سوات، مینگورہ میں متحدہ محاذ اساتذہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ہوا سینکڑوں مظاہرین ملاباباسکول میں جمع ہوئے جہاں سے جلوس کی شکل میں مختلف بازاروں سے ہوتے ہوئے سوات پریس کلب کے سامنے پہنچ گئے ،اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ذکریا باچا،زاہد،شوکت علی ،ظاہر شاہ اوردیگر نے کہاکہ صوبائی حکومت نے ریشنلائزیشن پالیسی بنائی ہے جس کے تحت اب ایک استاذکوچالیس طلبہ کی بجائے ساٹھ طلبہ کوپڑھانا پڑے گا جس سے مشکلات پیداہورہی ہیں ،
انہوں نے کہاکہ یہ دراصل تعلیم دشمن ،طلبہ دشمن اوراساتذہ دشمن پالیسی ہے جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ،انہوں نے کہاکہ مذکوہ پالیسی کے تحت متعدداساتذہ کو اپنے قریبی سکولوں سے دوردراز کے سکولوں میں تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ مزید اساتذہ کے تبادلے بھی ہورہے ہیں حرام خورڈائریکٹر نے ذاتی مفادات کیلئے اساتذہ اورصوبائی حکومت کو آپس میں لڑانے کی کوشش کررہے ہیں جس سے اساتذہ مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں مگرانہیں یادرکھنا چاہئے کہ اساتذہ ان کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے،انہوں نے کہاکہ یہ کیسی تبدیلی ہے جس میں معاشرہ کے کمزروترین اور سفید پوش لوگوں کی زندگی اجیر ن بن گئی،پی ٹی آئی نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار سنبھالا اورپہلی فرصت میں اساتذہ کوعتاب کا نشانہ بنایا ،انہوں نے کہاکہ ریشنلائزیشن پالیسی،تعلیمی اداروں میں این جی اوزکی مداخلت اورموجودہ نصاب میں تبدیلیاں کسی بھی صورت منظور نہیں ،انہوں نے کہاکہ جائز مطالبات منظورنہ ہوئے تو سکولوں کو بند کرنے سمیت مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
391 total views, no views today


