اطلاع ہے کہ دواسازکمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ کردیا ہے ،ایسی اطلاعات کا ملنا کوئی نئی بات نہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم اس کی خاصی عادی ہوچکی ہے اس لئے اس پرکان نہیں دھرتی شائد اسے بھی یہ قوم تقدیر سمجھ کرخاموش ہے اوریہ بے چاری اورکربھی کیا سکتی ہے خاموشی اوردبے الفاظ میں افسوس کے سوا،آج ادویات مہنگی ہوگئیں ،اس سے قبل بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اوردیگرضروریات زندگی کے نرخ بڑھا دئے گئے حالانکہ یہ چیزیں مہنگی ہونے کی وجہ سے پہلے ہی عوام کی قوت خرید سے باہر تھیں ،ایک طرف اگر حکومت اورکمپنیاں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف کاروباری لوگ بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں یہاں تو سبزیوں کے نرخوں میں بھی روزافزوں اضافہ ہورہا ہے ،بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب عام آدمی کے ساتھ ساتھ صاحب ثروت لوگ بھی پریشانی میں مبتلاہیں۔
مسائل ومصائب کی چکیوں میں پسنے والے عوام مہنگائی کا رونا روتے اوراپنی قسمت پرماتم کرتے نظرآتے ہیں،یہاں جس چیزکی قیمت ایک بار بڑھتی ہے اس میں پھر کبھی بھی کمی دیکھنے کو نہیں ملی ،بات ہورہی تھی ادویات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی تو یہ توہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں تو زندگی لینے والی گولی سستی اورزندگی بچانے والی گولی مہنگی ہے،ایک طرف حکومت عوام کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی کے دعوے کرتی نہیں تھکتی اوردودسری طرف حال یہ ہے کہ غربت کے مارے بیشترمریض بروقت ادویات نہ ملنے کی وجہ سے ایڑھیاں رگڑرگڑ کر موت کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں۔
پچھلے دنوں کسی کام کی غرض سے سنٹرل ہسپتال سیدوشریف کی ایمرجنسی یونٹ جانے کا اتفاق ہوا تو نظرکیجولٹی کے گیٹ پر چسپاں ایک پوسٹر پرپڑی جس پر لکھاتھا کہ کیجولٹی میں دن رات مفت علاج معالجہ کی سہولت میسر ہے جبکہ یہاں آنے یا لائے جانے والے مریض جب تک کیجولٹی میں رہیں گے اس وقت تک انہیں ادویات بمعہ انجکشن مفت دی جائیں گی ،اسی طرح کے اوربھی بہت سے دعوے تحریر تھے ابھی میں گیٹ پرہی موجود تھا کہ اس دوران ہرمریض معائنہ کرانے کے بعدڈاکٹرکی جانب سے تجویز کردہ ادویات کی چھٹی تھامے ہسپتال کے سامنے میڈیکل سٹوروں میں جاکرادویات خریدتااورواپس آجاتاجس سے صرف چند منٹ میں مجھ پر کیجولٹی کے دروازے پر لگے پوسٹر کی حقیقت کھل گئی ،یہ ہیں مفت علاج معالجہ کی سہولت کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی دعوے ،حقیقت یہ ہے کہ عوام کو نہ تو حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی سہولت مل رہی ہے اورنہ ہی دواساز کمپنیوں کی جانب سے کسی قسم کا ریلیف ،ایسے میں ہسپتالوں میں پڑے ہوئے بے یارومددگار غریب ونادارمریضوں کابے وقت کی موت مرنا تو معمول بنے گا ہی ۔
