محکمہ معدنیات دیرپائین نے دریائے پنجکوڑہ کے کناروں پر خال سے لے کر چکدرہ باڈوان تک سترہ مقامات پر ریت اوربجری کی خرید وفروخت کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے اسے سرکاری تحویل میں لینے کافیصلہ کیا ہے۔ سترہ ستمبرکو ٹینڈر بھی طلب کیے جا چکے ہیں۔
اس عمل کے فوراً بعد مالکان اراضیات نے مذکوررہ فیصلہ کے خلاف ایک طوفان کھڑا کرتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی عوام دشمنی اورٹیکس فری زون کے اند رمستقل ٹیکس کے نفاذ کی ساز ش قرار دیا ہے۔ انھوں نے اس کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں آٹھ ستمبرکو مختلف سیاسی اور قومی مشران پر مشتمل دیر قومی جرگہ نے محکمہ معدنیات کے تحت دریائے پنجکوڑہ کے کنارے ریت اوربجری کے ٹینڈرکے اجراء پر صوبائی حکومت کے خلاف مستقل دھرنے کی دھمکی دی ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے راہ نما اور سابق صوبائی وزیر نواب زادہ محمود زیب خان، جماعت اسلامی لوئر دیر کے نائب امیر محمد رسول خان، پاکستان مسلم لیگ ن کے راہ نما ملک فاروق اقبال، پی ٹی آئی کے راہ نما ملک راحت اللہ خان، اے این پی کے راہ نما عبدالحکیم خا ن، ڈاکٹر سردارحمیدخان، ریٹائرڈ پرنسپل خضر حیات خان، ملک محمد شیر خان اور دیگر سیاسی جماعتوں اور قومی مشران پر مشتمل پچاس رکنی جرگہ نے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن کی طرح لوئردیربھی ٹیکس فری زون ہے، جو کہ پس ماندہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپریشن زدہ اور سیلاب زدہ علاقہ بھی ہے۔ 2010ء کے سیلاب میں یہاں کی آباد زمینیں دریا برد ہوگئیں، لیکن حکومت نے ان کی بہ حالی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ موجودہ صوبائی حکومت نے دریائے پنجکوڑہ کے کنارے ریت اور بجری پر محکمۂ معدنیات کے تحت ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیاہے اور اس سلسلے میں ہونے والے ٹینڈرکے مطابق 17 ستمبر کو نیلامی کی جائے گی، جو کہ موجودہ صوبائی حکومت کا لوئردیرکے عوام کے ساتھ سراسرظلم اورزیادتی ہے۔
انھوں نے دھمکی دے دی کہ اگر مذکورہ ٹینڈر کو کینسل نہ کیاگیا اور ٹیکس کے نفاذ کا اپنا ایجنڈا زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی، توصوبائی حکومت کے خلاف لاکھوں افراد پر مشتمل ایسا مستقل دھرنا دیا جائے گا کہ وہ اسلام آباد کا دھرنا بھول جائیں گے۔ انھوں نے ٹھیکے دارو ں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ اس عمل میں حصہ نہ لیں۔ ورنہ نقصان کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے، جب کہ اس سلسلے میں کسی بھی ناخوش گوار واقعہ کی ذمہ داری صوبائی حکومت، محکمہ معدنیات اورضلعی انتظامیہ لوئردیرپر عائد ہوگی۔
اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر معدنیات لوئر دیر احسان الدین کا مؤقف ہے کہ ریت اور بجری ادنیٰ معدنیات کے زمرے میںآتی ہے اور ایک عام روایت بھی ہے کہ جنگل اور دریاکسی کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ وہ حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں۔چوں کہ اس وقت دریائے پنجکوڑہ کے کنارے ریت بجری کی غیرقانونی خریدوفروخت جاری ہے، جس کے پیش نظراسے حکومتی عمل داری میں لانے کے لیے اسے ایک سال کے لیے لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف صوبائی حکومت کو فائدہ ہوگا بلکہ مالکان اراضیات اورعوام کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
