وات، جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے محدود لوگوں کے ذریعے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے ، ملک اقتصادی اور معاشی طور پر بربادی کے دہانے پر لا کھڑا ہو چکا ہے ، اسلامی تہذیب اور تمدن کیخلاف بین الاقوامی سازش کے ذریعے عمران خان کو استعمال کیا جا رہا ہے ، صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ،ادارے ٹپ ہو کر رہ گئے ہیں ، جمعیت علماء اسلام کے کارکن تیار رہے اگر مرکزی جماعت نے حکم دیا تو انشاء اللہ اسلام آباد کو چند ہزار لوگوں کے چنگل سے آزاد کرائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام امانکوٹ کے دفتر میں کارکنوں کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس سے قبل مولانا راحت حسین ، ضلع سوات کے امیر قاری محمود ، جنرل سیکرٹری حاجی اسحاق زاہد ، سابق اُمیدوار پی کے 86 علی شاہ خان ایڈوکیٹ ، سابق اُمیدوار پی کے 81 سید حبیب علی شاہ ، قاری شمس الرحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا کہ مسلمانوں اور پاکستان کیخلاف بین الاقوامی سطح پر سازشیں ہو رہی ہے ، عمران غیروں کے اشاروں پر چلتے ہوئے وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ، دھرنے کے باعث روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ، جبکہ ملک اقتصادی اور معاشی طور پر بربادی کی دہانے پر لا کھڑا ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب اور روایات کیخلاف عمران استعمال ہو رہا ہے اگر ہماری مرکزی قیادت نے حکم دیا تو لاکھوں کارکن اسلام آباد پہنچ کر پی ٹی آئی دھرنا ختم کروائینگے انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں جس کی جو مرضی کر رہا ہے ، وزیراعلیٰ موصوف اسلام آباد کنیٹر میں بیٹھ کر صوبے کو وہاں سے چلا رہے ہیں ، پی ٹی آئی سے لوگ متنفر ہو چکے ہیں اور گزشتہ الیکشن میں عوام اپنی غلطی پر پشیمان ہیں ۔ انشاء اللہ آنے والا دور جمعیت علماء اسلام کا ہو گا اور اس مقصد کیلئے کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جے یو آئی کا پیغام گھر گھر پہنچا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جے یو آئی میں شرکت کی دعوت دیں ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا ور پورے ملک کے اسلام پسند عوام جے یو آئی کے جھنڈے تلے متحد ہو جائیں تاکہ باطل اور دین اسلام کے خلاف سازشی عناصر سے نمٹا جا سکے ۔
906 total views, no views today