عوام تو ادویات کے نرخوں میں اضافے کا رونا رورہے ہیں جو واقعی قابل افسوس ہے مگر اس سے بھی قابل تشویش بات یہ ہے کہ یہاں پر جعلی،دونمبراورزائدالمعیاد ادویات بھی کھلے عام فروخت ہورہی ہیں جنہیں مریض صحتیابی اورزندگی کی امیدپر دھڑاھڑ استعمال کررہے ہیں جس سے یاتووہ ان کی زندگی کاچراغ گل ہوجاتا ہے اوراگربچ بھی جائے تو انہیں کئی قسم کے خطرناک امراض لاحق ہوجاتے ہیں مگردولت کے پجاری انجام کی پراہ کئے بغیر راتوں رات امیر بننے کی کوشش میں دوسروں کی زندگیوں کو موت کی اتھا ہ گہرائیوں میں دھکیل رہے ہیں ،اس صورتحال کے پیش نظر ہروقت عوام کے سروں موت کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔
موجود ہ حکومت ہو یا سابقہ سب نے عوام کو صحت کے حوالے سے تمام تر سہولیات مفت فراہم کرنے کا نعرہ اپنے منشور کااہم حصہ بنارکھا ہے مگر جب انہیں موقع ملتا ہے وہ رہی سہی سہولیات بھی چھین کرعوام کودردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبورکردیتی ہے،حال ہی میں جن کمپنیوں نے ادویات کے نرخ بڑھا دئے ہیں ان کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت یاان کی تکالیف کامداواکرنا نہیں بلکہ ضرورتمندوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے ،ایسی کمپنیاں عموماََ ڈاکٹروں سے ساز باز کرکے انہیں بڑے بڑے تحائف اوربونس دینے سمیت بیرون ممالک کے دورے بھی کراتی ہیں مگر مقام افسوس یہ ہے کہ بعض ڈاکٹر ایسی کمپنیوں کی چالوں میں آکر اپنے اصل مشن دکھی انسانیت کی خدمت سے ہٹ کرہرمریض کیلئے ان کی تیارکردہ ادویات تجویزکرکے ان کمپنیوں کی پرکشش آفرزسے مستفید ہوتے ہیں اوریہی دواساز کمپنیاں تمام تر بوجھ غریب مریضوں کے کاندھوں پرڈال کر اپناکام جاری رکھتی ہیں مگر نہ تو ان کا ہاتھ روکنے والا ہے اور نہ ہی آج تک کسی نے ان پرہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
عوام کا کیا ہے ؟وہ یا تو ان کی قوت خرید سے باہر مہنگی ادویات بروقت نہ ملنے سے مریں گے یا جعلی اوردونمبرادویات استعمال کرکے مریں گے، حکومتوں کا پہیہ بھی اسی طرح چلتا رہے گا اوردواساز کمپنیاں بھی اسی طرح کام نکالتی رہیں گی مگر اصل مسئلہ یا سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟؟عوام کے حال پر کب کسی کو ترس آئے گا؟؟دواسازکمپنیاں کب نادارلوگوں کے زخموں پرنمک چھڑکنے کی بجائے ان پرمرہم رکھیں گی ؟؟جعلی ادویات کے کاروباری کب راہ راست پرآئیں گے؟؟شائدایسا کبھی نہیں ہوگا مگر عوام پھر بھی مایوس نہیں،ان کے چہروں پر اب بھی امیدکی کرنیں نظر آتی ہیں کہ کبھی نہ کبھی تو حکومت اوردیگرارباب اختیار کو اپنی رعایا کے حال پر ترس آہی جائے گااور وہ خواب خرگوش سے اٹھ کر دولت کے پجاریوں اورموت کے سوداگروں کے خلاف کارروئی عمل میں لائیں گے،بقول شاعر کبھی تو آگ بھڑکے گی کبھی توروشنی ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کی صحیح اورحقیقی معنوں میں ترجمانی کرتے ہوئے مزیدخاموش رہنے کی بجائے تما م دواسازکمپنیوں کو ایک مناسب نرخ کا پابند بنانے سمیت جعلی ادویات کے کاروبارمیں ملوث عناصرکے خلاف اقدامات اٹھائے تاکہ غریب اور ضرورتمندعوام کوبروقت مناسب نرخوں پر معیاری ادویات میسر آسکیں۔
900 total views, no views today


