راولپنڈی (آن لائن) تحریک لبیک پاکستان کے خلاف حکومتی و انتظامی کریک ڈاؤن کے تحت راولپنڈی پولیس نے رات گئے چھاپہ مار کاروائیوں میں تحریک لبیک کے ضلعی ناظم اعلیٰ مولانا شفیق قادری اورآستانہ عالیہ گلشن آباد شریف کے سجادہ نشین پیر سرکار جی سمیت 40کے قریب سرکردہ افراد اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہےجبکہ گرفتاریوں سے بچنے کے لئے تحریک کی ڈویژنل و ضلعی قیادت کے متعدد رہنما روپوش ہو گئے بیشتر مقامات پر چھاپوں میں پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پولیس نے گرفتاریوں کے اہداف حاصل کرنے کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دےدی ہیں تحریک لبیک کے ضلعی سیکریٹری اطلاعات مولانا عبد الطیف قادری نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے تحریک لبیک کے ضلعی ناظم اعلیٰ مولانا شفیق قادری اورآستانہ عالیہ گلشن آباد شریف کے سجادہ نشین پیر سرکار جی سمیت 40کے قریب سرکردہ افراد اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ان کے گھر پر چھاپے کے علاوہ ضلعی رہنما پیر سید عنائیت الحق شاہ سلطانپوری ،ڈویژنل ناظم اعلیٰ ملک جاوید اعوان ،نائب امیر قاری ابرار رضوی راولپنڈی کے ضلعی امیر حاجی رمضان چشتی، مفتی سعید الرحمان قادری اور پیر قاسم سیفی کے گھروں کے علاوہ دیگر سرکردہ افراد کے گھروں اور ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے لیکن مذکورہ افراد کی عدم موجودگی کے باعث گرفتاریاں عمل میں نہ آ سکیں انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کا مقصد تحریک کی آواز کو دبانا اور آسیہ مسیح کو بیرون ملک بھجوانے کی راہ ہموار کرنا ہے ادھر پولیس ذرائع نے جمعہ کی رات تک 24گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے تاہم گرفتار شدگان کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔
2,110 total views, no views today



