تحریر ؛۔ ریاض احمد
ماہ اکتوبر میں سوات سیاسی اور امن وامان کے سلسلے میں نشیب و فراز کا شکار رہا ۔گذشتہ ہفتے میں ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں تین امن کمیٹی کے ارکان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔اس کے بعد ایک مقامی اخبار کے چیف ایڈیٹر شاہد خان اور اس کے بھائی رحمت علی پر مینگورہ میں بھی گھر کے سامنے فائرنگ ہوئی جس میں وہ بال بال بچ گئے ۔ان واقعات کے بعد تحصیل کبل اور مینگور ہ کے بعض علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے کرفیو نافذکردی ۔جس سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا جبکہ ائی ایس پی ار ضلع سوات کے ترجمان کے مطابق یہ کرفیو نہیں تھا بلکہ چند علاقوں میں سرچ اپریشن تھامگر پھر بھی سوات میں کئی روز تک فضا سوگوار رہا اور ساتھ ساتھ خوف و ہراس کا ماحول تھا ۔امن کمیٹی کے ارکان کے قتل کے بعد سرچ اپریشن شروع ہوا ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکن اور امن کمیٹی کے رکن ظاہر شاہ خان کے قتل پر شدید غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قلیل عرصے میں میرے قریبی ساتھیوں کے ٹارگٹ کا سلسلہ جاری ہے ۔حکومت فوری طور پر میرے ساتھیوں کو تحفظ فراہم کریں اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے کر عبرت کا نشانہ بنایا جائے اور انہیں بے نقاب کر کے عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ سوات میں مذید خوف وہراس کا ماحول ختم ہو جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور انشاء اللہ دہشت گردی کے خلاف ہماری کاوشیں جاری رہی گی ۔پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے آزادی مارچ جو کہ 14اگست سے شروع ہو چکاہے اور تادم تحر یر یہ دھرنا جاری ہے اور خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے حالیہ بیان کے مطابق ایک سال تک دھرنا دینے کا بندوبست کیا گیا ہے ۔۔اس دھرنے میں شرکت کے لئے سوات کے ممبر ان اسمبلی کی طرح عام کارکن دھرنے کی طویل ہونے کی وجہ سے تعداد میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔سوات کے ممبران اسمبلی میں دھرنے کی تیاریوں میں سب سے بہتر کردارپاکستان تحریک انصاف پی کے 86کے ممبرصوبائی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی کی ہے 14اگست کے دن سوات سے جانے والے کارکن اسی حلقہ سے تھا اور اب بھی یہی سلسلہ جاری ہے جبکہ دوسرے نمبر پر خاتون ایم پی اے نادیہ شیر ہے جنہوں نے پارٹی کارکنوں کو یکجا کرکے اسلام آباد دھرنے کے لئے بھیجوائے ۔پارٹی ذرائع کے مطابق کہ 14اگست کو اسلام آباد دھرنے کے لئے سوات سے جانے والی گاڑیوں کی تعداد 127ہے جس میں تقریباً90گاڑیاں پی کے 86کی تھیں جبکہ باقی گاڑیاں تیس تک دو قومی اور پانچ صوبائی ممبران اسمبلی کی تھی جو کہ نہ ہونے کی برابر ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے تمام ممبران اسمبلی کو پابند کیا ہوا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اپنے حلقہ نیابت سے 30کارکنوں کو دھرنے میں شریک کرنے کو یقینی بنائیں جس کی وجہ سے اب سواتی ممبران اسمبلی ہر قیمت پر پارٹی کارکنوں کو اپنے اخراجات پر اسلام آباد دھرنے میں شامل ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ۔دھرنے کے لئے ضلعی تنظیم کا کردار نہ ہونے کا برابر رہا اندورنی اختلافات کی وجہ سے ضلعی تنظیم کا کوئی خاص اجلاس تاحال منعقد نہ ہوسکااور پارٹی کارکنان ضلعی تنظیم اور ممبران اسمبلی سے نالاں ہیں ۔سوات میں دھرنے کی کامیاب کے لئے صرف اور صرف ضلعی تنظیم کے جنرل سیکرٹری سعید خان نے اپنا بھر پور کردار اد ا کیا مگر اکیلے ان کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ تمام انتظامات اکیلے بخوبی سرانجام دیتے ۔اس طرح صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے روشن امکان نظر نہیں آرہے ہیں مگر پھر بھی تمام پارٹیوں کی سرگرمیاں اپنے اپنے عروج پر ہیں ۔ قومی وطن پارٹی نے انٹرا پارٹی الیکشن کردئیے ہیں اور ہر جگہ سیاسی پروگرامات کا انعقاد کرکے عوام میں جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں ۔اس طرح عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کارنر مینٹگز اور شمولیتی تقریبات کررہے ہیں اور ان کی بھر کوشش ہے کہ وہ دوبارہ عوام کے ذہنتوں میں جگہ بنا سکے اور کسی حد تک ان کی یہ کوشش رنگ بھی لا رہی ہے ۔موجودہ صوبائی حکومت کے چودہ ماہ پورے ہونے کو ہیں مگر پی کے 82کے تحصیل بریکوٹ کا اکلوتا ہسپتال جو کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ ایم ایم اے کے دور میں حاصل کرچکاہے مگر ابھی تک اس ہسپتال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی تحصیل بریکوٹ کے ہسپتال میں کروڑوں روپوں کی قیمتی مشینر ی بے کار پڑی ہے جو کہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے زنگ الود ہوجائے گی ۔اس طرح تعلیمی اداروں میں بھی کوئی خاص تبدیلی نظر نہ آتی اب بھی متعدد سکولوں میں اساتذہ ،فرنیچر اور دیگر وسائل کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔سوات کے سیاحت کے فروغ کے لئے اعلانات تو ہو رہے ہیں مگر زمینی حقائق کچھ اور ہیں کیونکہ سوات روڈ پر این ایچ اے کی طرف سے شروع ہونے والے کام کو عوام نے ناقص قرار دیا ہے ۔کوٹہ ،نویکلے اور ابو ہا میں تعمیر ہونے والی روڈ عوام کے لئے زحمت سے کم نہیں ہے کیونکہ اس پر ایک طرف کام کی رفتار انتہائی سست ہے تو دوسری طرف اس کے معیار پر بھی شک کیا جارہا ہے ۔سوات پر واپد ا کی طرف سے غیر اعلانیہ اور ظالما نہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بددستور جاری ہے جس نے صارفین کو کرب میں مبتلا کردیا ہے اور کارباری زندگی کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے مگر اس پر بھی سیاسی پارٹیاں خاموشی اختیار کررہے ہیں جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟
880 total views, no views today


