن پی پی اے بھی صرف نام ہی کا رہ گیا ہے،اس مد میں حکومت اور ایسوسی ایشن کو بڑے اقدامات اٹھانے ہونگے ، کام اور عمل درآمد ہو یا نہ ہو لیکن حکومت نے تو پچاس بیڈز ہسپتال کیلئے ایک ایک فارمہ سسٹ لینے کا اعلان کیا ہے مگر یہ ہر ڈسٹرک ہسپتال اوربی ایچ یو کی سطح پر ہونے چاہیے تاکہ نہ صرف مریضوں کی جان بچائی جا سکے بلکہ ساتھ ہی ساتھ نئے ادویات کو مارکیٹ میں لاکر ہر قسم کی بیماری کی علاض کو ممکن بنایا جاسکے۔
swatchildhumza@gmail.com

2,612 total views, no views today