احسان الدین کا مزید کہناتھاکہ محکمہ معدنیات کو اراضی سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اصل مالکان کی ہے، لیکن معدنیات چوں کہ حکومت کی ملکیت ہوتی ہیں۔ اس لیے صوبائی حکومت کے واضح احکامات کی روشنی میں انھیں غیر قانونی طریقۂ کار کے بجائے قانونی اور حکومتی طریقۂ کار کے مطابق نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا، جس میں کم ازکم تین ٹھیکے دارحصہ لے سکیں گے۔ کامیاب بولی دہندہ ٹیکس فری زون کے پیش نظر ٹیکس سے استثنا کا سرٹیفیکیٹ پیش کرکے استثنا حاصل کرسکے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ اس کے بعد جہاں ایک طرف مالکان اراضیات کو اجارہ رائلٹی ملے گا۔ وہاں دوسری طرف اگراس ضمن میں کوئی راستہ یا سڑک زیراستعمال آجائے، تواس کے مالک کو بھی اپنا حصہ بہ قدر جثہ دے دیا جائے گا۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر معدنیات کا کہنا تھا کہ جلد یا بہ دیر اس ضمن میں حکومتی احکامات پر ہر صورت میں عمل در آمد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے پنجکوڑہ کے کنارے ریت بجری کی نیلامی کے لیے اس سے قبل ستائیس جون 2014ء کو بھی ٹینڈرطلب کیا گیا تھا، جس کو عوام کی پرزور مخالفت کی وجہ سے ملتوی کیاگیاتھا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ محکمۂ معدنیات ضلع لوئر دیر کے دفتر کا قیام اگرچہ 2009ء میں عمل میں لایاگیاتھا۔ تاہم اس عرصہ میں مخدوش حالات کے پیش نظر یہاں مذکورہ ادنیٰ معدنیات کی نیلامی پر بروقت عمل در آمد نہ کیا گیا۔ انھوں نے ٹیکس لگانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ اس عمل سے ٹیکس کے باقاعدہ نفاذ سے کوئی تعلق نہیں اور موجودہ عمل ٹیکس نہیں بلکہ منرل کی قیمت ہے، جو خیبرپختون خوا کے دیگراضلاع (بہ شمول اپر دیر) میں وصول کیاجاتاہے۔
ادھر دوسری جانب گیارہ ستمبرکو دیر قومی جرگہ نے صوبائی وزیرِ معدنیات ضیاء اللہ آفریدی سے پشاور میں ملاقات کی اوراُنھیں تمام ترصورت حال سے آگاہ کیا۔ نتیجتاً صوبائی وزیرنے سترہ ستمبرکو ہونے والے ٹینڈرکو ایک بارپھرملتوی کردیاہے، جس سے مالکانان اراضیات میں خوشی کو لہردوڑ گئی ہے، تاہم واقفان حال کا کہناہے کہ بکرے کی ماں کب تک خیرمنائے گی؟ اورجیسے ہی حالات بہترہوجائیں گے، توٹینڈرتیسری بار طلب کیا جائے گا۔ چوں کہ ریت بجری کی خریدوفروخت اس وقت زوروشورسے جاری ہے اور فی ڈائناگاڑی کی قیمت پانچ سو سے لے کر ایک ہزارروپے تک وصول کی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر مالکان اراضیات اپنی آمدن میں دوسرے اورتیسرے شخص کو فریق اورشریک بنانا ہرگزبرداشت نہیں کریں گے، جو ضلعی انتظامیہ اور حکومت کے لیے ایک طرح سے درد سر ثابت ہوتا رہے گا۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت، عوام اور علاقائی مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوش کے ناخن لے اوررائے عامہ ہم وار ہونے تک متنازعہ اقدام سے گریز کرے، جب کہ متعلقہ مالکانان اراضیات بھی ریت بجری کی فی گاڑی کے غیرمتوازی داموں کے بجائے، مناسب دام مقررکریں، تاکہ علاقہ کے عوام بھی ایک حد تک اس معدنی وسیلہ سے مستفید ہوسکیں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,002 total views, no views today


