کالام،وادی سوات کے علاقہ کالام میں ناقص نظام تعلیم کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن،بعد از نماز جمعہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے تاریخی مسجد سے لیکر مین بازار کالام تک ریلی نکالی اور مین بازار چوک پر دھرنا دیا ۔جس میں تمام سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کے طلباء، اسلامی جمعیت طلبہ، کالام ایجوکیشن پروموشن سوسائٹی اور علاقہ مشران سمیت ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ مظاہرین کامطالبہ تھا کہ ہائر سیکنڈری سکول کالام کی 16 خالی اسامیوں سمیت وادی کالام کے تمام سرکاری سکولوں کی خالی اسامیوں کو پر کیا جائے اور سکولوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کیا جائے تاکہ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگنے سے بچ جائے، ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت خالی اسامیوں پر اساتذہ کی تعیناتی نہیں کررہی ،دوسری طرف وادی کالام کے تمام سرکاری سکولز پینے کا صاف پانی، لیٹرین ، پلے گراؤنڈ اور دیگر تمام سہولیات سے محروم ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وادی کالام کے ناقص نظام تعلیم کو درست کیا جائے۔ مظاہرین سے سابقہ ناظم حبیب اللہ ثاقب، ملک غزن خان، ملک شاہ نظراشو، مولانا شاہ جہان کالامی، کالام ایجوکیشن پروموشن سوسائٹی کے صدر حاجی عبدالقیوم اور جنرل سیکرٹری عبدالودود نے خطاب کیا۔ سابقہ ناظم حبیب اللہ ثاقب کا کہناتھا کہ ہمارے بار بار احتجاج پر ای ڈی او کی کارکردگی صرف ایک دورے تک محدود رہی اور اپنے دورے کے دوران انہوں نے مسائل پر کان نہ دھرے اور ہمارے مسائل سنے بغیر رفوچکر ہوگئے۔ملک غزن خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ وادی کالام کے تعلیمی مسائل پر کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی ، سکولوں کے نام پر بھوت بنگلے ہمیں ہر گز منظور نہیں اگر ہمارے سکولوں کی صورت حال ٹھیک نہ کیا جائے تو ہم ان بھوت بنگلوں کو تالے لگائیں گے۔ یاد رہے کہ ہائر سیکنڈری سکول کالام میں پرنسپل اور وائس پرنسپل سمیت 16 آسامیاں خالی ہیں جس میں صرف چار اساتذہ کی تعیناتی ہوئی ہے اور وہ بھی ٹھیک طرح سے اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے ہیں۔اسی طرح دیگر سکولوں میں بھی اساتذہ کی کمی اور سہولیات کا فقدان ہے۔مظاہرین نے محکمہ تعلیم اور حکومت خیبر پختونخوا کو عیدالاضحی تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ہمارے تعلیمی مسائل حل نہ کئے گئے تو لاکھوں مظاہرین کا سمندر وزیر اعلی ہاؤس کا رخ کریں گے۔
898 total views, no views today


