اصل میں ملک عظیم مسائل کی دلدل میں ایسا جھکڑا ہوا ہے کہ اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس لیے ہر ایک مسئلے پر جداجدا بحث کرنا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں۔ لہٰذا کبھی کبھی دو تین مسائل کو سمیٹ کر انھیں متفرقات کے موضوع سے شائع کرنے کے سوا چارا نہیں ہوتا۔ ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ وطن عزیز کے ہر کونے و ہر چپے سے آوازیں آتی ہیں کہ ہمیں بھی اپنے قلم کے ذریعے عوام الناس تک پہنچایا جائے۔ اس جذبے کے تحت ہم دو تین مسئلے زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔
ایک دن صبح سویرے اخبار اٹھا کر دیکھا، تو ایک تصویر پر نظر پڑی کہ اسلام آباد دھرنے میں ایک بچہ سگریٹ پینے میں مصروف ہے جب کہ دوسری تصویر میں تین بچے زمین پر نقشے کھینچ رہے ہیں یا کسی کھیل میں مصروف ہیں۔ تصویر کے نیچے جلی حروف میں درج تھا:’’آزادی مارچ کے شرکاء کھیلنے اور سگریٹ پینے میں مصروف ہیں۔‘‘
یقین کریں یہ تصویر دیکھ کر میں نے تو اخبار میز ہی پر واپس رکھ دی اور سوچ میں مبتلا ہوگیا کہ یہ بھی کسی کے بچے ہوں گے۔ ان کے بھی بے حس والدین ہوں گے۔ اس لیے کہ یہ وقت یعنی ستمبر کی صبح کے نو بجے اسکول کا وقت ہوتا ہے۔ پڑھنے کا وقت ہوتا ہے جب کہ یہاں پڑھنے اور اسکول جانے کے اوقات میں بچے اسکول و مدرسہ کی فکر سے آزادہیں جب کہ دوسری طرف ان کی سرگرمی بھی کچھ صحت مند نہیں ہے۔ بہ ہر کیف’’کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا، تو پڑتا ہے۔‘‘لہٰذا تبدیلی لانے کے لیے کم سن بچوں کی قربانی، ان کے مستقبل سے کھلواڑ اور انھیں قلم کے بجائے سگریٹ ہاتھ میں تھمانے جیسے نقصان کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گانا۔
ان بچوں کے والدین کو ہم داد دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان بچوں کی تربیت آپ بہ طرز احسن کررہے ہیں۔ ’’ویری گڈ اینڈ کیپ اِٹ اَپ۔‘‘
ہمارے محلے میں یہی کوئی تین سو سے زائد گھرانے رہائش پذیر ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کے لیے صرف ایک ہی ٹرانس فارمر ہے، جسے آئے روز نزلہ، زکام اوربخار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے طبع نازک کے پیش نظر محلے کے چھوٹے بڑے سب مل کر اس کی نہ صرف تیمارداری کرتے ہیں بلکہ ہفتہ وار اسے ’’طبیب‘‘ کے پاس بھی لے جایا کرتے ہیں۔ طبیب کے ہاں دوتین دن گزار کر اور ’’روبہ صحت‘‘ ہوکر اسے واپس لانے کی ذمے داری بھی ہمارے بے چارے محلہ والوں ہی کی ہے۔ یہ بہ طور خاص یاد رہے کہ ہفتہ میں ایک بار ہمارا مذکورہ بوڑھا ٹرانس فارمر حالت نزع میں ضرور جایا کرتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ذکر شدہ عمل نہ صرف پورے رمضان المبارک میں دہرایا گیا بلکہ پاکستان کی ’’آزادی‘‘ کے مقدس مہینہ میں بھی اہل محلہ اسی عمل سے گزرتے رہے۔ اب بہ فضل خدا (پتا نہیں کس کی دعا قبول ہوئی ہے کہ) ستمبر کی یکم تاریخ کو ایک نیا ٹرانس فارمر پہنچایا گیا ہے لیکن وہ حضرت بھی سو کے وی کی طاقت ہی رکھتا ہے، لہٰذا اب پھر سے اسے اللہ کا نام لے کرلگایا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ صاحب تین سو سے زیادہ گھرانوں کا بوجھ کتنی دیر تک اٹھاتا ہے۔ ویسے اگر سو کی جگہ دو سو کے وی مہیا کیا جاتا، تو شاید بات بن جاتی۔
’’پل مرحوم‘‘جسے کسی زمانے میں ایوب برج کے نام سے جانا جاتا تھا اورکسی زمانے میں اس پر آمد و رفت کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ اب ہم اس کی شکل و صورت یکسر بھول گئے ہیں بلکہ اس کی جائے پیدائش تک کو بھول گئے ہیں۔ گرچہ اس کی جگہ ایک نئے پل کی تعمیر ہورہی ہے، مگر تعمیر کا دورانیہ اتنا طویل ہوگیا ہے کہ اس نے پلوں کی تعمیر کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ مگر ’’پل مرحوم‘‘ کی جگہ نئے پل کی تعمیر ہے کہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس حوالے سے ایک دن ہم خود زیر تعمیر پل کے حالت دیکھنے کی خاطر اس کے اوپر چڑھ گئے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ مزید کتنا عرصہ درکار ہوگا اس پر آمد و رفت جاری ہونے کے لیے۔ وہاں پر موجود کاریگر سے بات چیت ہوئی، تو ان صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ جناب، ہمیں حکم ملا ہے کہ’’ آرام سے، آہستہ آہستہ کام کیا کریں۔ اگر اسے جلد بنانے کا حکم ملتا، تو چھے ماہ کے مختصر عرصہ میں آپ کو مکمل سہولیات سے لیس پل کب کا مل چکا ہوتا۔ کیا کریں، ہمیں حکم ہی ایسا ملا ہے کہ کام انتہائی سست ہو نا چاہیے کہ وقت گزاری کے ساتھ ساتھ گھر کا چولہا بھی ٹھنڈا نہ پڑے۔‘‘
یہ بھی بتاتا چلوں کہ سیلاب کی نذر ہونے والے سوات کے تقریباً تمام پل بنائے جا چکے ہیں اور ان پر معمولات زندگی رواں دواں بھی ہیں۔ تقریباً تمام اپنے سالگرے بھی مناچکے ہیں۔ عوام و خواص اس سے مستفید بھی ہو رہے ہیں اور ایک یہ پل ہے جسے قصداً نہ بنانے کے لیے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ عوام الناس اس صدی میں ضرور ایک نیا پل دیکھ پائیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ اسے دیکھنے کے لیے کون کون باقی رہتا ہے۔
794 total views, no views today


